Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی معیشت کے کسی اور شعبے میں نمایاں ترقی ہو نہ ہو، ملک میں ہر سال گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی سروے 2019-2018 کے مطابق ’پاکستان میں گدھوں کی تعداد 54 لاکھ ہو چکی ہے۔‘
پاکستان میں 2018-2017 میں گدھوں کی تعداد 53 لاکھ جبکہ 2017-2016 میں 52 لاکھ تھی۔ اس طرح اندازاً ملک میں ہر سال ایک لاکھ گدھے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، چین پہلے اور ایتھوپیا کا نمبر دوسرا ہے۔
محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے مطابق ’صرف لاہور میں 41 ہزار سے زائد گدھے موجود ہیں۔‘
ایک رپورٹ کے مطابق ’1999 میں پاکستان میں گدھوں کی تعداد 38 لاکھ تھی جو 2019 میں 54 لاکھ تک پہنچ چکی پے۔‘

گدھوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ان کی کھالوں سے بنی مصنوعات پر پابندی ہے (فائل فوٹو: اےایف پی)

ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں اس حوالے سے ہم نے لائیوسٹاک کے ماہرین اور حکومتی ذمہ داروں سے بات کی۔
کمشنر اینیمل ہسبنڈری ڈاکٹر خورشید نے ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گدھوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ان کی برآمد پر پابندی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’2015 میں جب یہ خبریں آئیں کہ گدھوں کا گوشت مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور ان کی کھالیں چین بھیج دی جاتی ہیں، تو اس وقت سے گدھوں اور ان کی کھالوں سے بنی مصنوعات پر پابندی عائد ہے۔‘
ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک خیبر پختونخوا ڈاکٹر شیر محمد نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبے میں گدھے مارنے پر پابندی ہے، اس وجہ سے بھی ان کی تعداد بڑھی ہے۔‘
محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے ایڈیشنل سیکریٹری خالد محمود چوہدری کا کہنا ہے کہ ’ملک میں صرف گدھوں ہی نہیں بلکہ دیگر جانوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جن میں گائیں اور بکریاں شامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’جانوروں کی تعداد میں اضافہ ایک قدرتی عمل بھی ہے۔‘

’چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے بعد گدھوں کی افزائش کا پروگرام شروع کیا جائے گا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ڈی جی لائیو سٹاک خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ ’صوبائی حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان گدھوں کی برآمد کے حوالے سے ایک معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’معاہدہ ہوگیا تو اس سے پاکستان کو سالانہ اربوں روپے حاصل ہوں گے۔‘
ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت نے دو برس قبل گدھوں کی افزائش کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت حکومت نہ صرف گدھوں کی افزائش کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ تکنیکی مہارت بھی فراہم کرتی ہے۔‘
ڈاکٹر شیر محمد نے بتایا کہ ’چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد وہ پاکستان میں گدھوں کی افزائش کا پروگرام بھی شروع کریں گے۔‘
’خیبر پختونخوا میں سات ہزار خاندانوں کا رزق گدھوں سے وابستہ ہے۔ چینی کمپنیوں کے ذریعے ان خاندانوں کی گدھوں کی افزائش کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں معقول رقم بھی ادا کی جائے گی۔‘
خیال رہے کہ پڑوسی ملک چین پاکستان سے گدھے درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہاں ان کی طلب بہت زیادہ ہے۔
چین میں گدھوں کی کھالوں سے مختلف ادویات بھی تیار کی جاتی ہیں۔

شیئر: