حماس کی بورڈ آف پیس کے ایلچیوں سے مذاکرات، ایران جنگ سے غزہ جنگ بندی کو خطرہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ایلچیوں نے قاہرہ میں حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ جنگ بندی اس وقت شدید دباؤ میں ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کر رکھی ہے۔ اس بات کی تصدیق تین ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو کی۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے آخر میں ہونے والی یہ ملاقات ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی عوامی طور پر رپورٹ ہونے والی ملاقات ہے۔ یہ ملاقات فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور ’بورڈ آف پیس‘ کے درمیان ہوئی، جو ایک نیا بین الاقوامی ادارہ ہے اور جس کی سربراہی ذاتی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔ اس ادارے کو جنگ کے بعد غزہ کے انتظام و نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ملاقات کے بعد اسرائیل نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ جلد ہی غزہ اور مصر کے درمیان پیدل آمد و رفت کے واحد راستے کو دوبارہ کھول دے گا، جو ایران پر بمباری مہم شروع ہونے کے بعد سے بند تھا۔ ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ اسرائیلی اعلان براہِ راست حماس اور ’بورڈ آف پیس‘ کے درمیان ملاقات کا نتیجہ ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں ان کا اہم ترین سفارتی اقدام سمجھا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق حماس کے نمائندوں نے بورڈ کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل غزہ پر وہ نئی پابندیاں برقرار رکھتا ہے جو ایران جنگ کے دوران لگائی گئی تھیں، تو فلسطینی مزاحمتی گروپ جنگ بندی کے تحت کیے گئے اپنے سابق وعدوں سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
اسرائیل نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ کی سرحدیں بند کر دی تھیں اور کہا تھا کہ کراسنگ پوائنٹس کو محفوظ طریقے سے چلانا ممکن نہیں۔ بعدازاں محدود پیمانے پر سامان اور امداد کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی گئی، لیکن مصر میں داخلے کے لیے واحد پیدل گزرگاہ رفح کراسنگ بدستور بند رہی۔
اتوار کو اعلان کیا گیا کہ ’سکیورٹی جائزے‘ کے بعد اس کراسنگ کو اس ہفتے کے آخر میں دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
حماس کو غیرمسلح کرنے کے بارے میں مذاکرات، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے اگلے مرحلے کا اہم حصہ تھے، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے معطل ہیں۔
مزید ملاقاتوں کی توقع
ذرائع میں سے ایک کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ کی نمائندگی مذاکرات میں آریہ لائٹ سٹون کر رہے تھے، جو سٹیو وٹکوف کے معاون ہیں۔ سٹیو وٹکوف مشرقِ وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔
دیگر دو ذرائع نے بتایا کہ ایسے اجلاس جن میں آریہ لائٹ سٹون شامل ہوں گے ایجنڈے میں موجود تھے، تاہم وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آیا وہ اب تک اجلاس میں شریک ہوئے ہیں یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق اس ہفتے مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں عوامی سطح پر گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ آریہ لائٹ سٹون گذشتہ چند دنوں میں قاہرہ میں غزہ سے متعلق اجلاسوں میں شریک ہوئے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا انہوں نے حماس کے وفد سے ملاقات کی یا نہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی مذاکرات کار خطے کے شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔
اسرائیل کی حکومت نے اس سوال پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا کہ آیا رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ قاہرہ میں ہونے والی ملاقات کا نتیجہ ہے یا نہیں۔ حماس نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
