برصغیر کی فلمی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اگر ایک فلم کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہ بھی کیا ہوتا تو ان کا نام فلم کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جاتا۔
ایسا ہی ایک نام کریم الدین آصف کا ہے جن کو فلمی دنیا ’کے آصف‘ کے نام سے جانتی ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ پیشے سے درزی تھے لیکن ان کی اصل مہارت کپڑے سینے میں نہیں بلکہ کہانیوں اور کرداروں کو پرونے میں ابھر کر سامنے آئی۔
کے آصف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 14جون 1922ء میں اتر پردیش کے شہر ایٹہ میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی زندگی کا فلمی دنیا سے کوئی خاص تعلق نہ تھا، مگر قسمت نے انہیں انڈین سنیما کی تاریخ میں ایک عظیم باب لکھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا۔
مزید پڑھیں
ابتدا میں کریم الدین آصف نے مختلف پیشے آزمائے۔ وہ کچھ عرصہ درزی کے کام سے بھی وابستہ رہے۔ مگر ان کے مزاج میں ایک عجیب بے قراری تھی۔ وہ عام زندگی سے مطمئن ہونے والے انسان نہ تھے۔ دوستوں کے حلقے میں اکثر بڑے بڑے قصے سنایا کرتے اور تاریخی واقعات کو اس انداز میں بیان کرتے کہ سننے والے گویا کسی فلمی منظر کے اندر داخل ہو جاتے۔
ان کا بمبئی کا رخ کرنا اور فلمی دنیا میں داخل ہونا کسی حد تک ان کے ایک رشتہ دار کے ذریعے ممکن ہوا۔ معروف فلمی شخصیت نذیر احمد خان ان کے قریبی عزیز تھے۔ اسی تعلق نے آصف کے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھولے۔ مگر انہوں نے آغاز ہی سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ محض اتفاقی طور پر اس صنعت میں نہیں آئے بلکہ ان کے ذہن میں بڑے منصوبے پل رہے تھے۔
ابھی وہ کوئی 22-23 سال کے ہی تھے کہ انہوں نے پرتھوی راج کپور اور درگا کھوٹے جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ فلم ’پھول‘ کی ہدایتکاری کا ذمہ اٹھا لیا۔ یہ فلم 1945 میں ریلیز ہوئی اور کامیاب رہی لیکن اس دوران فلمی حلقے کو کے آصف کی طبیعت کا ایک خاص پہلو بھی معلوم ہو گیا۔
وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اتنے مستعد ہوتے کہ معمولی باتوں پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے صرف اس لیے پورے دن کی شوٹنگ روک دی کہ بادشاہ کے لباس کی شکنیں ان کے خیال کے مطابق شاہانہ وقار پیدا نہیں کر رہی تھیں۔

اسی زمانے میں کے آصف کے ذہن میں ایک ایسا خیال پیدا ہوا جو آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔ وہ اکبر بادشاہ پر ایک فلم بنانا چاہتے تھے جس میں ان کے بیٹے سلیم اور رقاصہ انارکلی کی محبت کی داستان کو ہالی وڈ کے پیمانے پر پیش کیا جا سکے۔ اس منصوبے کا نام بعد میں ’مغل اعظم‘ رکھا گيا۔
شروع میں اس فلم کے لیے چند اداکاروں کا انتخاب بھی کر لیا گیا تھا اور ابتدائی تیاری شروع ہو چکی تھی، لیکن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم نے اس منصوبے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ فلم کے سرمایہ کار پاکستان منتقل ہو گئے اور منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ بہت سے لوگوں نے آصف کو مشورہ دیا کہ وہ اس خواب کو ترک کر دیں، مگر آصف ان لوگوں میں سے نہ تھے جو آسانی سے ہار مان لیں۔
چنانچہ چند برس بعد انہوں نے از سر نو کام شروع کیا۔ اس بار فلم کی کاسٹ میں دلیپ کمار، مدھوبالا اور پرتھوی راج کپور جیسے بڑے نام شامل تھے۔ فلم کی تیاری شروع ہوتے ہی یہ واضح ہو گیا کہ کے آصف ایک غیر معمولی پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔
فلم کا سب سے مشہور منظر ’شیش محل‘ کا تھا جس کی رنگین عکس بندی ہوئی تھی اور جس میں گیت ’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘ فلمایا گیا۔ عام طور پر فلموں میں ایسے سیٹ لکڑی اور رنگین شیشوں سے بنائے جاتے تھے، لیکن آصف نے اصرار کیا کہ محل میں اصلی آئینے نصب کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے بیلجیم سے ہزاروں آئینے منگوائے گئے اور سیٹ کی تعمیر میں ایک سال سے زیادہ کا طویل عرصہ صرف ہوا۔ روشنی کے انعکاس کا مسئلہ اتنا پیچیدہ تھا کہ اس کے حل کے لیے بیرونِ ملک کے ماہرین کی مدد لی گئی۔
ایک منظر میں اکبر کو تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلنا دکھانا تھا۔ عملے نے تجویز دی کہ یہ منظر سٹوڈیو میں فلمایا جائے تاکہ اداکار کو تکلیف نہ ہو، لیکن کے آصف نے اصرار کیا کہ یہ منظر حقیقی دھوپ میں ہی فلمایا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پرتھوی راج کپور کو واقعی گرم ریت پر ننگے پاؤں چلنا پڑا جس کے سبب ان کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے، مگر آصف کا خیال تھا کہ اس طرح منظر میں حقیقت پیدا ہوگی۔

فلم کی تیاری کے دوران ایک اور ڈرامائی صورت حال بھی پیدا ہوئی۔ دلیپ کمار اور مدھوبالا حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، لیکن ایک قانونی تنازع کے باعث ان کے تعلقات میں تلخی آ گئی تھی، یہاں تک کہ ایک دوسرے کی صورت دیکھنے بھی روادار نہ تھے۔ اس کے باوجود انہیں فلم میں ایک دوسرے کے مقابل عشق محبت میں ڈوبے مناظر ادا کرنے پڑے۔ عملے کے مطابق ان مناظر کی شوٹنگ کے وقت سیٹ پر ایک عجیب سنجیدگی طاری ہو جاتی تھی۔
اسی طرح فلم میں انارکلی کو قید میں دکھانے کے لیے آصف نے ہلکی زنجیروں کے بجائے اصلی لوہے کی زنجیریں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ زنجیریں کافی بھاری تھیں اور مدھوبالا کو کافی دیر تک ان کے ساتھ اداکاری کرنا پڑی، حالانکہ اس زمانے میں وہ دل کی بیماری میں مبتلا تھیں۔ مگر انہوں نے فلم کی تکمیل کے لیے اس مشقت کو برداشت کیا۔
تقریباً پندرہ برس کے طویل انتظار اور محنت کے بعد آخرکار 1960ء میں جب ’مغل اعظم‘ ریلیز ہوئی تو اس کی ریل ہاتھی پر ممبئی کے مراٹھا مندر میں لائی گئی۔ سینما میں اس کا پہلا شو ہوا اور لوگوں کا ایسا ہجوم امڈ آیا کہ ٹکٹ کئی کئی دن پہلے فروخت ہو گئے۔ فلم نے بے مثال کامیابی حاصل کی اور جلد ہی انڈین سنیما کی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار پائی۔
آصف کی شخصیت بھی ان کی فلموں کی طرح غیر معمولی تھی۔ وہ گفتگو میں بھی کسی بادشاہ کی طرح اعتماد سے بات کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جب کسی سرمایہ کار نے فلم کے اخراجات پر اعتراض کیا تو آصف نے مسکرا کر جواب دیا کہ ’اگر آپ کو معمولی فلم بنانی ہے تو کسی معمولی ہدایت کار کو تلاش کیجیے۔‘
مغلِ اعظم کی کامیابی کے بعد آصف نے ایک اور عظیم منصوبہ شروع کیا جس کا نام ’لو اینڈ گاڈ‘ تھا۔ ابتدا میں اس فلم میں گرو دت کو مرکزی کردار دیا گیا، لیکن ان کی اچانک موت نے فلم کو روکنے پر مجبور کر دیا۔ بعد میں اداکار سنجیو کمار کو اس کردار کے لیے منتخب کیا گیا، مگر قسمت نے ایک بار پھر ساتھ نہ دیا۔ 1971ء میں خود آصف کی موت ہو گئی اور یہ فلم ان کی زندگی میں مکمل نہ ہو سکی۔
بعد کے برسوں میں اس فلم کو جزوی طور پر مکمل کر کے ریلیز کیا گیا، مگر وہ عظمت حاصل نہ کر سکی جو مغلِ اعظم کو نصیب ہوئی تھی۔

بہر حال مغل اعظم سے قبل کے آصف نے دلیپ کمار اور نرگس کے ساتھ ایک فلم ’ہلچل‘ بنائی۔ اس فلم کے وہ پروڈیوسر تھے لیکن اس فلم نے انہیں دلیپ کمار کے نزدیک کیا۔
فلم ہلچل انگریزی ناول ’وودرنگ ہائٹس‘ پر کسی حد تک مبنی ہے۔ اس فلم میں بلراج ساہنی جیلر کے کردار میں ہیں اور اس کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ جیلر کے کردار کو ادا کرنے کے لیے بلراج ساہنی جیل جانا چاہتے تھے اور کے آصف نے انہیں یہ تجربہ دینے کا وعدہ بھی کر لیا تھا لیکن اسی دوران ایک احتجاج کے دوران بلراج ساہنی کو جیل ہو گئی لیکن کے آصف نے شوٹنگ نہیں روکی اور جیلر سے بات کرکے بلراج ساہنی کو شوٹنگ کے لیے چھٹی دی جاتی تھی۔
آج جب انڈین سنیما کی تاریخ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو کے آصف کا نام ایک ایسے فنکار کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کی۔ ان کی بنائی ہوئی فلم صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت ہے۔ مغلِ اعظم آج بھی دیکھنے والوں کو اسی شان و شوکت کا احساس دلاتی ہے جو آصف کے ذہن میں برسوں پہلے ایک خواب کی صورت میں پیدا ہوئی تھی۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ کے آصف نے محض ایک فلم تخلیق نہیں کی بلکہ ایک ایسا افسانہ رقم کیا جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ ہے۔
کے آصف کی زندگی صرف فلمی عظمت اور بڑے خوابوں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کی نجی زندگی بھی اتنی ہی رنگین اور ڈرامائی تھی۔ ان کے عشق و محبت کے قصے فلمی دنیا میں اکثر موضوعِ گفتگو رہتے تھے، یہاں تک کہ معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو نے بھی ان کے بارے میں لکھا ہے۔

کے آصف کی پہلی شادی ایک عام گھریلو خاتون سے ہوئی تھی، مگر یہ رشتہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ بعد ازاں آصف کی زندگی میں فلمی دنیا کی حسین اداکارہ ستارہ دیوی آئیں جو کہ فلم ’ہلچل‘ میں تھیں۔ ستارہ دیوی کتھک کی بے مثال رقاصہ تھیں اور اپنی بے باک طبیعت کے لیے مشہور تھیں۔
دراصل اس شادی کی کہانی قدرے پیچیدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ کے آصف کے بہنوئی نے ستارہ دیوی سے شادی کر لی تھی جس سے کے آصف ناراض تھے اور ان دونوں میں جلد ہی علیحدگی ہو گئی اور پھر انہوں نے ستارہ دیوی سے شادی کر لی۔ تاہم دونوں کی مضبوط اور آزاد مزاج شخصیتوں کے باعث یہ رشتہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور جلد ہی علیحدگی ہو گئی۔
کے آصف کا ایک اور مشہور تعلق اداکارہ نگار سلطانہ سے رہا۔ یہ وہی اداکارہ ہیں جنہوں نے فلم مغل اعظم میں بہار کا کردار ادا کیا تھا۔ کے آصف کو جو اولاد ہوئی وہ انہی سے ہوئی۔
پھر انہوں نے دلیپ کمار کی بہن اختر سے شادی کر لی لیکن وہ نگار اور اختر دونوں کو چھوڑ کے نو مارچ 1971 کو ممبئی میں چل بسے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف کے قریبی حلقے کے لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ محبت میں بھی اسی طرح شدت پسند تھے جیسے فلم سازی میں۔ وہ جس شخص یا منصوبے سے وابستہ ہوتے، پوری شدت اور جذبے کے ساتھ اس میں ڈوب جاتے تھے۔ یہی شدت ان کی فلموں میں بھی نظر آتی ہے اور ان کی نجی زندگی کے تعلقات میں بھی۔












