عدالتی کارروائی میں لاکھوں روپے کی بچت کیسے ہوئی؟

جس روسڑ پہ وکلا کھڑے ہو کہ دلائل دیتے ہیں اس پہ مانیٹر سکرین لگی تھی جس پہ جج صاحبان کی کرسیاں نظر آرہی تھیں۔ تصویر: روئیٹرز
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں قائم عدالت عظمیٰ کی رجسٹری کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پیر کے روز روایت سے ہٹ کے گہما گہمی تھی، مدعی بھی موجود تھے اور گواہان بھی، عدالتی عملہ اور وکلا بھی بروقت حاضر تھے حتیٰ کہ دیگر کمرہ عدالت سے بھی وکلا ادھر ہی آ گئے تھے۔ عدالتی کارروائی کا آغاز ساڑھے نو بجے ہونا تھا، جوں جوں سماعت کا وقت قریب آرہا تھا حاضرین میں بے چینی بڑھ رہی تھی کیونکہ جج صاحبان کمرہ عدالت میں تو کیا شہر میں ہی موجود نہ تھے۔
یہ اپنی نوعیت کی انوکھی عدالت تھی اور پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ عدالت عظمیٰ کی کارروائی ویڈیو لنک کے ذریعے ہونا تھی، کیس کی پیروی کے لیے وکلا اور سائلین کراچی میں موجود تھے جب کہ معزز جج صاحبان اسلام آباد میں۔
اس سماعت کے لیے خاص انتظامات کیے گئے تھے اور ویڈیو کیمرہ اور ٹی وی سکرینوں کے ذریعے کراچی اور اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر ایک کو آپس میں منسلک کیا گیا تھا۔ 
جس روسٹرم پہ وکلا کھڑے ہو کہ دلائل دیتے ہیں اس پہ مانیٹرنگ سکرین لگی تھی جس پہ جج صاحبان کی کرسیاں نظر آرہی تھیں جب کہ اسی کے ساتھ لگے کیمرے کے ذریعے وکلا اور سائلین جج صاحبان کو دکھائی دے رہے تھے۔ کمرہ عدالت میں ایک اور بڑی سکرین بھی تھی جس پہ جج صاحبان تمام حاضرین کو دکھائی دے رہے تھے اور سپیکرز کے ذریعے ان کی آواز سب سن سکتے تھے۔
سماعت کے آغاز سے پہلے دونوں جانب سے عدالتی عملے  نے سسٹم کو چیک کیا اور کمرہ عدالت میں موجود وکلا کو اس حوالے سے بریفننگ بھی دی۔ پھر جیسے ہی جج صاحبان اسلام آباد میں کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخل ہوئے، کراچی کی کمرہ عدالت میں موجود افراد بھی ان کی تعظیم میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ آج کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا تھا جس کی سربراہی چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کر رہے تھے۔
عدالتی کارروائی کا آغاز ہوتے ہی جسٹس آصف سعید نے سب سے پوچھا کہ کیا تمام لوگ ان کو ٹھیک سے دیکھ اور سن سکتے ہیں، جواب اثبات میں آنے پہ انہوں نے حاضرین و ناظرین سے مختصر سا خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی عدالتی تاریخ میں نیا باب رقم ہو رہا ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے سائلین کے آنے جانے سمیت بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ جسٹس سعید نے وکلا کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سہل اور مستعد انصاف کی فراہمی ان کا آئینی فرض ہے اوراس نئی جہت پہ عملدرآمد کر کے وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ 

ویڈیو کیمرہ اور ٹی وی سکرینوں کے ذریعے کراچی اور اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر ایک کو آپس میں منسلک کیا گیا تھا۔ تصویر: ریڈیو پاکستان

چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود افراد کو بتایا کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت ہو رہی ہے، اس سے پہلے صرف ذیلی عدالتوں میں ایسا اقدام دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کی آئی ٹی کمیٹی کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی انتھک محنت اور کاوش سے آن لائن سماعت ممکن ہو سکی۔ اس موقع پہ چیئرمین نادرا عثمان مبین بھی اسلام آباد کی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
اس کے بعد عدالتی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور ویڈیو لنک پہ ہونے والے پہلے مقدمے کی سماعت میں چیف جسٹس نے ملزم کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے مدعی کے حق میں فیصلہ سنایا۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ مقدمہ سنہ 2014 میں قائم ہوا تھا اور سنہ 2016 میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد سنہ 2016 میں ہی سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی اپیل دائر کی گئی تھی جو تین سال زیر سماعت رہی اور سنہ 2019 میں اس کا فیصلہ آیا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس تاخیر پہ نہایت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ ’ہم جو ماڈل کورٹس بنا رہے ہیں وہ تین دن میں مکمل کیس کا فیصلہ دے دیتی ہیں جبکہ یہاں تین سال میں ضمانت قبل از گرفتاری کا فیصلہ نہیں ہو پاتا۔‘
اپنے تحریری فیصلے میں چیف جسٹس نے لکھا کہ سندھ ہائی کورٹ بنچ کی جانب سے فیصلے میں تاخیرسپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے قائم کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل سے اس معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی اور مقدمے کے ججوں کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ دو ہفتے کے اندر مرتب کرنے کے احکامات جاری کیے۔
کیسز کی سماعت کے دوران وقفے میں دوسری عدالت سے آئے وکلا نے چیف جسٹس کو اس تاریخی اقدام کی سرپرستی پی مبارکباد پیش کی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہونے والے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا نے بھی اس اقدام کی تعریف کی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ غلام رسول منگی کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے بروقت انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی، آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں وکلا برادری عدالت کے ساتھ ہے۔
اس موقع پہ چیف جسٹس نے کہا کہ ’صرف آج کی کارروائی سے سائلین کے 20 لاکھ روپے کی بچت ہوگئی ہو گی، کیوں کہ کے وکلا کی آمد و رفت، ان کی رہائش اور طعام پہ اتنا خرچ تو آجاتا ہوگا، کیوں کہ وکلا بزنس میں کلاس ٹریول کرتے ہیں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔ ان کی اس بات پہ پہلے تو وکلا صرف مسکرائے پھر کچھ نے تائید کی اور بعض بس سر ہلا کے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے۔ 

شیئر: