علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث ریاض خلیج سے امیر افراد کے انخلا کا مرکز بن گیا
سیمیفور کے مطابق ریاض میں روزمرہ زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے۔ (فوٹو: شٹر سٹاک)
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران خلیجی ممالک سے روانگی کے خواہشمند امیر افراد اور سینیئر ایگزیکٹیوز کے لیے ریاض انخلا اک اہم مرکز بن گیا ہے۔
امریکی ڈیجیٹل ادارے سیمیفور کی رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خطے کے اُن چند بڑے ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، جبکہ ویک اینڈ پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے دبئی اور ابو ظہبی سمیت قطر اور بحرین کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
دیگر مقامات پر فضائی حدود کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے اعلیٰ عہدیدار اور دولت مند افراد زمینی راستے سے ریاض کا رخ کر رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں وہ دبئی سے تقریباً 10 گھنٹے کا سفر طے کر کے سعودی دارالحکومت پہنچتے ہیں تاکہ نجی یا کمرشل پروازوں کے ذریعے خطے سے روانہ ہو سکیں۔
سیمیفور نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنیاں اپنے گاہکوں کو ریاض منتقل کرنے کے لیے ایس یو ویز کے بیڑے کرائے پر لے رہی ہیں، جس کے بعد چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے ان کی روانگی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
انخلا کیے جانے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیدار اور کاروبار یا سیاحت کی غرض سے خلیج میں موجود مالدار افراد شامل ہیں۔
طلب میں اضافے کے باعث اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
نجی جیٹ بروکریج کمپنی ویمانا پرائیوٹ کے چیف ایگزیکٹو عامرہ نارن نے سیمیفور کو بتایا کہ اس وقت خطے سے نکلنے کے خواہشمند افراد کے لیے ریاض ’واحد حقیقی آپشن‘ ہے، اور سعودی دارالحکومت سے یورپ کے لیے چارٹرڈ جیٹ کے کرائے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
متبادل راستے محدود ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فراہم کرنے والوں نے ابتدائی طور پر عمان کو انخلا کے راستے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا تھا، لیکن اطلاعات کے مطابق ایرانی حملوں میں بندرگاہ پر تنصیبات اور ایک ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد یہ راستہ قابلِ عمل نہیں رہا، جس کے بعد ریاض سب سے زیادہ قابلِ رسائی ٹرانزٹ پوائنٹ بن گیا۔
ریاض کا یہ کردار خطے میں خطرات کے تاثر میں ایک نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں سکیورٹی خدشات، جن میں یمن تنازع کے دوران سرحد پار حوثی حملے اور علاقائی عدم استحکام کے ادوار شامل تھے، کے باعث بہت سے غیر ملکی ماہرین اور کاروباری رہنما دیگر خلیجی شہروں کو ٹرانزٹ حب کے طور پر ترجیح دیتے تھے۔
تاہم سعودی عرب کی نسبتاً لچکدار ویزا پالیسی، جس کے تحت اب متعدد ملکوں کے شہریوں کو آمد پر ویزا حاصل کرنے کی اجازت ہے، اور اب تک فضائی حدود کو کھلا رکھنے کی صلاحیت نے اسے عارضی طور پر خطے سے باہر نکلنے کے لیے ایک مرکزی دروازے کی حیثیت دے دی ہے۔
اگرچہ بعض سکولوں نے آن لائن تعلیم کا آغاز کر دیا ہے اور کچھ کمپنیوں نے عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے، تاہم سیمیفور کے مطابق ریاض میں روزمرہ زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ دیگر خلیجی شہروں کو براہِ راست حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
