امریکی انتخابات 2020: صدر ٹرمپ نے میڈیا پر تنقید کے ساتھ مہم کا آغاز کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
منگل کو ریاست فلوریڈا میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں صدارت کے عہدے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
خطاب کے دوران انہوں نے گذشتہ صدارتی مہم میں کیے گئے وعدوں کو دُہراتے ہوئے ایک بار پھر غیر قانونی امیگریشن، میڈیا اور سابقہ صدارتی حریف ہلری کلنٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
صدر ٹرمپ نے ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حریف جماعت سے تعلق رکھنے والے ’ڈیموکریٹس‘ امریکہ میں شدت پسندانہ تبدیلیاں لے کر آئیں گے اور سرحد پار سے آنے والے تارکین وطن کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں گے تاکہ انتخابات میں ان سے ووٹ حاصل کر سکیں۔
’ہمارا ملک قانون ماننے والے شہریوں کے لیے پناہ گاہ ہونا چاہیے نہ کہ غیر ملکی مجرموں کے لیے‘
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس ملک تباہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہوگا۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 57 فیصد لوگوں نے صدر ٹرمپ کی مخالفت کی۔ فوٹو: روئٹرز

صدر ٹرمپ نے اپنے حریفوں کو ’بائیں بازو کا شدت پسند ہجوم‘ قرار دیا جو امریکہ میں سوشلزم نظام لائے گا۔
’2020 میں کسی بھی ڈیموکریٹ کو ووٹ دینا ’شدت پسندانہ سوشلزم‘ کو پروان چڑھانے اور ’امریکی خواب‘ کی تباہی کے مترادف ہوگا۔‘
بیس منٹ ایک گھنٹہ کے خطاب کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا اداروں کو ’جھوٹی‘ خبریں پھیلانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کی مضبوط معیشت کا سہرا اپنے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تجارت کے معاملے پر چین پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور امریکی قوم کے اسلحہ رکھنے کے حق کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے سامنے ’خلائی فوج‘ بنانے کے منصوبے کو بھی دُہرایا اور مریخ میں خلائی مشن کا آغاز کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی عہدے پر فائز ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ  ہو گیا ہے۔ ان کاخیال ہے کہ اس عرصے میں بڑھتی ہوئی معیشت اور بے روزگاری میں کمی سے ملک میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔
روئٹرز کے تحت 11 جون کو کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 40 فیصد لوگوں نے صدر ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 57 فیصد نے ان کی مخالفت کی۔ دیگر رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ اہم ریاستوں میں اپنے ڈیموکریٹک حریف اور ثابق نائب صدر جو بائیڈن سے پیچھے ہیں۔ 
ڈیموکریٹ جماعت سے دو درجن صدارتی امیدوار نامزدگی کے لیے آپس میں مدمقابل ہیں۔ جن میں سے اکثریت رائے شماری میں ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہے۔

شیئر: