Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی دنیا بھر میں تفریحی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران نے دنیا بھر میں تفریحی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اب بھی میزائل تیار کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ایران کا یہ سخت موقف جمعے کو ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو قریباً تین ہفتے گزر چکے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلٰی قیادت میں شامل کئی ایم رہنما مارے جا چکے ہیں اور اس کے ہتھیاروں اور توانائی کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران بھی اسرائیل پر متعدد حملے کر چکا ہے اور وہ خلیج کے عرب ممالک کے توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ خطے کی اکثریتی آبادی رمضان کی عبادات میں مصروف ہے۔
دوسری جانب اسی دوران ایران میں لوگ نئے سال کی آمد کے حوالے سے جشنِ ’نوروز‘ بھی منا رہے ہیں، جو ایک خوشی کا تہوار ہے لیکن رواں برس جنگ کی وجہ سے یہ تہوار سادگی سے منایا جا رہا ہے۔
ایران کے اندر سے کم معلومات باہر آنے کی وجہ سے یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس کے ہتھیاروں، جوہری یا توانائی کے مراکز کو کتنا نقصان پہنچا ہے، یا ملک میں اصل قیادت کون کر رہا ہے۔ 
تاہم، ایران نے اپنے اقدامات سے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اب بھی ایسے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو تیل کی بین الاقوامی ترسیل کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایرانی حملے عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور اِن حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے باہر بھی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
 

شیئر: