آئی ایم ایف: ’قرضے سے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی‘

آئی ایم ایف کے مشن نے رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا تھا
آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب امریکی ڈالر قرض کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ قرض پاکستان میں اقتصادی اصلاحات کی کوششوں کو سہارا دینے کے لیے تین سال کے لیے ادا کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کے اہلکار گیری رائس نے جمعرات کی شب امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
’اس پروگرام کا مقصد پاکستانی کے معاشی حالات کو بہتر کرنا، حکومتی قرضوں میں کمی لانا اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر واپس آنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ پروگرام نہ صرف پاکستان میں معاشی بہتری لائے گا بلکہ اس سے ملک کے بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبوں میں بھی بہتری آئے گی۔    
خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی درخواست پر آئی ایم ایف کے مشن نے آرنسٹو رمریز ریگو کی سربراہی میں 29 اپریل سے 11 مئی تک حکومت کے اکنامک ریفارمز پروگرام کے لیے آئی ایم ایف کی امداد کے حوالے سے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
جس کے بعد آئی ایم ایف نے بتایا تھا کہ ’پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیم ایک سٹاف لیول کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے لیے 39 مہینوں پر مشتمل چھ ارب امریکی ڈالر مالیت کے ’ایکسٹنڈد فنڈ ایگریمنٹ‘ ہو سکتا ہے۔‘

پاکستان کو ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے مزید دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے
پاکستان کو ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے مزید دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے

دوسری جانب پاکستان کے مشیر خزانہ حفیط شیح نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے تین سال کے عرصے میں چھ ارب ڈالر ملنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھی دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی دو سے تین ارب ڈالر کم سود پر ملتے ہیں تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔‘
حفیظ شیخ نے ملک میں مزید مہنگائی کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بجلی کی زائد قیمتوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جس کے لیے بجلی کی مد میں سبسڈی کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اسے آئی ایم ایف کا آخری پیکج بھی قراردیا تھا۔  

شیئر: