کوئٹہ میں پتھروں سے ’فاسٹ بولنگ‘ کا صدیوں پرانا کھیل

اس کھیل میں مخصوص پتھر استعمال کیا جاتا ہے جسے بڑی محنت اور خوبصورتی سے تراشا جاتا ہے۔
گرمیوں کی شاموں میں جب سورج کی تپش میں کمی ہو جاتی ہے تو کوئٹہ کے کوہ مردارکے دامن میں قبرستان کے قریب رونق لگتی ہے۔ ہزارہ قبیلے کے بزرگ اور جوان ایک چھوٹے سے میدان میں جمع ہو کر اپنا قدیم ثقافتی کھیل کھیلتے ہیں۔ پتھر سے نشانہ لگانے کے اس منفرد کھیل کو ہزارگی اور فارسی میں سنگ گیرگ کہتے ہیں۔
اٹھارہویں صدی میں افغانستان سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کوئٹہ آنے والے ہزارہ قبیلے کے لوگ مخصوص ثقافت اور روایات کے ساتھ ساتھ اس کھیل کو بھی اپنے ساتھ لے کر آئے۔ آج بھی قبیلے کے افراد کا یہ پسندیدہ مشغلہ ہے۔ 
اس کھیل کو دیکھنے کے لیے مری آباد، علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاﺅن سمیت کوئٹہ شہر کے دوسرے علاقوں سے ہر عمر کے لوگ آتے ہیں مگر اکثریت بزرگوں کی ہوتی ہے۔ سنگ گیرگ کو کھیلنے والے بھی بیشتر بڑی عمر کے لوگ ہی ہیں۔ متواتر مقابلوں کے انعقاد کی وجہ سے نوجوان بھی اب اس قدیم کھیل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
بلوچستان سنگ گیرگ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اسحاق علی کے مطابق اس کھیل میں تین تین کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں مد مقابل ہوتی ہیں۔ نشانہ بازی کے لیے مٹی کے ڈھیر پر لکڑی کے چھ انچ ٹکڑے کو نصب کیا جاتا ہے جسے کھلاڑی مخصوص فاصلے (تقریباً سو فٹ) سے مخصوص پتھر کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔
اس کھیل کو دیکھنے کے لیے بزرگ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
اس کھیل کو دیکھنے کے لیے بچے، بڑے اور بزرگ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

ٹھیک ہدف پر پتھر لگنے پر دو پوائنٹ اور ہدف کے قریب نشانہ لگانے پر ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ 10 پوائنٹ پہلے مکمل کرنے والی ٹیم ایک سیٹ جیت جاتی ہے۔ 11 سیٹ پر مشتمل میچ میں چھ سیٹ جیتنے والی ٹیم فاتح قرار پاتی ہے۔ ٹیم کے علاوہ یہ کھیل انفرادی طور پر بھی کھیلا جا سکتا ہے۔
سنگ گیرگ کے ایک کھلاڑی محمد حسین کے مطابق اس کھیل میں مخصوص پتھر استعمال کیا جاتا ہے جسے بڑی محنت اور خوبصورتی سے تراشا جاتا ہے۔ گیند کے سائز کے اس پتھر کا وزن ایک کلو کے قریب ہوتا ہے۔ ہر کھلاڑی کو سائز اور وزن کے لحاظ سے پتھر کے انتخاب میں آزادی ہوتی ہے۔
ماہر پتھر باز کا نشانہ ہدف پر لگتا ہے تو وہ اپنی کامیابی پر شائقین سے نہ صرف داد بلکہ انعام بھی وصول کرتا ہے۔ تماشائیوں میں ہر شخص اپنی بساط کے مطابق کھلاڑی کو انعام دیتا ہے۔ عموماً یہ انعام 10 روپے ہوتا ہے۔
سنگ گیرگ کے کھلاڑی محمد علی ہزارہ نے بتایا کہ ’انعام کی یہ رقم اگرچہ بہت معمولی ہوتی ہے مگر ہمارا اس سے حوصلہ بڑھتا ہے۔‘ 
حاجی خان ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں وہ ہر شام دس کلومیٹر سے زائد سفر کرکے ہزارہ ٹاﺅن بروری سے مری آباد سنگ گیرگ کے مقابلے دیکھنے آتے ہیں۔
حاجی خان کے مطابق نوجوانوں کی نسبت قبیلے کے بڑی عمر کے افراد اس کھیل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہرایک کی بچپن سے اس کھیل سے وابستگی رہی ہے۔

گیند کے سائز کے اس پتھر کا وزن ایک کلو کے قریب ہوتا ہے جس کے انتخاب میں ہر کھلاڑی کو آزادی ہوتی ہے۔ فوٹو: اردو نیوز

’’ہم خود بچپن میں سنگ گیرگ کھیلتے تھے۔ ہم نے اپنے بڑوں کو پتھروں سے نشانہ بازی کرتے دیکھا اور ان سے ہی یہ کھیل سیکھا۔‘‘ 
’’اب نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر اچھا لگتا ہے مگر موبائل فون اور انٹرنیٹ کی وجہ سے نئی نسل کھیلوں کو زیادہ توجہ نہیں دیتی ۔‘‘
محمد حسین کے مطابق سنگ گیرگ نہ صرف کھیل بلکہ ایک صحت مندانہ سرگرمی بھی ہے اسے کھیلنے والا صحت مند اورتوانا رہتا ہے۔
سنگ گیرگ کے منتظمین اس کھیل کو صوبے اور ملک کے باقی علاقوں میں بھی متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
سنگ گیرگ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اسحاق علی کے مطابق مشیر کھیل بلوچستان عبدالخالق ہزارہ سنگ گیرگ کو خاص طور پر بلوچستان کے پشتون اور بلوچ علاقوں تک پھیلانا چاہتے ہیں اس لئے آئندہ دنوں میں ہم صوبے کے باقی علاقوں میں بھی مقابلے منعقد کرائیں گے۔

شیئر: