بیٹی کی وفات پر آصف علی کی وطن واپسی متوقع

آصف علی قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ انگلینڈ میں موجود ہیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی آصف علی کی کینسر میں مبتلا شیر خوار بیٹی وفات پا گئی ہیں جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ انگلینڈ کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آئیں گے ۔ 
امریکہ میں زیر علاج آصف علی کی بیٹی کی عمر دو سال تھی ۔ حالیہ پی ایس ایل کے دوران بھی شائقین کرکٹ آصف علی کی بیٹی کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے تھے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق آصف علی اس وقت دورہ انگلینڈ اور ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے ٹیم کے ہمراہ انگلینڈ میں موجود ہیں، تاہم  بیٹی کے انتقال کے بات امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ دورہ انگلینڈ ادھورا چھوڑ کر روانہ ہوجائیں گے۔

اسلام آباد یونائٹڈ کی جانب سے اتوار کو رات گئے بیان جاری کیا گیا جس میں آصف علی سے ان کی بیٹی کی  تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں آصف اور اس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ آصف عزم و ہمت کی شاندار مثال ہیں۔ ہم ان سے بہت متاثر ہیں۔‘
واضح رہے کہ آصف علی پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائٹڈ کی جانب سے کھیلتے ہیں۔  پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ میں اسلام آباد یونائٹڈ کی کراچی کنگز کے خلاف جیت کو ٹیم نے آصف علی کی بیٹی کے نام کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد کرکٹر آصف علی سے تعزیت کا اظہار کر رہی ہے۔ ریحان الحق نے ٹویٹ کیا ہے کہ انہوں نے کئی غیر معمولی لوگ دیکھے ہیں مگر آصف علی بے شمار خوبیوں والی شخصیت ہیں ۔ انہوں نے آصف علی سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے صدمہ سہنے کی دعا کی ہے ۔
پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی ثنا میر نے بھی ٹوئٹر پر آصف علی اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے ۔ 
خیال رہے کہ اتوار کو انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں آصف علی نے 22 رنز بنائے تھے۔ اس میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر سیریز میں کلین سویپ کیا تھا۔
آصف علی نے انگلینڈ کے خلاف آخری میچ میں 22 رنز بنائے تھے
آصف علی نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے آخری میچ میں 22 رنز بنائے تھے

آصف علی انگلینڈ میں رواں ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے ابتدائی اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے لیکن انہیں اس ٹورنامنٹ کے لیے 15رکنی اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا۔ ٹیموں کو 23 مئی تک کھلاڑیوں کے ناموں میں رد و بدل کی اجازت ہے ۔ 23 مئی کے بعد ٹورنامنٹ کمیٹی اسکواڈ میں میڈیکل یا کسی اور بنیاد پر  تبدیلی کی اجازت نہیں دے گی۔
دورہ انگلینڈ سے قبل آصف علی نے 24 اپریل کو اپنی ٹویٹ میں بتایا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو علاج کے لیے امریکہ بھیج رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کے دوران آصف علی کو اپنی بیٹی کی بیماری کا علم ہوا تھا، اسلام آباد یونائٹڈ کے کوچ ڈین جونز بھی پریس کانفرنس کے دوران آصف علی کی بیٹی کا ذکر کرتے آبدیدہ ہو گئے تھے۔

شیئر: