’ٹیکسٹائل کی برآمدات پر سیلز ٹیکس سے رہی سہی برآمدات بھی ختم ہو جائیں گی‘

صنعت کاروں نے ٹیکسٹائل کی برآمدات پر سیلز ٹیکس کی مخالفت کی ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مالی سال 2020-2019 کے لیے پیش کردہ بجٹ تجاویز میں درآمدات کے شعبے پر نئے ٹیکس لگانے کی تجویز پر ملک کے پیداواری اور صنعتی شعبے نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
صنعت کاروں نے کہا کہ برآمدات میں موجودہ اضافہ نواز لیگ کی حکومت کے مرہونِ منت تھا لیکن موجودہ حکومت کے منفی اقدام سے ملکی برآمدات معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔
کراچی کے تاجروں اور برآمدکنندگان نے بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن سے پہلے جو وعدے کیے تھے اور ملکی معیشت کی بہتری کے لئے جو بھی پلان بتایا تھا، یہ بجٹ اس سب کے برعکس ہے۔ ان کا موقف تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ ادوار کے صنعتکار دوست اقدامات بھی واپس لے لیے ہیں۔
آل پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سربراہ جاوید بلوانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل کی برآمدات کو زیرو ریٹ سے نکال کر اس پہ 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جس سے ملک کی رہی سہی برآمدات بھی ختم ہو جائیں گی اور صنعت کار اپنی صنعتیں دوسرے ممالک میں منتقل کر دیں گے۔


برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے  برآمدات میں کمی آئے گی جس کا اثر زرمبادلہ پر بھی پڑے گا۔ فائل فوٹو اے ایف پی 

جاوید بلوانی نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ٹیکسٹائل کے پیداواری شعبے پر 2 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا جس سے برآمدات متاثر ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اقتصادی سروے میں برآمدات میں جو اضافہ ظاہر ہوا ہے وہ صرف اس لیے ہوا کہ گذشتہ حکومت نے اپنے آخری بجٹ میں یہ ٹیکس واپس لیا تھا اور پیکجنگ پر ریفنڈ بھی بحال کردیا تھا جس کی وجہ سے برآمدات میں بہتری آئی۔ ’تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے دوبارہ ٹیکس عائد کرنے سے برآمدات شدید متاثر ہوں گی۔‘
آل پاکستان بیڈویئرایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ شبیر احمد نے بجٹ تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے اسے برآمدکنندگان کے لیے اب تک کا سب سے برا بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو حکومت کہتی ہے کہ وہ برآمدی شعبے کا تحفظ کرے گی لیکن دوسری جانب اس نے ایسی سفارشات پیش کی ہیں جن سے لگتا ہے کہ وہ قومی مفاد کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے  برآمدات میں کمی آئے گی جس کا اثر زرمبادلہ پر پڑے گا اور وہ مزید کم ہو جائیں گے۔


برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ حکومت زراعت اور خدمات کے شعبے پر کم سے کم ایک فیصد ٹیکس عائد کرے۔ فائل فوٹو اے ایف پی

جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں زرمبادلہ دو چیزوں سے آتا ہے، ایک وہ شہری جو دوسرے ممالک سے پیسے کما کر اپنے ملک بھیجتے ہیں یا پھر اس ملک کی برآمدات، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت نے برآمدات کو بڑھا کر زرمبادلہ کمانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا۔
ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کا موقف تھا کہ حکومت صرف ان شعبوں پر ٹیکس لگا رہی ہے جو پہلے سے ٹیکس دیتے ہیں، جب کہ زراعت اور خدمات کے شعبے پر کوئی ٹیکس نہیں حالانکہ وہ صنعتی شعبے سے زیادہ حجم رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت زیادہ نہیں تو زراعت پر کم سے کم ایک فیصد ٹیکس تو لگائے جو کہ ملک کا سب سے بڑا پیداواری شعبہ ہے۔

شیئر: