کوئٹہ: وہ خاندان جس نے تین بیٹے ملک پر قربان کر دیے

پاکستان کا صوبہ بلوچستان گذشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی خوفناک لہر کی لپیٹ میں ہے اس دوران جہاں ظلم و بربریت کی بے شمار مثالیں دیکھنے کو ملیں وہیں عزم و ہمت کی کئی داستانیں بھی سامنے آئیں۔
ایسی ہی ایک کہانی کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن غوث آباد کے ایک خاندان کی ہے جس کے تین بیٹے عوام کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی زندگی کی بازی ہار گئے مگر خاندان کے افراد کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔
بلوچستان پولیس کے ریپڈ رسپانس گروپ کے حوالدار محمد عقیل 13 مئی کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن میں ایک مسجد کے باہر ہونےوالے بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے اور دو دن زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔ وہ اپنے خاندان کے پہلے فرد نہیں تھے جو دہشتگردی کی جنگ کا ایندھن بنے۔ اس سے پہلے ان کے دو بھائی اور بہنوئی بھی اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنے ملک کے عوام کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہوگئے۔
محمد عقیل کے باقی دو چھوٹے بھائی بھی پولیس اہلکار ہیں ۔اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد سلیمان نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے تین بھائی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جان دے چکے ہیں۔
محمد عقیل کے بھائی اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد سلیمان
محمد عقیل کے بھائی اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد سلیمان 

محمد سلیمان نے بتایا کہ ’ہم پانچ بھائی تھے، بڑے بھائی خلیل احمد سنہ 2000 اور ان سے چھوٹے جلیل احمد سنہ 2001 میں پولیس میں ڈیوٹی دیتے ہوئے مقابلے میں شہید ہوئے اس کے بعد ان کے والد نے محمد عقیل سمیت باقی تینوں بھائیوں کو بھی پولیس میں بھرتی کرا دیا۔‘
’ہمارے والد مرحوم خود بھی پولیس سے بطوراسسٹنٹ سب انسپکٹر ریٹائرڈ ہوئے ۔ خلیل احمد کا ایک بیٹا، جلیل احمد کی ایک بیٹی جبکہ محمد عقیل کے پانچ بچے یتیم ہوئے جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرے ایک بہنوئی شکیل احمد بھی سنہ 2013 میں پولیس لائن کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے میں شہید ہوئے۔ ان کے تین یتیم بچے بھی ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔‘

ریپڈ رسپانس گروپ کے حوالدار محمد عقیل 13 مئی کو کوئٹہ ہونے والے میں ایک دھماکے کا نشانہ بنے تھے

’شہادت ہمیں وراثت میں ملتی آ رہی ہے‘

محمد سلیمان نے بتایا کہ ' میرے بھائیعقیل رمضان کے مہینے میں شہید ہوئے ۔ باقی دو بھائیوں اور بہنوئی نے بھی اسی بابرکت مہینے میں شہادت پائی، شہادت ہمیں وراثت میں ملتی آ رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ میرے والد خود نڈر اور بہادر شخصیت تھے، ہماری والدہ بھی یہ کہتی تھیں کہ جوان ہمیشہ میدان میں اچھے لگتے ہیں ۔ ہمارا بھی یہی جذبہ ہے کہ ملک و قوم کے لیے جان قربان کریں۔  
اپنے بھائی کو یاد کرتے ہوئے محمد سلیمان نے مغموم اندازمیں بتایا کہ عقیل نہایت شفیق تھے۔ ’میں ان سے ہر بات شیئر کرتا تھا، والد کے انتقال کے بعد انہوں نے ہمیں سنبھالا، پہلے دو بھائیوں اور بہنوئی کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی ان پرہی تھی اور اب تمام بوجھ میرے کندھوں پر ہے۔‘ انہوں نے اپیل کی کہ ’حکومت یتیم بچوں کی کفالت میں ہماری مدد کرے‘۔
خلیل احمد کے اکلوتے بیٹے دلاور خلیل بھی ملک کے لیے جان قربان کرنا چاہتے ہیں
خلیل احمد کے اکلوتے بیٹے دلاور خلیل بھی ملک کے لیے جان قربان کرنا چاہتے ہیں

خلیل احمد کے اکلوتے بیٹے دلاور خلیل سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں۔ وہ اپنے دادا، والد اور چچا کی طرح پولیس میں جانا چاہتے ہیں۔ ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہی بات سکھائی گئی ہے کہ ڈرنا نہیں اور گھر پر نہیں بیٹھنا بلکہ آگے جا کر لڑنا ہے اس لیے 'میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ فورس میں جاؤں گا۔‘
’ایک نہ ایک دن موت تو آنی ہے تو کیوں نہ شہادت کی موت آئے۔ ملک کی خاطر، بلوچستان کے امن کی خاطر، ہم شہادت حاصل کریں گے۔‘

شیئر: