’جہاں سب کچھ ممکن ہے‘: درعیہ میں بچوں کے لیے نئی تخلیقی سرگرمیاں
بچوں اور فیملیز کو ونڈر پورٹل کے ذریعے مدعو کیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
درعیہ بینالے فاؤنڈیشن نے سٹوڈیو یوتھ اپ سائیکلنگ ونڈرگراؤنڈ کے لیے دروازے کھول دیے ہیں جو بینالے کے ایک ہال کو زندگی اور تخیل سے بھرپور ایک متحرک جگہ میں تبدیل کر رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہاں بچوں کو درعیہ کنٹمپریری آرٹ بینالے 2026 کے تیسرے ایڈیشن کے اختتام سے قبل نمائش میں استعمال ہونے والے مٹیریل کو نئے طریقے سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔
4 سے 6 جون تک جیکس ڈسٹرکٹ میں منعقد ہونے والا سٹوڈیو یوتھ اپ سائیکلنگ ونڈر گراؤنڈ بینالے میں استعمال شدہ مواد کو کارڈ بورڈ کنگڈم، خیالی کرداروں، پُتلی تماشوں، ڈرائنگ کی سرگرمیوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور کاروان میں تبدیل کر دے گا۔
بچوں اور فیملیز کو ونڈر پورٹل کے ذریعے مدعو کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا اور سب کچھ ممکن ہے۔
اس پروگرام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ونڈر پورٹل میں بچے رنگ برنگے کپڑے کی پٹیوں کو آپس میں بُن کر ایک ہزار کہانیوں پر مبنی ایک بڑی دیوار تیار کر رہے ہیں اور کپڑے سے جڑے آرٹ کے اس کام کی نگرانی آرٹسٹ نورا علوان کر رہی ہیں۔

بگ ٹاپ کے تحت، نور حورانی بچوں کو ’لٹل کلاؤن اٹیلے‘ میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں جہاں بچے حرکات اور تخیل کے ذریعے کلاؤننگ (مزاحیہ اداکاری) کرتے ہیں اور ڈرامائی انداز میں کہانیاں سنانا سیکھتے ہیں۔
بگ ٹاپ میں روزانہ تھیٹر پرفارمنسز بھی ہوتی ہیں جن میں ’تھری بلی گوٹس گراف‘ اور ’دی بوائے ہُو کرائڈ ولف‘ شامل ہیں۔

ونڈر فیکٹری میں سارا دن عجیب و غریب ایجادات اور حیرت انگیز کردار تیار کیے جاتے ہیں جو بینالے کے دوبارہ استعمال شدہ مواد سے بنائے جاتے ہیں۔
