Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹاک مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ: صدر ٹرمپ پھر پیچھے ہٹ گئے، ’امریکہ ایران کے پاور پلانٹس پر حملے روک دے گا‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹاک مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ کے پیش نظر اپنے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کی اور ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد مؤخر کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ممکنہ کارروائی اس لیے مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ تنازع ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ’بہت اچھے‘ چل رہے ہیں۔
اگرچہ ایران مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ کسی 15 نکاتی منصوبے پر مذاکرات نہیں کر رہا، جو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مہلت مانگی تھی۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’دا فائیو‘ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’انہوں نے سات دن مانگے، اور میں نے کہا میں آپ کو 10 دن دیتا ہوں۔‘
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایرانی حکومت کی درخواست پر میں توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کی مدت 10 دن کے لیے موخر کر رہا ہوں یعنی پیر چھ اپریل 2026 کی شام آٹھ بجے تک۔‘
انہوں نے کہا کہ بات چیت جاری ہے اور جعلی خبروں والے میڈیا اور دیگر کے برعکس یہ بہت اچھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان اس وقت کیا ہے جب امریکی سٹاک مارکیٹ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔
امریکہ کی بڑی کمپنیوں کے انڈیکس سٹینڈرڈ اینڈ پورز 500 میں ایک اعشاریہ سات فیصد کمی ہوئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج چار سو انہتر پوائنٹس یعنی ایک فیصد نیچے آ گیا، اور نیسڈیک میں دو عشاریہ چار فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ اپنی سال کے آغاز میں بننے والی بلند ترین سطح سے 10 فیصد سے بھی زیادہ گر گیا۔
امریکی صدر نے سنیچر کے روز پہلی بار ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی تھی اور فوراً ہی اپنے مؤقف میں نرمی دکھانا شروع کر دی تھی۔
ابتدائی دھمکی میں انہوں نے تہران کو 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کھول دے، جو عالمی تیل کی منڈی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
تاہم ایشیائی مارکیٹوں میں شدید اُتار چڑھاؤ کے بعد پیر کے روز انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا اور کہا کہ وہ ایران کو مزید پانچ دن کا وقت دیں گے۔
جمعرات کو مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے بعد انہوں نے ایک بار پھر فیصلہ مؤخر کر دیا۔

 

شیئر: