’ آکسیجن کے بغیر 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنا چاہتا ہوں‘

پچھلے تین سالوں میں سرباز خان ان چودہ چوٹیوں میں سے تین سر کر چکے ہیں
سر باز خان دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما ہیں جنہوں نے آرٹیفشل آکسیجن استعمال کیے بغیر 8،516 میٹر کی بلند چوٹی سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
سرباز خان نے منگل کو سلسلہ کوہ ہمالیہ میں واقع ’لوتھ سے‘ پہاڑ کی چوٹی سر کی جو نیپال میں واقع ہے۔ 
ان کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع ضلع ہنزہ سے ہے اور وہ گذشتہ تین سالوں سے کوہ پیمائی کر رہے ہیں۔
سرباز خان نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’لوتھ سے‘ کے بعد وہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے جارہے ہیں، جس کے لیے وہ جمعرات کی شام روانہ ہوں گے۔
نیپال نے رواں سال موسم بہارمیں ماؤنٹ ایورسٹ جانے کے لیے 378 کوہ پیماؤں کو 11 ہزار ڈالر کے عوض پرمٹس جاری کیے ہیں، جن میں سے ایک سرباز خان بھی ہیں۔

ایورسٹ بھی وہ آرٹیفشل آکسیجن استعمال کیے بغیر سر کرنا چاہتے ہیں

 32 سالہ سرباز خان نے اس سے پہلے 2017 میں نانگا پربت اور 2018 میں کے ٹو سر کی تھی۔
’میں دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ بھی آکسیجن استعمال کیے بغیر‘
یہ تمام چودہ چوٹیاں 8،000 میٹر سے زیادہ بلند ہیں اور اس اونچائی سے آگے ’ڈیتھ زون‘ شروع ہو جاتا ہے جہاں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت واقع ہو سکتی ہے۔
پچھلے تین سالوں میں سرباز خان ان چودہ چوٹیوں میں سے تین سر کر چکے ہیں اور اب وہ چوتھی اور بلند ترین چوٹی ’ماؤنٹ ایورسٹ‘ سر کرنے جا رہے ہیں۔
ماؤنٹ ایورسٹ بھی وہ آرٹیفشل آکسیجن استعمال کیے بغیر سر کرنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ ضرورت پڑنے پراستعمال کر بھی سکتا ہوں۔‘

’لوتھ سے‘ کا پرمٹ 1800 ڈالر جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کا 11،000 ڈالر ہے

’میں بچپن میں اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چراغاں کرنے جایا کرتا تھا اور پہاڑوں پر جشن منانے میں علاقے کے لوگوں کی مدد بھی کرتا تھا۔‘  
ہنزہ میں عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر چراغاں کرنے کا رواج ہے۔
’مجھے بچپن سے ہی پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق تھا اور 4،000 میٹر بلند پہاڑ چڑھنا معمول کی بات تھی۔‘
سرباز خان نے یہ شوق اپنی مدد آپ کے تحت پورا کیا ہے۔

جب سرباز خان جاپان اور نیپال سے آئی ہوئی کوہ پیماؤں کی ٹیموں کی  مدد کرنے ان کے ہمراہ گئے تو انہوں نے نانگا پربت اور کے ٹو بطور ماؤنٹین گائیڈ سر کی۔   
اس بار ’لوتھ سے‘ اور ’ماؤنٹ ایورسٹ‘ سر کرنے کے لیے انہوں نے گلگت بلتستان کی وزارت برائے سیاحت سے مالی مدد کی غرض سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہ آیا۔
’لوتھ سے‘ کا پرمٹ 1800 ڈالر جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کا 11،000 ڈالر ہے جو نیپال کی حکومت جاری کرتی ہے۔  
حکومت سے کوئی مدد نہ ملنے کی صورت میں سرباز خان نے سیرینا ایڈوینچرڈپلومیسی ڈیپارٹمنٹ کو ’لوتھ سے‘ اور ’ماؤنٹ ایورسٹ‘ سر کرنے کا مجوزہ پیش کیا جو منظور ہو گیا۔
سرباز خان کی خواہش ہے کہ  وہ ہر سال چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے کوئی ایک سر کریں۔
 

شیئر: