پنجاب یونیورسٹی: انگریز دور کے بعد پہلے سکھ افسر کی تعیناتی

پرشانت سنگھ نے سیاسیات اور ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں
پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی میں تقریباً 70 سال کے بعد ایک سکھ شہری کو اسسٹنٹ رجسٹرار کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ 
پرشانت سنگھ کا تعلق ضلع گھوٹکی سے ہے اور وہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں تعینات ہونے والے پہلے سکھ گزٹڈ افسر ہیں۔ 
’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے پرشانت سنگھ نے اس عہدے پر تعیناتی پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ’وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔‘ 
پرشانت سنگھ نے بتایا کہ سکھ کمیونٹی سے تعلق ہونے کے ناطے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ’وہ اپنے فرائض دیانت داری اور خوش اسلوبی سے ادا کریں کیونکہ انہیں دیکھ کر ہی لوگ ان کی کمیونٹی کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں گے۔‘ 
 
پرشانت سنگھ نے  پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات اور ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں اوراب پنجاب یونیورسٹی کے ہی پاکستان سٹڈی سینٹر سے ایم فل کر رہے ہیں۔ 
اس علاوہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج سے سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں جبکہ مختلف ایلیمنٹری سکولوں میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ 
پرشانت سنگھ کے والد کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے۔ 

 پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد انگریز دور میں سنہ 1882 میں رکھی گئی تھی  

خیال رہے کہ رواں سال ہی پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج میں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کے نام سے منسوب ریسرچ چیئر متعارف کروائی گئی تھی جس کا مقصد سکھوں کے روحانی پیشوا کے امن کے کی پیغام کی ترویج کرنا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور کا شمار جنوبی ایشیا کی قدیم درس گاہوں میں ہوتا ہے۔ اس کا قیام انگریز دور سنہ 1882 میں عمل میں آیا تھا جبکہ برطانوی راج کے دوران یہ قائم ہونے والی چوتھی یونیورسٹی تھی۔ 
سنہ 1947 میں قیام پاکستان سے قبل یونیورسٹی کے انتظامی سٹاف اور تدریسی عملے میں ہندو اور سکھ بھی شامل تھے تاہم یونیورسٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ 70 سال کے دوران کوئی سکھ کسی انتظامی عہدے پر تعینات نہیں رہا تھا۔ 

شیئر: