آسکر کی نئی فہرست میں ہالی وڈ کے ستاروں کے علاوہ کون شامل ہے؟

آسکر کی نئی فہرست میں سنگر اور اداکارہ لیڈی گاگا بھی شامل ہیں، تصویر اے ایف پی
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنس (آسکر) نے اپنی تنظیم میں نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لیے پیر کو ایک تازہ فہرست جاری کی ہے جس میں ہالی وڈ کے ستاروں کے علاؤہ انڈین سینیما کی چار شخصیات اداکار انوپم کھیر فلم ساز اور ہدایت کار زویا اختر، انوراگ کشیپ اور رتیش بترا بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل 2017 میں اکیڈمی نے اپنے اراکین میں شاہ رخ خان اور نصیرالدین شاہ کو شامل کیا تھا۔

انوپم کھیر اس سے قبل خود کو آسکر کی فہرست میں شامل کرنے اپیل کر چکے ہیں، تصویر اے ایف پی

اکیڈمی کی تازہ فہرست اس بات کی غماز ہے کہ وہ اب امریکہ اور یورپ کے علاوہ باہر کی دنیا سے بھی نمائندگی چاہتی ہے۔
پیر کو جاری نئی فہرست میں شامل فلمی شخصیات اور موسیقاروں میں لیڈی گاگا، الیزابیتھ موس، کلیری بلوم، جاں لوئی ٹریٹگناں، جیمی بیل، سٹرلنگ براؤن، ٹام ہالینڈ، جنیفر اہلے، بیرو کیونگھن، ٹریسی لیٹس، ڈیمیئن لوئس، آرچی پنجابی، کیون پولک، آمنڈا پیٹ وغیرہ اہم ہیں۔

لیڈی گاگا اور ماڈل مکینا کارٹ کی ایک تقریب میں لی گئی تصویر، اے ایف پی

ڈی اکیڈمی نے پیر کو ایک ٹویٹ کیا جس میں لکھا تھا ’آج تک کا بہترین دن، ہم لوگ ان 842 اثر انگیز شخصیات کو اکیڈمی میں مدعو کرنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں۔‘
اس ٹویٹ میں یہ بھی لکھا گيا کہ اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے آپ لکھیں ’وی آر دی اکیڈمی۔‘
بالی وڈ کے معروف ہدایت کار اور فلم ساز انوراگ کشیپ نے اس کے جواب میں بس اتنا ہی لکھا کہ ’وی آر دی اکیڈمی۔‘

امریکی ٹیلیویژن کی اداکارہ الیزبتھ موس کو اس سے قبل ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، تصویر اے ایف پی

اس ٹویٹ میں دیے گئے لنک پر اکیڈمی نے اس نئی فہرست میں جن 842 لوگوں کو مدعو کیا ہے ان کا تعلق 59 مختلف ممالک سے ہے اور ان میں سے نصف خواتین ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں اکیڈمی کو مردوں اور سفید فام افراد کی اجارہ داری کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اداکار جیمی بیل بھی آسکر کی اس نئی فہرست میں شامل ہیں، تصویر اے ایف پی

2015 تک اس میں صرف 25 فیصد خواتین تھیں جبکہ اس بار جو 50 فیصد خواتین کو مدعو کیا گيا ہے ان کو ملا کر مجموعی طور پر اکیڈمی کے اراکین میں ان کا حصہ 32 فیصد بنتا ہے۔
دوسری جانب جہاں سفید فاموں کے علاوہ صرف آٹھ فیصد افراد اکیڈمی کی نمائندگی کر رہے تھے وہ 2019 میں بڑھ کر 16 فیصد ہو گئی ہے کیونکہ نئے مدعو اراکین میں 29 فیصد غیر سفید فام شامل ہیں۔

شیئر:



متعلقہ خبریں