دلچسپ مقابلہ: جنوبی افریقہ کو نیوزی لینڈ سے شکست

ورلڈ کپ کے 25 ویں میچ میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو دلچسپ مقابلے کے بعد آخری اوور میں چار وکٹوں سے ہرا دیا۔
نیوزی لینڈ کی بیٹنگ
کیویز نے اننگز کا آغاز کیا تو شروع کے اوورز میں وکٹ کا خمیازہ بھگتنا پڑا تیسرے ہی اوور میں منرو ربادا کی گیند پر ان ہی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ 15ویں اوور میں نیوزی لینڈ کی دوسری وکٹ گری گپٹل 35 رنز بنا کر فلیکوایو کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے اس کے بعد آنے جنوبی افریقہ نے دو اکھٹی وکٹیں حاصل کیں جس سے نیوزی لینڈ کی ٹیم پریشر میں آگئی ٹیلر اور لیتھم مورس کی گیند پر ایک ایک رنز بنا کر چل دیئے۔نشام نے ٹیم کے مجموعی سکور میں 23 رنز کا اضافہ کیا اور مورس کی گیند پر آملہ کے ہاتھ میں کیچ پکڑا دیا۔اس کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑی ولیم سن اور گرینڈ ہوم نے بہترین پارٹنرشپ جوڑی گرینڈ ہوم نے پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 60 رنز بنائے ڈوپلیسی نے نگیدی کی گیند پر انکا کیچ پکڑا۔ولیم سن نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف سینچری مکمل کی بلکہ آخری اوورمیں جب آٹھ رنز درکار تھے توچھکا لگا کر میچ بھی جتوا دیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اب تک مورس نے تین، جبکہ نگیدی،ربادا اور فلیکوایو نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ۔
جنوبی افریقہ کی بیٹنگ
نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کرجنوبی افریقہ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ جنوبی افریقہ نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو شروع سے ہی محتاط بیٹنگ دیکھنے میں آئی۔پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ڈی کاک تھے جو پانچ رنز بنا کر بولٹ کی گیند پر بولڈ ہوئے دوسرے نمبر پر کپتان ڈوپلیسی 23 رنز بنا کر فیرگیوسن کی گیند پربولڈ ہوئے۔اوپنر ہاشم آملہ نے ٹیم کے مجموعی سکور میں 55 رنز کا اضافہ کیا انکو سینٹنر نے بولڈ کیا۔ اس کے بعد مارکرم 38 رنز پر سیٹ ہوئے تھے کہ گرینڈ ہوم کی گیند پر منرو کو کیچ پکڑا دیا۔ڈیوڈ ملرنے 36 رنز پر فیرگیوسن کی گیند پر بولٹ کو کیچ دیا ۔فلیکوایو بغیر کوئی رنز بنائے فیرگیوسن کا شکار بنے۔ڈسن سب سے زیادہ 67 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے فیرگیوسن نے تین،جبکہ بولٹ گرینڈہوم اور سینیٹر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
موازنہ
اب تک کھیلے گئے ورلڈ کپ میچز میں دونوں ٹیمیں سات مرتبہ ٹکرائی ہیں جس میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو پانچ مرتبہ ہرایا جبکہ دو بار جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔
1992 کے ورلڈ کپ میں پہلی بار نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دی۔ اس کے بعد 1996 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں تو اس بار جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے کامیابی ملی۔ 1999 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ نے دوسری بار نیوزی لینڈ کو 74 رنز سے ہرایا۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم اب تک ورلڈ کپ میچز میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ تصویر: اے ایف پی

2003 کے ورلڈ کپ میں ایک بار پھر نیوزی لینڈ کی قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت جنوبی افریقہ کو نو وکٹوں سے شکست ہوئی۔ اس کے بعد ورلڈ کپ میچز میں نیوزی لینڈ کی جیت کا سلسلہ نہ رکا۔ 2007 میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کے خلاف پانچ وکٹوں سے اور 2011 میں 49 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ 2015 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت چار وکٹوں سے فتح حاصل ہوئی۔
آئی سی سی رینکنگ میں نیوزی لینڈ  تیسرے نمبر پر ہے۔ اس ورلڈ کپ میں کیویز نے اب تک بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ نیوزی لینڈ نے چار میچز کھیلے ہیں جن میں سے تین میں اسے فتح حاصل ہوئی ہے جبکہ انڈیا کے ساتھ میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا جس کے باعث دونوں ٹٰیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ جو آئی سی سی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر ہے، ورلڈ کپ میں اب تک خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ جنوبی افریقا نے اب تک پانچ میچز میں سے ایک میں فتح حاصل کی اور تین میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اب تک ورلڈ کپ میچز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 

آج کے میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پر دو طرح کا نفسیاتی دباؤ ہو گا، ایک تو نیوزی لینڈ کا ورلڈ کپ میچز میں برتری کا اور دوسرا اس ورلڈ کپ میں اب تک کی ناقابل شکست ٹیم سے میچ کا۔ اس لحاظ سے جنوبی افریقہ کو سب کچھ بھلا کر میدان میں اترنا ہو گا تب ہی کیویز کو زیر کیا جا سکتا ہے۔

شیئر: