دوست کی تصویراپ لوڈ کرنے پر31 ہزار درہم جرمانہ

اماراتی قانون کے مطابق بغیر اجازت کسی کی نجی تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کر نا قابل سزا جرم ہے۔ تصویر اے ایف پی
دوست کی تصویر بلا اجازت سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ایک عرب نوجوان کو 31 ہزار درہم کا پڑ گیا۔
ابوظہبی کی عدالت نے نوجوان کو بلا اجازت اپنے دوست کی تصویر شیئر کرنے پر 10 ہزار درہم جرمانے اور 21 ہزار درہم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
اخبار ’امارات الیوم‘ کے مطابق ابوظہبی پبلک پراسیکیوشن نے نوجوان پر فرد جرم عائد کی تھی کہ اس نے اپنے دوست سے اجازت لیے بغیر اس کی نجی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کر کے اماراتی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
امارات نے 2012 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی جرائم کے انسداد کا قانون جاری کیا تھا جس کی دفعات 21/3،1،41 اور 42 میں بغیر اجازت کسی کی نجی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔
ابوظبی پرائمری کورٹ نے عرب شہری کو مبینہ جرم کا مرتکب قرار دے کر اس پر 10 ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا تھا اور حق تلفی پر مدعی کو 21 ہزار درہم عارضی معاوضے کی شکل میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ابوظبی پرائمری کورٹ نے عرب شہری کو مبینہ جرم کا مرتکب قرار دیکر اس پر 10ہزار درہم کا جرمانہ کیا۔ تصویر اے ایف پی 

عدالت نے مدعا علیہ کو مقدمے کے جملہ اخراجات بھی ادا کرنے کا پابند بنایا ہے۔ مدعا علیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اماراتی قانون کی تشریح میں غلطی ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ استدلال میں بھی گڑ بڑ ہوئی ہے جبکہ اس پر قانون کی خلاف ورزی کا الزام بھی سوال کے دائرے میں ہے۔
 مدعا علیہ نے ایک دستاویز پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس نے جو تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہے خود مدعی اپنی وہ تصویر سوشل میڈیا پر پہلے ہی جاری کر چکا تھا۔ مدعا علیہ نے اس امر کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی کہ نجی حیثیت کو مجروح کرنے کا کوئی عملی ثبوت اس کے خلاف نہیں ہے لہٰذا مدعی کا یہ کہنا کہ سوشل میڈیا پر اس کی تصویر جاری کرنے سے اسے نقصان پہنچا ہے یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ مدعا علیہ نے اپنی صفائی میں یہ بھی کہا کہ جرم میں سب سے اہم عنصر واردات کا قصد مانا جاتا ہے اور وہ بھی اس مقدمہ میں ناپید ہے جبکہ مدعی کا بیان تضاد پر مشتمل ہے لہٰذا اس کے خلاف فیصلہ واپس لیا جائے ۔
ابوظبی کی اعلیٰ عدالت نے مدعا علیہ کے تمام دلائل مسترد کر کے سابقہ فیصلے کی توثیق کردی۔ عدالت نے فیصلے میں وضاحت کی کہ عدالت کا فیصلہ کسی ایک ثبوت پر نہیں بلکہ مجموعی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

شیئر: