اپوزیشن کی اے پی سی کامیاب یا فیس سیونگ؟

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی اس کی کامیابی اور ناکامی پر بحث کا آغاز ہوگیا اور پاکستانی میڈیا نے حکومت مخالف تحریک، اسمبلیوں سے استعفوں، لانگ مارچ اور لاک ڈاون جیسے اقدامات کو کامیابی کے لیے بینچ مارک قرار دیا ہے۔
اے پی سی میں بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ عدم شمولیت کی خبروں نے بھی اس کی ساکھ اوراہمیت کو نقصان پہنچایا، لیکن اے پی سی کی کوریج کرنے والے صحافی خالد محمود کے مطابق قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے باوجود بلاول اور شہباز شریف کی شرکت سے قبل ازانعقاد ناکامی کا تاثر زائل ہوگیا۔
قومی اسمبلی میں کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دن اے پی سی بلانے پر بھی بحث جاری رہی۔ صحافی ایم بی سومرو نے کہا کہ اپوزیشن کو آج اے پی سی ملتوی کرکے اسمبلی میں ہونا چاہیے تھا۔ اب تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن بجٹ مسترد کرنے کے دعوے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ 

 

 
اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک سمیت دیگر امور پر تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے معاملے میں لفظ انشاءاللہ حاوی رہا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب کچھ دیر کی شرکت کے بعد اسمبلی کے لیے روانہ ہوئے تو میڈیا نمائندگان کے سوالوں کے جواب میں انھوں نے انشاءاللہ پر ہی انحصار کیا۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں اگرچہ تحریک چلانے پر زور دیا لیکن جب ان سے اسی معاملے پر سوال کیا گیا تو انھوں نے بھی انشاءاللہ، انشاءاللہ کہہ کر آگے بڑھ جانا ہی مناسب سمجھا۔ 
اے پی سی میں پیپلزپارٹی کے تحفظات کے باوجود چئیرمین سینیٹ کو ہٹائے جانے اور مولانا فضل الرحمن کی تجویز پر 25 جولائی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اے پی سی میں شرکت کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ یہ حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے زیادہ دیر نہیں چلے گی، اور اپوزیشن کو اسے گرانے کے لیے زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اردو نیوز نے اے پی سی کور کرنے والے دو درجن سے زائد صحافیوں سے سوال کیا کہ ان کی نظر میں یہ فیصلے اے پی سی کی کامیابی ہیں یا فیس سیونگ ہے؟ جس پر کم و بیش تمام رپورٹرز کا اتفاق تھا کہ اے پی سی کا ایجنڈا حکومت مخالف تحریک پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا اور اگر تمام جماعتیں فوری طور پر اس پر متفق نہیں ہوئیں تو چئیرمین سینیٹ کو قربانی کا بکرا بنا کر پوری اپوزیشن بالخصوص جے یو آئی ف کو فیس سیونگ کا موقع دیا گیا ہے۔ 
 

 صحافیوں کا خیال ہے کہ بظاہر یہ جماعتیں فوری طور پر کسی بڑی عوامی تحریک کی طرف نہیں جا رہیں بلکہ مشترکہ کمیٹی تشکیل دے کر لائحہ عمل مرتب کرنے کے نام پر اپنے اپنے معاملات سدھارنے، مقدمات میں پیش رفت کا انتظار اور حکومتی رویے پر غور کریں گی۔
واضح رہے کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں کیا گیا جب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا پہلا باضابطہ بجٹ پاس کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں اسے ناکام بنانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ 
یاد رہے کہ 19 مئی کو بلاول بھٹو زرداری کی دعوت افطار پر جمع ہونے والی اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کی میزبانی میں حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا تاہم اپوزیشن اورایم ایم اے اتحاد میں شامل جماعت اسلامی نے دعوت کے باوجود شرکت نہیں کی۔

شیئر: