بابر اعوان نندی پور کرپشن ریفرنس میں بری

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بابر اعوان کو نندی پور ریفرنس میں بری کیا۔ تصویر فیس بک
احتساب عدالت کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر قانون بابر اعوان کو نندی پور پاور پروجیکٹ سکینڈل سے بری کر دیا گیا ہے جبکہ اسی کیس میں سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف کی بریت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
منگل کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نندی پور پاور پروجیکٹ کے حوالے سے سکینڈل کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے بابر اعوان اور ریاض کیانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بریت کے احکامات جاری کیے جبکہ سابق وزیر اعظم راجا پرویزاشرف کی بریت کے لیے دی جانے والی درخواست مسترد کر دی۔
اس بارے میں مزید پڑھیے 
:فیصلہ سامنے آنے کے بعد صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے فون کر کے بابر اعوان کو مبارک باد بھی دی۔

نیب کے مطابق نندی پور پاور پروجیکٹ میں قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ تصویر: اے ایف پی  

نندی پور پراجیکٹ میں کیا ہوا تھا؟

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بجلی بحران کے پیش نظر نندی پور پاور پروجیکٹ سامنے آیا۔ اس حوالے سے گوجرانوالہ کے علاقے میں سائٹ پر کام بھی شروع ہوا تاہم اس مںصوبے سے مطلوبہ بجلی کی پیداوار ممکن نہ ہو سکی اور یہ بند ہو گیا۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے یہ الزامات سامنے آئے کہ پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں بعض وزرا نے اس منصوبے کو غیر ضروری طور پر دو سال التوا کا شکار رکھا جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
خیال رہے اس کیس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر قانون بابر اعوان (جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے)، سابق سیکرٹری قانون مسعود چشتی، ریاض کیانی، سینیئر جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر ریاض محمود، سابق ریسرچ کنسلٹنٹ شمائلہ محمود اور سابق سیکرٹری شاہد رفیق پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

شیئر: