’وہاں فلم نہیں بن رہی تھی کہ کیمرے لے کر پہنچ جاتے‘

بات پندرہ کلو ہیروئن کی نہیں ملکی وقار کی ہے: شہریار آفریدی
وزیر مملکت برائے نارکوٹیکس کنٹرول اور سیفران شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے حوالے سے ثبوت عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ 
جمعرات کو اسلام آباد میں ڈی جی اے این ایف محمد عارف کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں شہریار آفریدی سے رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی ویڈیو یا تصویر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم چیز گواہ ہیں جبکہ دوسرے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ 
اسی سوال کے جواب میں اسی وقت ڈی جی اے این ایف محمد عارف نے کہا کہ ’وہاں کوئی فلم نہیں بن رہی تھی، کہ ہم کیمرے لے کر پہنچ جاتے اور کہا جاتا پھر سے بریف کیس پکڑائیں، ری ٹیک کرنا ہے‘  
شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ جیسے لوگ اپنے سٹیٹس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی گاڑیوں میں سمگلنگ ہوتی ہے کیونکہ ان کو ناکوں پر نہیں روکا جاتا اور نہ ہی  تلاشی ہوتی ہے۔
شہریار آفریدی کا کہنا تھا  کہ حکومت کی جرائم کے خلاف پالیسی زیرو ٹالیرنس کی ہے، ہر غلط کام کرنے والا پکڑا جائے گا۔ بڑے مگرمچھوں پر بھی ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں۔
ریمانڈ کے حوالے سے پوچھے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ریمانڈ کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں ثبوت نہ ہو۔

رانا ثنا اللہ پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر ہیں (اے ایف پی فوٹو)

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس سے حساس معلومات جڑی ہیں اس لیے تمام تفصیلات نہیں دی جا سکتیں کیونکہ اس کے دوسرے کردار ملک چھوڑ جائیں گے۔ ہم قوم کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اب مقدس گائے کوئی نہیں ہے۔
بات پندرہ کلو ہیروئن کی نہیں ملکی وقار کی ہے۔
ڈی جی اے این ایف کا مزید کہنا تھا کہ اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے جس سے بے شمار کامیاب کارروائیاں کی ہیں، یہ بغیر ثبوت کے کوئی کارروائی نہیں کرتی۔
خیال رہے کہ منگل کو لاہور کی ایک مقامی عدالت نے مسلم لیگ پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا نثا اللہ سمیت دیگر ملزموں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
انھیں پیر کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے سکھیکی انٹرچینج کے قریب موٹر وے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

شیئر: