Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امراضِ قلب سے دوچار بچوں کا تحفظ، برطانوی سائیکلٹس کا مملکت میں 550 کلومیٹر کا سفر

ٹیم میں 18 سے 65 برس کی عمر کے افراد شامل ہیں (فوٹو: مونٹادا ایڈ)
برطانیہ کے سائیکلٹس کی ایک ٹیم نے سعودی عرب میں مکہ سے مدینہ تک سفر کی مہم شروع کر دی ہے۔ 550 کلومیٹر طویل اس مہم کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں موجود ان بچوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے جن کو پیدائشی طور پر دل کے مسائل کا سامنا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ پانچواں سال ہے جب سائیکل کلب کے سربراہ شمس العابدین ان 40 سواروں کے ساتھ نکلے ہیں جن کی عمریں 18 سے 65 برس کے درمیان ہیں اور وہ حجاز کے علاقے میں اپنا چیلنج پورا کر رہے ہیں۔
شمس العابدین نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہجرہ رائیڈ‘ پیغمبر اسلام کے اس سفر کی تقلید ہے جو انہوں نے 14 سو برس قبل مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے ہوئے کیا تھا۔
جہاں انہوں نے اسلام کی پہلی شہری ریاست قائم کی۔ اس سفر کے ساتھ ہی ہجری کیلینڈر کا آغاز بھی ہوا تھا۔
ایچ اینڈ کے سائیکل کلب نے 14 برس قبل صرف چھ رائیڈرز کے ساتھ برطانیہ کے مختلف شہروں میں سفر کا آغاز کیا تھا اور اس دوران لندن، مانچسٹر، آکسفورڈ اور برمنگھم کے سفر کیے اور اس کے رائیڈرز کی تعداد 40 تک پہنچی۔
 ٹیم کے افراد نے نومبر میں اس وقت تربیت کا آغاز کیا تھا جب برطانیہ میں درجہ حرارت منجمد میں چل رہا تھا۔ اس تربیت کا مقصد سعودی عرب میں چار روز تک چھ سے سات گھنٹے کے لیے سائیکل چلانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹیم کی مدینہ منورہ آمد بدھ کو متوقع ہے۔
اس کلب کے اراکین برطانیہ اور یورپ کے کچھ حصوں میں ایسے سفر کر چکے ہیں اور مونٹاڈا ایڈ کے لیے فنڈز ریزنگ کی مہم میں لندن سے استنبول تک سفر کیا۔
مونٹادا ایڈ ایک چیئرٹی ادارہ ہے جو ترقی پذیر ممالک میں مختلف منصوبوں پر کام کرتا ہے اور ’ہجرہ رائیڈ‘ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔

شمس العابدین 40 سواروں کے ساتھ سفر پر نکلے ہیں (فوٹو: مونٹادا ایڈ)

یہ سائیکل سواروں کی پہلی ٹیم تھی جس نے حجاز کا راستہ اختیار کیا جس کے بعد دیگر سینکڑوں سائیکل سواروں نے بھی ادھر کا رخ کیا۔
شمس العابدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے پانچ برس کے دوران سعودی عرب کو کافی ’سائیکل دوست‘ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
جہاں سائیکلنگ کی لینز بھی شہر کی ترقی کا حصہ بن گئی ہیں اور ڈرائیورز، مقامی لوگ اور حکام اب سائیکل سواروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
روانہ ہونے والی ٹیم کے حوالے سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کو سخت گرمی، تیز ہواؤں، ریت کے طوفانوں کے علاوہ ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو سڑکوں کے اس سلسلوں پر سفر کرنا پڑے گا جہاں یو ٹرن موجود نہیں ہیں۔
شمس العابدین کا کہنا ہے کہ ٹیم میں ایسے کافی لوگ شامل ہیں جن کا یہ حجاز میں پانچواں سفر ہے، بعض اوبر اور بس ڈرائیور کے علاوہ کاروباری لوگ بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔
انہوں نے اپنے سفر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سامنے سے آنے والی ہوا کسی پہاڑ پر چڑھنے کی طرح محسوس ہوتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے ہم پیلوٹن کے انداز میں سواری کرتے ہیں یعنی آگے سے نیچے کی طرف جھکے ہوتے ہیں۔‘

رائیڈرز میں اوبر اور بس ڈرائیورز کے علاوہ کاروباری افراد بھی شامل ہیں (فوٹو: مونٹادا ایڈ)

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ایک سوار ہوا کے مقابل چلتا ہے اور باقی لوگ اس کے پیچھے قطار بناتے ہیں، جس سے ان کو جھونکوں سے بچاؤ کا موقع ملتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کوئی اور آگے ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جس میں سب کو موقع ملتا ہے۔‘
’ہجرہ رائیڈ‘ شروع ہونے سے اب تک تقریباً 9 لاکھ 23 ہزار پاؤنڈ اکٹھے ہو چکے ہیں جو اس برس 10 ملین پاؤنڈ کے ہدف تک پہنچ جائیں گے۔
ان میں سے کچھ رقم غزہ اور سوڈان کے ہنگامی امدادی پروگراموں کے لیے دی گئی۔
مونٹاڈا ایڈ کا مقصد اپنے فلیگ شپ مںصوبے ’لٹل ہارٹس‘ کے لیے تقریباً ڈھائی لاکھ پاؤنڈ اکٹھا کرنا ہے اور یہ ادارہ اس برس پاکستان اور بنگلہ دیش میں دل کی خرابی کے ساتھ پیدا ہونے والے 150 بچوں کی سرجریز کے لیے فنڈز مہیا کرے گا۔

 

شیئر: