مودی:عمران خان آپ کی مبارک باد کا دلی شکریہ

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو سنہ 2014 کے انتخابات سے بھی بڑی کامیابی مل گئی ہے۔
نئی دہلی میں نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ’ میری جیت نہیں بلکہ ملک میں ایمانداری کےلئے تڑپنے والے شہریوں کی جیت ہے۔ 21ویں صدی کے خواب لے کر جانے والے نوجوان کی جیت ہے۔یہ جیت ان کسانوں کی ہے جو اپنا پیٹ کاٹ کر آپ لوگوں کے اناج کےلیےمحنت کرتا ہے۔‘
جمعرات کی رات نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کی مبارکباد کے جواب میں ٹویٹ میں کہا کہ ’شکریہ وزیراعظم عمران خان ،میں آپ کی مبارکباد کا دلی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ہمیشہ امن اور خطے میں ترقی کا خواہشمند ہوں۔‘

عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو انتخابات میں کامیابی پر کچھ گھنٹے پہلے ایک ٹویٹ کے ذریعے مبارکباد دی تھی ۔
عمران خان نے اپنے ٹویٹر  پیغام میں کہا کہ وہ بی جے پی اور اتحادیوں کی فتح پر وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دیتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ وہ مودی کے ساتھ مل کر جنوب ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام  کرنا چاہتے ہیں۔

انتخابات میں کامیابی پر نریندر مودی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ’اکھٹے ہم آگے بڑھیں گے، اکھٹے ہم ترقی کریں گے اور اکھٹے ہی ہم ایک ایسے انڈیا کی تعمیر کریں گے جو سب کے لیے ہو گا۔‘
این ڈی ٹی وی کے مطابق 542 نشستوں میں سے بی جے پی اتحاد نے349نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کانگریس اور اتحادیوں کو92 نشستیں ملی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے سربراہ راہل گاندھی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرا مودی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے مودی پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفادات کا خیال رکھیں۔
کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے انتخابات میں دو حلقوں سے حصہ لیا۔ امیٹھی حلقے سے راہول گاندھی کے مقابلے میں بی جے پی کی سمرتی ایرانی میدان میں تھیں جو 378863ووٹ حاصل کر کے جیت گئیں جبکہ دوسرے حلقے ویانند کیرالہ سے راہول گاندھی 706367ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔
اپنے ایک بیان میں راہول گاندھی نے سمرتی ایرانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیار سے امیٹھی کی دیکھ بھال کریں ۔

بی جے پی کے صدرامیت شاہ اور کارکنان انتخابات میں فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ تصویر اے ایف پی

 بی جے پی کے صدر اُمیت شاہ نے بھی انڈین انتخابات کے نتائج کو پورے انڈیا کی فتح قرار دے کر ٹویٹ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ نتائج اپوزیشن کے پروپیگنڈے، جھوٹ اور بے بنیاد سیاست کے خلاف پورے انڈیا کا فیصلہ ہے۔‘
  بی جے پی کے ناقدین کا الزام ہے کہ وہ ملک کی مذہبی اقلیتوں خصوصاً 17 کروڑ انڈین مسلمانوں کے خلاف تفریق برتتی ہے۔

شیئر: