Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2025 میں کتنے پاکستانی یورپ جانے کی کوشش میں سمندر سے پکڑے گئے؟

سنہ 2025 میں پکڑے جانے والوں میں دو ہزار 379 خواتین اور 973 بچے تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سال 2025 میں بھی وسطی بحیرہ روم کا نیلا سمندر ان کہانیوں سے بھرا دکھائی دیا جو اُن لوگوں کی ہیں جو بہتر زندگی کی تلاش میں اپنے گھروں سے نکلے مگر یورپ تک پہنچنے سے پہلے ہی یا تو واپس دھکیل دیے گئے یا ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔
سال بھر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ راستہ آج بھی نقل مکانی کرنے والوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شامل ہے، اور اس خطرے کا سب سے زیادہ شکار پاکستانی شہری ہوئے۔
جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 26 ہزار 940 پناہ گزینوں کو وسطی بحیرہ روم میں روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ یہ محض ایک سال کا ڈیٹا نہیں بلکہ سختیوں کے باوجود بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی ہے۔ سنہ 2023 میں یہ تعداد 17 ہزار 190 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 21 ہزار 762 ہو گئی، اور 2025 میں اس نے ایک نئی حد چھو لی۔ 
ان اعداد کے پیچھے چھپی حقیقت کہیں زیادہ دردناک ہے۔ سنہ 2025 میں پکڑے جانے والوں میں 23 ہزار 380 مرد، 2 ہزار 379 خواتین اور 973 بچے شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سفر اب صرف نوجوان مردوں کا نہیں رہا بلکہ پورے خاندان اس خطرے کو مول لینے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ 
اگرچہ زیادہ تر رپورٹس میں قومیتوں کی تفصیل درج نہیں ہوتی، لیکن انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہری اس راستے پر سب سے نمایاں قومیتوں میں شامل رہے۔
اندازوں کے مطابق 2025 میں واپس بھیجے گئے افراد میں چار سے 6 ہزار پاکستانی شہری شامل تھے۔ اس سے پہلے 2023 میں یہ تعداد تقریباً 3 ہزار 500 سے چار ہزار اور 2024 میں چار ہزار سے زائد رہی۔ یوں صرف تین برسوں میں کم از کم 12 سے 15 ہزار پاکستانی براہِ راست اس خطرناک راستے سے واپس موڑے گئے۔
لیبیا میں پکڑے جانے والے ایک نوجوان پاکستانی محمد افضل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں کہا گیا تھا کہ بس دو دن کا سفر ہے، یورپ پہنچتے ہی سب بدل جائے گا۔ لیکن سمندر میں کشتی رک گئی، پھر ہمیں پکڑ لیا گیا۔ کچھ دن تک لیبیا کی جیل میں رکھا گیا اور بعد میں ہمیں ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ لیبیا کی جیل میں جو مناظر دیکھے وہ ناقابل بیان ہیں۔‘
یورپ جانے کی خواہش رکھنے والے پاکستانیوں کا سفر عموماً مختلف ممالک سے ہوتا ہوا لیبیا کے ساحل تک پہنچتا ہے۔ یہاں سے یورپ کا فاصلہ بظاہر کم نظر آتا ہے، مگر یہی چند گھنٹوں یا دنوں کا سفر اکثر زندگی اور موت کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ اگرچہ سمندر میں نگرانی کے باعث بعض بڑے حادثات ٹل گئے، لیکن وسطی بحیرہ روم اب بھی جان لیوا ہے۔
جون 2023 میں یونان کے قریب پیش آنے والا سانحہ اس کی سب سے دل دہلا دینے والی مثال ہے جہاں 600 سے زائد افراد جان سے گئے اور ان میں اندازاً 350 پاکستانی شامل تھے۔

ہزاروں افراد کو سمندر سے واپس لیبیا بھیجا جاتا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

سنہ 2024 اور 2025 میں اگرچہ ایسے بڑے سانحات کم ہوئے مگر چھوٹے حادثات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رکا نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 962 اموات اور ایک ہزار 536 افراد لاپتہ ہوئے، جبکہ 2024 میں 665 اموات اور ایک ہزار 34 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے بہت سوں کی شناخت آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔
گجرات کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک والد، جن کا بیٹا اس سفر میں لاپتہ ہو گیا، آج بھی اُس کے منتظر ہیں۔
انتظار کرنے والے والد کا کہنا ہے کہ ’ایجنٹ نے بتایا تھا بیٹا اٹلی کے سفر پر روانہ ہوا ہے پھر اس کا فون بند ہو گیا۔ کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملی تو کچھ دن اس انتظار میں گزرے کہ شاید کہیں سے کوئی اچھی خبر مل جائے گی لیکن تین سال ہو گئے نہ لاش ملی، نہ خبر، ہمارے لیے تو ہر دن قیامت جیسا ہے۔‘
آئی او ایم بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ لیبیا کو پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ملک نہیں سمجھتی، اس کے باوجود ہزاروں افراد کو سمندر سے واپس وہیں بھیجا جا رہا ہے جہاں حراستی مراکز میں بدسلوکی کی شکایات عام ہیں۔ یوں سمندر سے بچ جانے والے بہت سے لوگ زمین پر ایک اور آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔

 

شیئر: