سکھوں کی افطاری کیونکہ 'محبت ہر مرض کی دوا ہے'

سکھ پشاور میں افطاری کا اہتمام گزشتہ 10 برس سے کر رہے ہیں
پاکستان میں ماہ رمضان کے دوران سڑک کنارے افطاریاں معمول کی بات ہے مگر جمعرات کو ملک کے شمال مغربی شہر پشاور میں کچھ مختلف دیکھنے کو ملا جہاں اقلیتی سکھ برادری نے مسلمانوں کے لیے خصوصی افطار پارٹی کا اہتمام کر رکھا تھا۔
پشاور میں سکھوں کی تعداد لگ بھگ آٹھ ہزار ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان میں افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان میں مہینہ بھر جاری رہنے والی یہ افطار پارٹی مذہبی ہم آہنگی کی ایک انوکھی مثال ہے۔
پشاور میں سکھوں کے رہنما ڈاکٹر جتندر سنگھ نے جمعرات کو افطار سے قبل عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'دس سال قبل وہ رمضان کے مہینے میں اپنے کلینک میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ وہ روزہ دار مسلمانوں کی کیسے خدمت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے پھر اپنے کلینک سے ایک چھوٹی افطار پارٹی کا آغاز کیا جس میں روزہ داروں کو کھجوریں اور جوس وغیرہ دیے جاتے تھے۔'
 انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سے روزہ افطار کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور ہر سال افطاری ایک رسم بن گئی۔
جمعرات کو بھی رنگ برنگی پگڑیاں باندھے سکھ رضا کار لمبی قطاروں میں پلاسٹک کی چٹایوں پر سڑک کنارے بیٹھے مسلمانوں کو بوتلیں، پھل اور کھانا پیش کرنے میں مصروف تھے۔

سکھوں کے دستر خوان پر مسلمان بڑی تعداد میں افطاری کرتے ہیں
سکھوں کے دستر خوان پر مسلمان بڑی تعداد میں افطاری کرتے ہیں

پشاور کے ہسپتالوں، یتیم خانوں، سنٹرل جیل اور سکولوں کے باہر افطار پارٹیوں کا اہتمام کرنے والی تنظیم پاکستان سکھ کونسل سے تعلق رکھنے والے نوجوان رضا کار بلبیر سنگھ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کھانا کھلانے کا مقصد باہمی تفہیم اور مذہبی رواداری کو پروان چڑھانا ہے۔
'ہمیں رمضان میں مسلمانوں کی خدمت کرکے اطمینان ملتا ہے۔ ہماری یہ کوشش سکھوں کے خلاف نفرت اورعدم برداشت کو شکست دینے میں مدد کرے گی۔'
سکھوں کے خلاف 'نفرت' سے بلبیر کا اشارہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سکھ برادری کی 'ٹارگٹ کلنگ' کے ان واقعات کی طرف تھا جس سے ان کی کمیونٹی میں خوف و ہراس نے جنم لیا ہے۔ گذشتہ برس اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن چرن جیت سنگھ کو نامعلوم شخص نے ان کی دُکان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق 2014 کے بعد سے یہ کسی سکھ کے قتل کا دسواں واقعہ تھا۔
اسی طرح 2016 میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے صوبائی وزیر سورن سنگھ کو بھی پشاور کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی تھی۔
پاکستان میں ایک طرف جہاں شیعہ اور مسیحی اقلیتوں کے خلاف تشدد عام ہے وہاں سکھوں کو ملک کی محفوظ ترین اقلیت سمجھا جاتا ہے۔ پشاور کے سکھ، مسلمانوں کے ساتھ گذشتہ ڈھائی سو سال سے پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ اس برادری کے زیادہ تر لوگ کپڑے، ادویات اور حکمت کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔
سکھ برادری رہنماؤں کے مطابق گذشتہ پانچ برس کے دوران سکھوں کے قتل کی ایک نئی لہر کی وجہ سے لگ بھگ 30 ہزار سکھ  پشاور سے نقل مکانی کر کے ملک کے دیگر علاقوں یا ہمسایہ ملک انڈیا میں آباد ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر جتندر کے مطابق تشدد کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے انتظامیہ نے انہیں افطار پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہوئے ہوشیار رہنے کی تاکید کی ہے۔

افطار پارٹیوں کا یہ سلسلہ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے شروع کیا تھا
افطار پارٹیوں کا یہ سلسلہ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے شروع کیا تھا

پاکستان سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی جائے پیدائش ہے۔ بابا گرونانک 1469 کو لاہور کے مشرق میں واقع پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سالانہ ہزاروں سکھ عبادت کے لیے اس علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔
اسی طرح صوبہ پنجاب کے شمال مغرب میں سکھوں کی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ شاندار تاریخ وابستہ ہے۔ سکھ سلطنت کے سربراہ رنجیت سنگھ نے 1823 میں نوشہرہ کی جنگ میں پشتون قبائلیوں کو شکست دی تھی۔ اس کے بعد رنجیت سنگھ  کے چیف کمانڈر ہری سنگھ نے ہزاروں سکھوں کو پشاور اور قبائلی اضلاع کی طرف نقل مکانی کروائی۔
سکھ برادری کے مطابق اس کے بعد سے لگ بھگ پانچ سو سکھ خاندان پشاور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

جتندر کہتے ہیں کہ محبت ہر مرض کی شفا ہے
جتندر سنگھ  کہتے ہیں کہ محبت ہر مرض کی شفا ہے

ڈاکٹر جتندر کے مطابق خطرات کے باوجود سکھ، مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہوئے انہیں افطار کرواتے رہیں گے۔
افطار کے وقت جگ میں پانی ڈال کر اپنے مسلمان دوست کو پکڑاتے ہوئے ڈاکٹر جتندر نے کہا 'آپ وہ ایک پرانی کہاوت جانتے ہیں نہ کہ محبت ہر مرض کی دوا ہے۔'

شیئر: