’نواز شریف کے خلاف فیصلہ دباؤ میں کرایا گیا‘

لاہور میں مسلم لیگ ن کی سنیئر قیادت کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کی نائب صدر مریم نواز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا سنانے والے نیب عدالت کے جج اور نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ کی خفیہ کیمرے سے بنی  ایک  مبینہ ویڈیو دکھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ’سزا دینے والا جج خود بول اٹھا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی اور فیصلہ کیا نہیں صرف سنایا گیا ہے۔‘ 
خیال رہے کہ العزیزیہ ریفرنس کی سزا کے نتیجے میں نواز شریف آج کل جیل میں ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ اس وڈیو اور آڈیو ٹیپ کا فارنزک آڈٹ ہوگا جس کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ یہ ٹیپ اور آڈیو کتنا معتبر ہے۔ حقیقت ہے یا بنایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ ٹیپ کو عدالتوں میں لے جا کر اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ عدالتیں بااختیار ہیں جبکہ آپ کے دور میں قانون کو غلام بنا رکھا گیا تھا اور جس شخص کو بنیاد بنا کر ٹیپ سامنے لایا گیا ہے، اس کا اصل چہرہ سامنے لانا ضروری ہے۔‘
لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ناصر بٹ کی احتساب عدالت کے جج سے پرانی جان پہچان تھی۔ جج صاحب نے فیصلے کے بعد ناصر بٹ کو کہا کہ ’میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میں نے میاں نواز شریف کے ساتھ زیادتی کی ہے۔‘ 

 

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے تسلیم کیا کہ ’العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف پر کمیشن لینے یا کرپش کرنے کے کوئی الزامات ہیں اور نہ ہی شواہد۔ اور یہ کہ نیب کا کوئی بھی افسر ثبوت جمع کرنے سعودی عرب گیا ہی نہیں۔‘
مریم نے انکشاف کیا کہ جج کو ان کی نجی زندگی کی ایک ذاتی نوعیت کی وڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا اور اپنی مرضی کا فیصلہ کروایا گیا۔
ن لیگ کی نائب صدر نے مزید بتایا کہ ’وڈیو میں جج نے پانامہ کیس کا حوالے دینے ہوئے ناصر بٹ سے کہا کہ میاں صاحب کا لندن پراپرٹیز کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا تھا، نواز شریف کے خلاف آنے والے فیصلے قانون سے متصادم ہیں۔ کوئی شہادت ہی نہیں تھی کہ جائیدادیں نواز شریف کے پیسوں سے خریدی گئیں۔ ایک کیس میں بری کر دیا لیکن دوسرے میں بھی وہی الزامات تھے، اس میں سزا دے دی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ ـمیں نے کہا تھا کہ نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دوں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ ـمیں نے کہا تھا کہ نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دوں گی۔ فوٹو اے ایف پی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مبینہ طور پر جج نے تسلیم کیا کہ ’العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف پر کمیشن لینے یا کرپشن کرنے کے کوئی الزامات ہیں اور نہ ہی شواہد۔ اور یہ کہ نیب کا کوئی بھی افسر ثبوت جمع کرنے سعودی عرب گیا ہی نہیں۔‘

 

مریم نواز نے پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ کہا کہ آج کے بعد وہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے لبادے میں اپنا نااہلی چھپانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ان الزامات کی حقیقت آج سامنے آ گئی ہے۔
” لوگوں سے کہتا تھا کہ نواز شریف امپائر سے مل کر کھیلتا ہے۔ تو آج پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ امپائر سے مل کر کون کھیلتا رہا اور نہ صرف کھیلتا رہا بلکہ چن چن کر کر اپنے سیاسی مخالفین کو میدان سے اٹھوایا۔‘

 

پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے آج کی پریس کانفرنس کا ’عہد ساز‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ناصرف الزامات کا شکار لوگوں کی عزت بحال کرے گی بلکہ پاکستان کی تاریخ بھی دوبارہ لکھے گی۔‘

شیئر: