آئندہ پانچ برس کا قمری کیلنڈر بن گیا

پاکستان میں چاند دیکھنا کئی دہائیوں سے ایک متنازعہ معاملہ ہی رہا ہے

وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے چاند دیکھنے کے لیے بنائی گئی پانچ رکنی کمیٹی نے آئندہ پانچ برس تک چاند کی تاریخوں پر مبنی کیلنڈر اور ایپ تیار کر کے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا ہے اور اس کے بعد اسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں رمضان یا عید کا چاند دیکھنا ہمیشہ سے ایک مسئلہ ہی رہا ہے۔ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے لوگ اپنی مرضی سے دو اور بعض اوقات تین عیدیں بھی منا رہے ہوتے ہیں۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے محکمہ موسمیات، سپارکو، سپیس سائنس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے دیگر ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی، جسے آئندہ پانچ برس کے لئے چاند کی پیدائش اور اس کے مقام کا تعین کرکے قمری کیلنڈر ترتیب دینے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔


وزارت مذہبی امور نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب سمیت چار ممبرز کو 4 جون کو چاند دیکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ تصویر: اے ایف پی

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ' مولانا منیب الرحمن اور شہاب الدین پوپلزئی کو دعوت بھجوا رہے ہیں کہ وہ تشریف لائیں اور خود دیکھیں کہ چاند کیسے گردش کرتا ہےاور سائنسی طور پر کیوں یہ انتہائی آسان ہے کہ چاند کے اصل مقام کا تعین ہوسکتا ہے اور اس کے لیے بہت پاپڑ بیلنے کی ضرورت نہیں۔'

 فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قمری کیلنڈر کے تحت عید الفطر 5 جون کو ہوگی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے اُردو نیوز کو بتایا کہ انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی کی جانب سے کیلنڈر موصول ہو گیا ہے جس کو چاند کی پیدائش اور مقام کا تعین کرکے ترتیب دیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کونسل کا ریسرچ ونگ ایک دو روز میں اپنی رائے دے گا اور علما اکرام سے بھی مشاورت کی جائے گی کہ کیا یہ کیلنڈر ہی کافی ہے یا انسانی آنکھ سے چاند دیکھنے کی شہادت بھی ضروری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور ان کی کمیٹی کے ساتھ بھی ملاقات کی جائے گی۔


چاند اپنی پیدائش کے 18 سے 20 گھنٹے کے بعد نظر آتا ہے، اور ماہرین نے چاند کی گردش کا حساب لگا کر یہ بتایا ہے کہ چاند کو کس دن، کس وقت اور کون سے مقام پر آسانی سے دیکھا جا سکے گا۔ تصویر: اے ایف پی

حکومت کی جانب سے قائم کی گئی سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طارق معسود نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیلنڈر اور ایپ نظریاتی کونسل کے حوالے کر دی گئی ہے اور وہ اب اس پر اپنی رائے دے گی۔

طارق مسعود نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت کی طرف سے کمیٹی کی تشکیل کے بعد رویت ہلال کمیٹی کو ختم کردیا جائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمیٹی چاند دیکھنے کے لیے حکومت کی سائنسی بنیادوں پر سسپورٹ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ چاند اپنی پیدائش کے 18 سے 20 گھنٹے کے بعد نظر آتا ہے، اور ماہرین نے چاند کی گردش کا حساب لگا کر یہ بتایا ہے کہ چاند کو کس دن، کس وقت اور کون سے مقام پر آسانی سے دیکھا جا سکے گا۔

کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اس کیلنڈر پر دی گئی معلومات 100 فیصد درست ہیں اور اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بریفنگ بھی دی جائے گی۔

طارق مسعود نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات آنے کے بعد یہ کیلنڈر اور ایپ کابینہ کو دی جائے گی جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی۔


مفتی منیب الرحمن نے کہا تھا کہ فواد چوہدری کو 'مذہبی امور' پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

دوسری جانب وزارت مذہبی امور نے پاکستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے چاند دیکھنے کی ڈیوٹی پر مامور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب سمیت چار ممبرز کو 4 جون کو چاند دیکھنے کی ہدایات دی ہیں۔

چند روز قبل فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویئٹر پیغام میں لکھا تھا  ’یہ فیصلہ کہ ملک کو کیسے چلانا ہے، مولویوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘ انہوں نے کہا ’آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی ملک کو آگے لے جا سکتی ہے۔‘

فواد چوہدری کی چاند دیکھنے کے لیے بنائی جانے والی سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی پر علما حضرات نے اعتراض اٹھایا تھا کہ چاند دیکھنے کے لیے انسانی آنکھ کی شہادت لازمی ہے، تاہم بہت سے لوگوں نے اسے ایک 'جرات مند' قدم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام سے چاند دیکھنے کا تنازعہ ختم ہوجائے گا۔

مفتی منیب الرحمن نے کہا تھا کہ فواد چوہدری کو 'مذہبی امور' پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی تھی کہ ان معاملات پر صرف متعلقہ وزیر کو رائے دینی چاہیئے۔

شیئر: