Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خواتین کے بارے میں بات کرتے وقت مردوں کو کئی بار سوچنا پڑتا ہے: فرحان اختر

فرحان اختر کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے (فوٹو: انسٹاگرام)
انڈین اداکار، ہدایت کار اور گلوکار فرحان اختر نے خواتین کی حفاظت اور معاشرتی ذمہ داری کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کبھی بھی کافی نہیں ہوتے کیونکہ اس میدان میں ہمیشہ مزید بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔
ان کے مطابق معاشرے میں جرائم کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے صرف موجودہ اقدامات پر اکتفا کرنا مناسب نہیں بلکہ نئی اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
ویب سائٹ ’بالی وُڈ ہنگامہ‘ کے مطابق فرحان اختر کا کہنا ہے کہ وہ مایوسی یا تلخی کا شکار ہونے کے بجائے مسائل کے حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ’خواتین کے خلاف جرائم ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور معاشرہ ابھی تک ان سے نمٹنے کے دباؤ کا پوری طرح مقابلہ نہیں کر پا رہا۔‘ تاہم وہ اس بات کو مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں کہ اب ان مسائل کے بارے میں سماجی شعور پہلے کی نسبت زیادہ بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں خواتین کے خلاف ہونے والے کئی سنگین جرائم، خصوصاً گھر یا کام کی جگہ پر ہونے والے واقعات، اکثر منظرِ عام پر نہیں آتے تھے کیونکہ متاثرہ خواتین خود کو اتنا بااختیار محسوس نہیں کرتی تھیں کہ اپنی آواز بلند کر سکیں۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خواتین اپنے تجربات اور صدمات کے بارے میں کھل کر بات کر رہی ہیں، جو معاشرتی تبدیلی کی ایک اہم علامت ہے۔‘
فرحان اختر کے مطابق ’اس مسلسل بحث نے ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے، وہ یہ کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اب وہ دور گزر چکا ہے جب مشہور شخصیات بلا سوچے سمجھے خواتین کے بارے میں تبصرے کر دیا کرتی تھیں۔ آج کے دور میں مردوں کو خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کئی بار سوچنا پڑتا ہے، جو ایک مثبت اور بڑی تبدیلی ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشہور شخصیات صرف تفریح فراہم کرنے تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ ان کے مطابق ’شہرت کے ساتھ معاشرتی ذمہ داری بھی آتی ہے۔‘
فرحان اختر کہتے ہیں کہ ’ہر انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان ہمیشہ درست راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے اور یہ یاد رکھے کہ عوام کی نظریں ہر وقت اس پر ہوتی ہیں۔‘

شیئر: