بین لگنے پر بھی’عامر عامر‘ اور جیت پر بھی ’عامر عامر‘

میچ ہارتے ہارتے جیت  جانے والے کو مقدر کا سکندر کہتے ہیں اور میچ میں سارے کیچ ڈراپ کر کے جیتنے والے کو پاکستان کہتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم رومانوی تعلق کی ابتدا میں بالکل بوائے فرینڈ کی طرح ہے۔ وہ شروع میں سہانے خواب دکھاتا ہے، دل پگھلاتا ہے، اپنے عشق میں پاگل کرتا ہے اور پھر ایک دم کہہ دیتا ہے کہ شادی کے لیے امی کو منانا مشکل ہے۔ پاکستانی ٹیم سائوتھ افریقہ کے میچ میں یہی بوائے فرینڈ تھا۔ ہمیں امید دی، محبت کروائی، جیت کے خواب دکھائے اور پھر ایک دم دو ضروری کیچ چھوڑ کے کہا، معاف کرنا جیت کو منانا ہمارے بس کی بات نہیں۔
لیکن ہم پھر بھی جیتے۔
 وہ ایک فلم کا یا پتہ نہیں کتاب کا ڈائیلاگ ہے ’جب کسی چیز نے واقعی ہونا ہوتا ہے تو پوری کائنات اس کے ہونے کی طرف مائل ہو جاتی ہے‘ اس دفعہ پاکستان کی سائوتھ افریقہ کے خلاف ہمت بڑھانے کے لیے ملک کی فوج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ انگلینڈ پہنچ گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے متوالے جہاں سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے وہاں ٹیم کا مورال بھی بلند ہوا اور جیت پاکستان کی ہوئی۔ میں تو اس جیت کا مکمل کریڈٹ پاک آرمی کو دیتی ہوں۔ پاک آرمی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
ٹاپ آرڈر کمال کر سکتا تھا، 44 سکور کر کے فخراورامام نے کہا بھائی باقی بھی کھیل لیا کرو لیکن اصل  بے بی ڈول تو حارث سہیل ثابت ہوئے۔ سب میچز میں باہر بیٹھے جانے کا سارا غصہ سہیل نے آج نکالا اور سائوتھ افریقہ کو اتنا مارا، اتنا مارا۔ انھیں دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ پچھلے دو مہینے سے لارڈز کے میدان میں ہی کھیل رہے تھے۔ اس قدر اعتماد اور میچورٹی ۔
سکور 20-30 رنز زیادہ ہو سکتا تھا لیکن نہیں ہوا کیونکہ ہمیں پسوڑی پڑ گئی تھی ۔

سب میچز میں باہر بیٹھے جانے کا سارا غصۤہ سہیل نے آج نکالا اور ساوتھ افریقہ کو خوب مارا۔ تصویر: اے ایف پی

مجھے یاد ہے جب ہماری ٹیم کے کوچ باب وولمر کی وفات ہوئی تو میں روتی ہوئی گھر کی اوپر والی منزل پر گئی، میری ماں نے مجھے دیکھا اور پوچھا کے بیٹا کون مر گیا۔ میں نے کہا باب وولمر، اس وقت مجھے ایک چپیڑ پڑی اور امۤی نے کہا 
’دماغ خراب اے تیرا، او تیرا پُھپھڑ اے‘ اس کے بعد جب 2010 میں انگیلنڈ کی سیریز میں لارڈز کے میدان میں میچ فکسنگ کا سکینڈل آیا اور سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر بین لگا تو میں پھر اسی طرح روتی ہوئی آئی کہ امۤی ہم برباد ہو گئے اور پھر وہی چپیڑ میرے منہ پر پڑی ’کیہہ او تیرا بھرا اے؟‘ تب سے لے کر عامر کی واپسی تک، میں نے صرف سسکیاں بھری ہیں کہ کتھے گیا منڈا۔
 پھر منڈے کی واپسی ہوئی، تھوڑا گھبرایا ہوا بھی لگا کیونکہ دنیا بھر کی نظریں اس پر تھیں۔ ادھر ادھر سیریز ہوئیں، زیادہ متاثر نہ کر سکا لیکن پھر عامر کی واپسی ہوئی ۔ پھر وہیں انگلینڈ میں، پھر اسی لارڈز کے میدان میں اور پھر وہی عامر تھے جو 2010 میں تھے۔ پھر وہی سوئنگ تھی جو لارڈز میں  2010  میں تھی ۔ پھر وہی میدان میں عامر عامر کی صدا تھی، جو لارڈز میں 2010 میں تھی ۔
سکور کنٹرول کیا، وکٹیں نکالیں اور بتایا کہ عامر عامر ہوتا ہے، 2010 ہو یا 2019

ٹاپ آرڈر کمال کر سکتا تھا، 44 سکور کر کے فخراورامام نے کہا بھائی باقی بھی کھیل لیا کرو۔ تصویر: اے ایف پی

سب سے زیادہ حیرانگی مجے تب ہوئی جب پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ایک کیچ لیا۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا ’یہ کیا بکواس ہے‘ جس پر میری والدہ نے کہا ’پاگل انسان آوٹ ہوا ہے رو کیوں رہی ہو‘، جی اتنی ہی بے یقینی تھی ۔ سب سے زیادہ زیادتی اس کے بعد وہاب کے ساتھ ہوئی جن کے دو کیچ چھوڑے گئے۔ پھر وہاب نے سوچا خود ہی وکٹ اڑانی پڑے گی، میری تو ٹیم ہی میری دشمن ہے وہاب آئے اور 92 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر جا کر وکٹ میں وجۤے اور بیٹسمین کو بولڈ کیا۔ اُف وہ پیس کی واپسی ، وہ وہاب کا جشن ، وہ خوبصورت یارکر، کیا لمحہ تھا ۔ وہاب نے پھر ایک اور یارکر مارا اور پھر بولڈ کیا اور دوسری وکٹ لی۔ وہاب نے یہ ثابت کر دیا کہ مجھے فیلڈر نہیں چاہیے میں اکیلا کافی ہوں اور مجھے شاداب کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ شادو آخر کار اپنی لائن کو کنٹرول کر پائے اور بہت ہی عمدہ بولنگ کر کے سکور روکا اور وکٹ بھی نکالی۔ میں پھر کہتی چلوں، شادو کی بولنگ تو ہے لیکن ان کی فیلڈنگ اس ٹیم کے لیے بہت ضروری ہے۔
یہ وہ ٹیم ہے جس نے پانچ کیچ چھوڑ کے میچ جیتا ہے۔ سوچیں یہ کیچ پکڑنے لگ جائے تو کیا ہو؟ خیر جیت مبارک ، لوگو اس جیت کے بعد اس وقت میرا دل گا رہا ہے صرف ایک ہی نغمہ
اپنی جان نذر کروں
اپنی وفا پیش کروں

شیئر: