Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قادر خان: ایک اُستاد جو مکالمہ نگاری سے منفرد اداکاری تک اپنی الگ پہچان بنا گیا

زندگی کے آخری برسوں میں قادر خان خاندانی وجوہات کی بنا پر کینیڈا منتقل ہوئے۔ فائل فوٹو: سکرین گریب
انڈین فلم انڈسٹری یوں تو بہت سی گوناگوں خوبیوں کے مالکوں سے بھری پڑی ہے لیکن ان میں ایک شخص ایسا ہے جس نے جتنے متنوع کردار ادا کیے کم ہی کسی کے حصے میں آئے۔
وہ شخصیت انڈیا سے دور کابل میں پیدا ہونے والے قادر خان ہیں جن کی زندگی ایک خاموش مگر پختہ عزم سے بھرپور سفر کی کہانی ہے جو زبان، تعلیم اور عوامی ثقافت کے گرد گھومتی ہے۔ آج ہم سال کے آخری دن قادر خان پر اس لیے بات کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے میدان عمل سے دور کینیڈا میں آج ہی کے دن آخری سانسیں لیں۔
وہ بیک وقت ایک استاد، ایک مصنف یا لکھاری، ایک سٹیج آرٹسٹ تھے جو بعد میں سکرپٹ رائٹر، مکالمہ نگار اور اداکار بنے۔ ان کی اداکاری میں جہاں سنجیدہ کردار تھے وہیں وہ خوف پیدا کرنے والے ولن اور ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دینے والے کامیڈی کے کرادر بھی شامل تھے۔
لیکن قادر خان کی صلاحیت کی سب سے پہلے جس شخص نے پزیرائی کی اسے لوگ دلیپ کمار کے نام سے جانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کامیڈین آغا صاحب نے قادر خان کا تحریر کردہ ڈرامہ ’تاش کے پتے‘ دیکھا اور انہوں نے اس کا تذکرہ دلیپ کمار سے کیا۔ دلیپ کمار نے قادر خان کو فون کیا اور کہا کہ وہ یوسف ہیں تو قادر خان انہیں نہ پہچان سکے اور پھر دلیپ کمار کو خود اپنا تعارف کرانا پڑا۔
سکرین میگزین سے بات کرتے ہوئے قادر خان نے اس گفتگو کا تذکرہ کیا: ’میں پڑھا رہا تھا جب آفس بوائے نے مجھے بتایا کہ ایک فون آیا، جب میں نے فون اٹھایا تو آواز آئی کہ ’میں یوسف بول رہا ہوں۔‘ میں نے پوچھا، ’کون یوسف؟‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’انڈسٹری کے لوگ مجھے دلیپ کمار کہتے ہیں۔‘ یہ سن کر میں کانپنے لگا۔‘
جب دلیپ کمار نے کہا کہ وہ ان کا ڈرامہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ’میں نے دو شرطیں رکھی ہیں کہ وہ وقت سے پہلے آئيں اور پورا ڈرامہ دیکھیں۔ انہوں نے ہامی بھر لی۔ جب ڈرامہ ختم ہوا تو ان کی آنکھیں سرخ تھیں، وہ رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں میری پرفارمنس بہت پسند آئی۔‘
چنانچہ دلیپ کمار نے ان کی نہ صرف مکالمہ نگاری کی جانب حوصلہ افزائی کی بلکہ انہوں نے قادر خان کو فورا ہی اپنی آنے والی فلم ’سگینہ مہتو‘ میں ایک اہم کردار کی پیشکش کر دی اور اس کے بعد سب تاریخ کا حصہ ہے۔ بعد ازاں دلیپ کمار نے اپنی فلم ’بیراگ‘ میں بھی قادر خان کو ایک اہم کردار دیا۔
قادر خان کا سفر جتنا فلمی سیٹ اور تالیوں سے تشکیل پایا اتنا ہی درسگاہوں اور کتابوں سے بھی۔ وہ 22 اکتوبر 1937 کو کابل، افغانستان میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد ان کی والدہ بہتر مستقبل کی تلاش میں خاندان کو بمبئی (موجودہ ممبئی) لے آئیں۔

بالی وڈ کے ’اینگری ینگ مین‘ امیتابھ بچن کے ساتھ ان کی شراکت خاص طور پر مشہور ہوئی۔ فائل فوٹو: انڈین میڈیا

شہر کے گنجان اور محدود وسائل والے علاقوں میں ان کا بچپن گزرا، جہاں زندگی ایک خاص قسم کے نظم و ضبط اور صبر کا تقاضا کرتی تھی۔ ابتدائی برسوں کی یہ معاشی تنگی ان کی شخصیت میں رچ بس گئی اور بعد کے زمانے میں ان کی تحریر اور اداکاری میں جھلکتی ہوئی ہمدردی کی بنیاد بنی۔
قادر خان نے اسماعیل یوسف کالج سے تعلیم حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں ڈگری لی۔ یہ حقیقت غیرمعمولی ہے کہ فلمی دنیا میں پہچان بنانے سے بہت پہلے وہ ایک استاد تھے۔ انہوں نے ممبئی کے ایم ایچ صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔
طلبہ انہیں ایک سخت مگر متاثر کن استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ پیچیدہ مضامین کو وہ اس انداز سے بیان کرتے کہ بات سمجھ میں بھی آتی اور دل میں بھی اترتی۔ تدریس ان کے لیے مجبوری نہیں بلکہ فخر کی بات تھی، اور وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ طلبہ کے سامنے کھڑے ہو کر بولنے سے انہیں سامعین کو سمجھنے کا ہنر ملا، جو بعد میں فلمی دنیا میں ان کے بہت کام آیا۔
لیکن تحریر ان کا خاموش شوق تھا۔ قدر خان کو ہندی، اردو اور فارسی زبان پر گہری دسترس حاصل تھی، جسے انہوں نے اپنے وسیع مطالعے اور سماجی مشاہدے سے نکھارا۔ انہوں نے ابتدا میں ڈرامے اور مکالمے لکھے، بغیر اس ارادے کے کہ فلموں میں قدم رکھیں گے۔ اپنے ایک انٹرویو میں قادر خان نے بتایا کہ یہ کیسا عجیب احساس تھا کہ دن میں امتحانی پرچے جانچنے والا شخص رات کو انڈین سینما کے عظیم فنکاروں کے ساتھ فلم کے مناظر پر گفتگو کرتا تھا۔
چنانچہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں قادر خان فلمی دنیا کے مقبول ترین مکالمہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے 200 سے زائد فلموں کے لیے مکالمے تحریر کیے، جن میں اس دور کی کئی یادگار فلمیں شامل ہیں۔
بالی وڈ کے ’اینگری ینگ مین‘ امیتابھ بچن کے ساتھ ان کی شراکت خاص طور پر مشہور ہوئی۔ ’امر اکبر انتھونی‘، ’مقدر کا سکندر‘ اور ’قُلی‘ جیسی فلموں کے مکالمے آج بھی اس لیے یاد کیے جاتے ہیں کہ وہ نہ تو شور تھے نہ بناوٹ، بلکہ زندگی کے تجربے سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔

سنہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں ان کی فلموں میں موجودگی کم ہو گئی۔ فائل فوٹو: سکرین گریب

قادر خان کے نزدیک مکالمہ محض آرائش نہیں بلکہ کردار کی روح تھا۔ اگرچہ انہوں نے ’سگینہ مہتو‘ سے قبل ایک دو چھوٹے چھوٹے کردار نبھائے تھے لیکن اس کے بعد ہدایت کاروں نے محسوس کیا کہ جو شخص ایسے مضبوط کردار لکھ سکتا ہے، وہ خود انہیں نبھا بھی سکتا ہے۔
ابتدا میں قادر خان نے سنجیدہ ضمنی کردار ادا کیے، اکثر باوقار یا اخلاقی کشمکش کا شکار شخصیات کے طور پر۔ وقت کے ساتھ خصوصاً 1990 کی دہائی میں، ان کی مزاحیہ صلاحیت نمایاں ہو گئی۔ ڈیوڈ دھون کے ساتھ ان کی فلمیں اس دور کی مقبول کامیڈی کی علامت بن گئیں۔ ’قلی نمبر ون‘، ’ساجن چلے سسرال‘ اور ’دلہے راجا‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری اس لیے منفرد تھی کہ مبالغے کے باوجود اس میں انسانی سچائی موجود رہتی تھی۔
اس زمانے کا ایک مشہور واقعہ بدیہی مکالموں سے متعلق ہے۔ قادر خان شوٹنگ کے دوران اگر کسی جملے کی روانی بہتر محسوس کرتے تو معمولی سی تبدیلی کر لیتے تھے۔ نوجوان اداکار انہیں غور سے دیکھتے اور سیکھتے کہ وقفہ، لہجہ اور حرکات ایک منظر کو کیسے بدل دیتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ کبھی دوسروں پر حاوی ہونے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ کئی ساتھی فنکاروں نے بتایا کہ وہ نئے اداکاروں کی گھبراہٹ کم کرنے کے لیے ان کے ساتھ صبر سے ریہرسل کرتے، جیسے ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ کرتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ استاد ان کے اندر ہمیشہ زندہ رہا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح امیتابھ بچن جب کسی مکالمے کو ادا کرنے کے معاملے کشمکش کا شکار ہوتے تو وہ فورا قادر خان سے رجوع کرتے کہ کسی خاص جملے اور لفظ کو کس طرح ادا کریں اور قادر خان کبھی تو آمنے سامنے ان کی مشکل حل کر دیتے اور کبھی فون پر ہی ان کے لیے آسانی کر دیتے۔

ولن کے طور پر انہیں امیتابھ کی فلم ’خون پسینہ‘، ’پرورش‘، ’قلی‘، ’سہاگ‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹو: سکرین گریب

اگر دلیپ کمار نے قادر خان کو راستہ دکھایا تو امیتابھ بچن نے اس راستے پر انہیں عوامی مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں امیتابھ بچن جس ’اینگری ینگ مین‘ کی شبیہ کے ساتھ ابھرے، اس کی زبان اور لہجے کی تشکیل میں قادر خان کے مکالموں کا بڑا ہاتھ تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قادر خان اور امیتابھ بچن کے درمیان تعلق صرف لکھاری اور اداکار کا نہیں تھا، بلکہ ایک دوسرے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا تھا۔ قادر خان جانتے تھے کہ امیتابھ مکالمے کی رعب و  آہنگ کو درست طور پر ادا کر سکتے ہیں، جبکہ امیتابھ کو یقین تھا کہ قادر خان کے لکھے ہوئے الفاظ ان کے کردار کو مضبوط بنائیں گے۔ شوٹنگ کے دوران اکثر ایسا ہوتا کہ دونوں کسی مکالمے پر مختصر گفتگو کرتے اور اس کی ادائیگی میں معمولی رد و بدل کر کے اسے مزید مؤثر بنا دیتے۔ یہ باہمی ہم آہنگی اس دور کی فلموں میں صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ لیکن پھر دونوں کے درمیان دوریاں پیدا ہو گئیں لیکن تلخی نہیں آئی۔
زبان ان کی شناخت کا مرکز رہی۔ قادر خان اکثر اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے تھے کہ فلموں میں خالص ہندی اور اردو کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مقبول سینما تفریح فراہم کرتے ہوئے بھی زبان کی عزت قائم رکھ سکتا ہے۔ یہی سوچ ان کے کام میں جھلکتی رہی، چاہے تجارتی رجحانات کتنے ہی بدل کیوں نہ جائیں۔
سنہ 1990 کے اواخر اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں اگرچہ ان کی فلموں میں موجودگی کم ہو گئی، مگر ان کا اثر برقرار رہا۔ کئی لکھاری اور اداکار انہیں مکالمہ نگاری کا معیار سمجھتے رہے۔

قادر خان کا انتقال 31 دسمبر 2018 کو کینیڈا میں ہوا۔ فوٹو: سکرین گریب

زندگی کے آخری برسوں میں قادر خان صحت اور خاندانی وجوہات کی بنا پر کینیڈا منتقل ہو گئے۔ فلمی دنیا سے دوری کا مطلب فکری دوری نہیں تھا۔ ان کے انٹرویوز میں زندگی کے تجربات، انکساری اور صاف گوئی نمایاں رہتی تھی۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ کامیابی عارضی ہوتی ہے، مگر خودداری مستقل قدر ہے۔ سنہ 2013 میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا، جو ان کے فلمی خدمات کا باضابطہ اعتراف تھا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ اعزاز تاخیر سے ملا، مگر اس نے ایک ایسے شخص کو خراجِ تحسین پیش کیا جس کے الفاظ نے کئی دہائیوں تک کہانیوں کو زندگی بخشی۔
ولن کے طور پر انہیں امیتابھ بچن کی فلم ’خون پسینہ‘، ’پرورش‘، ’قلی‘، ’سہاگ‘ میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے علاوہ انہیں ’انگار‘، ’دو اور دو پانچ‘، ’ہمت والا‘، ’انقلاب‘، ’گرفتار‘، ’انصاف کی آواز‘، ’پاتال بھیروی‘، ’بیٹا نمبری باپ دس نمبری‘، ’خون کا قرض‘ وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کامیڈین کے رول میں انہوں نے شکتی کپور اور گوندا کے ساتھ جو دھمال مچایا ہے وہ پھر فلم انڈسٹری میں نظر نہیں آیا۔
قادر خان کا انتقال 31 دسمبر 2018 کو ہوا۔ ان کے لیے خراجِ عقیدت محض کامیاب فلموں یا مشہور مناظر تک محدود نہیں رہا۔ لوگ انہیں ایک خودساختہ انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جو تعلیم، زبان اور وقار کو اہمیت دیتا تھا، ایک ایسے لکھاری کے طور پر جو عام انسان کی نبض پہچانتا تھا، اور ایک ایسے اداکار کے طور پر جو بغیر تلخی کے ہنسا سکتا تھا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ سینما صرف چکاچوند کا نام نہیں، بلکہ محنت، فکر اور درست لفظ کے خاموش مگر طاقتور اثر کا نام بھی ہے۔

 

شیئر: