مداح آج بھی ڈزنی کی فلم الہ دین کے دیوانے نظر آرہے ہیں

پیر کی ٹکٹ کی فروخت ملا کر فلم سے تقریباً  10.5 کروڑ ڈالر کا کاروبار متوقع ہے۔ تصویر: روئیٹرز
الہ دین کا سالوں سے چلنے والا جادو مداحوں کے لیے اب بھی تازہ ہے، جوکہ ڈزنی کی نئی فلم کی کارکردگی سے صاف ظاہر ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، الہ دین امریکہ میں جمعہ کو ریلیز ہوئی جس کے بعد سے اتوار تک صرف تین دن کے دوران اس نے 8.61 کروڑ ڈالر کا کاروبار کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ پیر کی ٹکٹ کی فروخت ملا کر فلم سے تقریباً  10.5 کروڑ ڈالر کا کاروبار متوقع ہے۔

امریکہ ویب سائٹ واکس کے مطابق 2019 کی الہ دین فلم میں پہلے کا نسل پرست متن کافی حد تک ترک کر دیا گیا ہے۔ تصویر: روئیٹرز

کچھ ذرائع کہتے ہیں الہ دین کی کہانی کا مقام مشرقِ وسطیٰ ہے مگر بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ الہ دین چین کا کردار ہے۔
الہ دین کہانی ہے ایک غریب لڑکے کی جو اپنے بندر اور ایک چراغ میں قید جن کے ہمراہ رہتا ہے۔ اس کہانی میں ایک سلطان کا بھی ذکر ہے کو شہر کے ایک بڑے سے محل میں اپنی بیٹی جاسمین کے ساتھ رہتا ہے۔ الہٰ دین کے روز مرّہ کے واقعات کے ساتھ ساتھ اس کہانی میں اس کی اور سلطان کی بیٹی جاسمین کی محبت کا بھی ذکر ہے۔
حال ہی میں ریلیز ہونے والی ڈزنی کی فلم  1992 میں بننے والی فلم پر مبنی ہے، جس کو عرب ثقافت سے متعلق نسل پرست ہونے پر تنقید کا سامنا رہا۔

 فلم میں چراغ کے جن جینی کا کردار معروف اداکار ول سمتھ نبھا رہے ہیں۔ تصویر: روئیٹرز

امریکی ویب سائٹ واکس کے مطابق 2019 کی الہ دین فلم میں پہلے کا نسل پرست متن کافی حد تک ترک کر دیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کونسل اون امیرکن اسلامک ریلیشنز نے پچھلے ہفتے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ناقدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ الہ دین ایک فرضی کہانی ہے جس میں بنیادی طور پر نسل پرست مواد شامل ہے۔ انہوں نے ناقدین سے یہ بھی کہا ہے کہ نئی فلم میں دکھائی جانے والی نسل پرستی پر آواز اٹھائی جائے۔  
الہ دین کی نئی فلم کے ڈائریکٹر گائے رچی ہیں جبکہ اس میں چراغ کے جن جینی کا کردار معروف اداکار ول سمتھ نبھا رہے ہیں۔

شیئر: