انگلینڈ جیت گیا، ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے شکست

کرکٹ ورلڈ کپ کے 19ویں میچ میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں برطانیہ کے شہر ساؤتھ ایمپٹن میں مدمقابل ہوئیں، انگلیںڈ نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

انگلینڈ کو جیت کیلئے 213 رنز کا ہدف ملا جسےانگلش بیٹمینوں نے باآسانی دو وکٹوں کے نقصان پر 34ویں اوور میں مکمل کر لیا۔انگلینڈ کی جانب سے اوپنرز نے 95 رنز کی بہترین اننگ کھیلی، جیسن رائے انجری کے باعث اننگز کا آغاز نہیں کرپائے۔ بیئرسٹواپنی نصف سینچری مکمل نہ کر سکے اور 45 رنز بنا کر گیبریل کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئےان کےساتھ اوپننگ کرنے والے جوئے روٹ نے سینچری بنائی اور ناٹ آؤٹ رہے۔

ووکس نے روٹ کا بھرپور ساتھ دیا اور ٹیم کے مجموعی سکور میں 40 رنز کا اضافہ کیا انکو گیبریل نے 32ویں اوور میں آؤٹ کیا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے گیبریل نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو بیٹنگ کی دعوت دی ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو شروع سے ہی دباؤ کا شکاررہی پہلی وکٹ تیسرے اوور میں گری جب لیوائس دو رنز بنا کر ووکس کی گیند پربولڈ ہو گئے، دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کرس گیل 36 رنز پر پلنکٹ کی گیند پر کیچ دے بیٹھے شائے ہوپ 11 رنز بنا پائے تھے کہ ووڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے ہٹمیئر نے ٹیم کے سکور میں 39 رنز کا اضافہ کیا اور روٹ کی گیند پر انھی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے

 ہولڈربھی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور صرف نو رنزبنا کر چلتے بنے انکا کیچ بھی وڈ نے اپنی ہی گیند پر پکڑا اس کے بعد رسل نے جارحانہ کھیل پیش کرنے کی کوشش کی مگر 21 رنز پر وہ بھی پویلین لوٹ گئے اس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی اچھا کھیل پیش نہ کر سکا بریتھ وائٹ 14، جبکہ کوٹرل اور گیبریل بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔

انگلینڈ کی جانب سے آرچر اوروڈ نے تین تین،روٹ نے دو، جبکہ ووکس اور پلنکٹ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

ورلڈ کپ مقابلوں میں دونوں ٹیمیں اب تک چھ بار مدمقابل آ چکی ہیں۔ ان مقابلوں میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو پانچ بار زیر کیا جبکہ ویسٹ انڈیز کو صرف ایک میچ میں ہی کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

1979 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹکرائیں جس میں اس وقت کی طاقتور ٹٰیم ویسٹ انڈیز نے 92 رنز سے میدان مارا۔

دوسری مرتبہ 1987 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو دو وکٹوں سے ہرا دیا اسی وکٹ کپ میں تیسری مرتبہ بھی انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو 34 رنز سے شکست دی۔

چوتھی مرتبہ 1992 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے چھ وکٹوں سے میدان مارا جبکہ پانچویں مرتبہ 2007 میں سخت مقابلے کے بعد انگلینڈد ایک وکٹ سے جیت گیا۔

چھٹی مرتبہ بھی قسمت نے ویسٹ انڈیز کا ساتھ نہ دیا اور 2011 کے ورلڈ کپ میں 18 رنز سے انگلیںڈ نے میچ جیت لیا۔

آئی سی سی رینکنگ میں بھی اس وقت انگلیںڈ دنیا کی بہترین ٹیم ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کا نمبر آٹھواں ہے مگر میگا ایونٹ میں ویسٹ انڈین پلیئرز کسی بھی ٹیم کو اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا ثبوت وہ گذشتہ میچوں میں دے چُکے ہیں۔

رواں ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہتر پرفارم کر رہی ہے۔
رواں ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہتر پرفارم کر رہی ہے۔

رواں ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو بآسانی شکست سے دوچار کرتے ہوئے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا تاہم یہ اس کی اب تک کھیلے گئے تین میچوں میں واحد فتح تھی۔

دوسری طرف ہوم کنڈیشنز میں انگلینڈ کی ٹیم اب تک کھیلے گئے اپنے تین میچوں میں سے دو میں کامیاب رہی ہے جبکہ ایک میچ میں اسے پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ماہرین کرکٹ آج کے میچ میں بھی انگلینڈ کو فیورٹ قرار دیتے ہیں تاہم ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں اچھی کارکردگی کے ذریعے دنیا کو حیران کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

شیئر: