’کوشش ہے ایسا کلام پڑھیں جو ہم بھی پڑھیں اور دنیا بھی‘

صابری سسٹرز قوالی کے افق پر نئے ستارے بن کر ابھریں
جب 22 جون  2016 کو  معروف قوال امجد صابری کا دن دیہاڑے قتل ہوا تو وہ اپنے کیریئر کے عروج پر تھے۔ اس دوپہر ان پر گولیاں چلنے کی خبر پورے پاکستان اور دنیا بھرمیں قوالی کے مداحوں پر ایک بجلی بن کر گری۔
یوں لگتا تھا کہ جیسے قوالی کا باب اب بند ہو گیا ہو۔
لیکن کسے معلوم تھا  کہ محض چند سال بعد انہی کے خاندان سے دو ہونہار لڑکیاں  نئے ستارے بن کر ابھریں گی اور قوالی کے افق پر صابری خاندان کا نام نئے سرے سے دمکا دیں گی۔
   انعمتا اور ثمن صابری رشتے میں امجد صابری کی بھتیجیاں ہیں لیکن فن میں ان کا بھی وہی جوش و جذبہ ہے جو امجد صابری کا تھا۔
انہوں نے ' صابری سسٹرز' کے نام سے  خواتین  صوفی  موسیقی بینڈ تشکیل دیا  ہے اور اپنی آواز اور موسیقی کے منفرد  اندازسے صوفیانہ کلام اور قوالی کی دنیا میں صابری خاندان کا نام زندہ رکھنے کے لیے نئی جہتیں تلاش کر رہی ہیں۔

’ معروف قوال مرحوم امجد صابری ہمارے والد کے  کزن اور سگے تایا کے بیٹے، وہ ہمارے چچا ہیں جب امجد صابری حیات تھے تو ہمیں بہت دعائیں دیتے اور ہماری آواز کو پسند کرتے تھے، ہم دونوں بہنوں  نے اپنے خاندان کا نام آگے لے کر جانے کا بیڑا اٹھایا ہے یہ ہمارے کاندھوں پر ذمہ داری ہے۔‘
’اردو نیوز‘ سے گفت گو کرتے ہوئے ثمن صابری نے بتایا کہ قوالی  کی طرف ان کا سفر سال  2012 میں کراچی میں ایک نعتیہ مقابلے سے شروع ہوا جس میں انہوں نے اوّل انعام حاصل کیا تھا۔ 
پہلے ہم نعتیہ کلام پڑھتے تھے تو سننےوالوں نے مشورہ دیا کہ ’آپ نعت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ  کلام  بھی پڑھیں یوں جب ہم نے کلام پڑھا تو پھر قوالی پڑھنا شروع کردی، ہماری آواز قوالی کے لیے موزوں ثابت ہوئی۔‘
      لگا صابری سسٹرز نے اردو نیوز کو انٹرویو میں بتایا " ہمیں ’صابری سسٹرز‘ کا نام پاکستان ٹیلی ویژن نے دیاہے۔ وہاں ہم نے ایک پرفارمنس پیش کی تو ہمیں’ صابری سسٹرز‘پکارا جانے

صابری سسٹرزپچھلے کئی برسوں سے نعتیہ کلام اور صوفیانہ کلام پیش کرتی آرہی ہیں ،ثمن صابری اورانعمتا صابری کہتی ہیں ’وہ پہلے اپنے فیملی کے بزرگوں اور پھر معروف صوفی فنکار عابدہ پروین سے انتہائی متاثر ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ صوفیانہ کلام پڑھتے وقت وہ دنیا سے بے خبر ہو جاتی ہیں اوران پر روحانی طور پر ایک سرور کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
’ ہم جب ولیوں کے نام لیتے ہیں جیسے جضرت بابا بلھے شاہ، لعل شہباز قلندر،ان ہستیوں کے نام  صرف زبان سے نہیں دل سے لیتے ہیں جب دل سے نام لیتے ہیں تو قدرتی  طور پران سے روحانیت ملتی ہے ۔ ایک عشق ہے ان لوگوں سے عشق ہے تبھی ان کے نام پڑھتے ہیں ،جب ان کا کلام پڑھتے ہیں تو ہم دنیا سے غافل ہوجاتے ہیں۔‘
’ہمارے سرپر ان ولیوں کا ہاتھ ہے ہم بہت احترام سے ان کا نام لیتے ہیں اسی لیے آج اس مقام پر ہیں ‘
بحیثیت  لڑکی محفل میں قوالی پڑھنے سے  پیش آنے والے مسا ئل کے بارے میں انہوں نے کہا  کہ ’ مشکلات کافی آتی ہیں جن کا کلام پڑھتے ہیں، نام لیتے ہیں وہی حفاظت کرتے  ہیں،جن کا ذکر کرتے ہیں ان کا سایہ ساتھ ہے ۔ ’
صابری سسٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوان  تیزی سے قوالی کی جانب آ رہے ہیں۔
‘نوجوان ہمیں سننا چاہتے ہیں، ہمیں  پسند کرتے ہیں اورہماری پوری کوشش ہے کہ  ہم اس کام میں کامیاب ہوجائیں۔’

صابری خاندان کے بڑوں کی عالمگیر شہرت سے اپنا جداگانہ مقام بنانے کے بارے میں انعمتا اور ثمن صابری کہتی ہیں۔
’تاجدار حرم، بھردو جھولی بڑے کلام ہیں۔ ہماری  کوشش ہے کہ ہمارا اپنا ایسا کلام آئے، جو ہماری نہیں دنیا کی زبان سے نکلے۔ کوشش کریں گے، ایسا کلام پڑھیں جو ہم بھی پڑھیں اوردنیا بھی۔‘ 
‘ہمیں ابھی بہت آگے جانا ہے اور بہت محنت کرنی ہے۔ قوالی پڑھنے کی ذمہ داری بہت بڑی ہے جو ہمارے کاندھوں پر ہے۔’
انہوں نے بتایا کہ عید الفطرکے بعد وہ  قوالی کنسرٹس کے لیےپہلی بار امریکا جا رہی ہیں۔
دیگر لڑکیوں کے قوالی پڑھنے کے بارے میں انعمتا صابری کا کہنا ہے کہ انہیں خاندان سے مدد نہیں ملتی۔
‘ بہت سی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی آواز بہت اچھی ہے مگر فیملی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے آگے نہیں آسکتیں۔ ’
‘انھیں سپورٹ کیا جائے ان کو آگے لائیں، ان کا ٹیلنٹ ضائع مت ہونے دیں۔‘

شیئر: