سوڈان: عبوری فوجی کونسل کا 9 ماہ کے اندر الیکشن کرانے کا اعلان

ملٹری کونسل کے سربراہ نے پیر کے روز ہونے والے تشدد کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا۔ تصویر اے ایف پی
سوڈان کی عبوری فوجی کونسل نے اپوزیشن کے اتحاد سے کیے گئے تمام سابقہ معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
فوجی کونسل کے سربراہ کی جانب سے تازہ ترین اعلان دارلحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں فوج کی جانب سے وزارت دفاع کے باہر دھرنے دیے اپوزیشن کے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد سامنے آئی ہے۔
فوج کونسل کے سربراہ نے اپوزیشن کے ساتھ تمام معاہدوں کو منسوخ کرنے اور نو مہینوں کے اندرنئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔  
خیال رہے  کہ عبوری فوجی کونسل اور 'ڈیکلیریشن آف فریڈم اینڈ چینج فورسز' نامی اپوزیشن کے اتحاد کے درمیان ہفتوں پر محیط بات چیت  میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔


پیر کے روز اپوزیشن مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 35 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تصویر روئٹر

اگرچہ اپوزیشن اور فوجی حکمرانوں کے بیچ نئے انتخابات سے قبل تین سال کے عبوری دور اور قانوں ساز اسمبلی کی ہئیت کے بارے میں اتفاق رائے ہو گیا تھا تاہم تین سالہ مدت کے دوران ملک چلانے کے لیے عبوری کونسل پر سویلین یا فوجی بالادستی کے ایشو پر بات چیت میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔
عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے اپنے خطاب میں اپوزیشن کے اتحاد کو بھی کسی اتفاق رائے تک نہ پہنچنے کا برابر ذمہ دار قرار دیا۔ برہان نے اعلان کیا کہ انتخابات نو ماہ کے اندر منعقد ہونگیں۔
خیال رہے  پیر کو علی الصبح سیکیورٹی فورسز نے ملک کے دارلحکومت خرطوم میں اپوزیشن کے اختجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا۔ اپوزیش سےوابستہ  طبی عملے کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 35 سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ اس ماہ اپریل کے مہینے میں فوج کی جانب سے طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والےعمر البشیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی بدترین پرتشدد کاروائی ہے۔
ملٹری کونسل کے سربراہ نے پیر کے روز ہونے والے تشدد کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔
 

شیئر: