’عشق میں نہ پیار میں، جو مزہ انڈیا کی ہار میں‘

کھیل کے میدانوں میں کچھ مقابلے بہت خاص بن جاتے ہیں، تصویر: اے ایف پی
کھیل کے میدانوں میں ہار جیت نئی بات نہیں لیکن کچھ مقابلے کھیلنے والی ٹیموں سے وابستہ افراد کے علاوہ دیگر شائقین کو بھی اپنی جانب متوجہ کر کے بہت خاص بن جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی نیوزی لینڈ اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میچ میں بھی ہوا۔ مقابلہ جوں جوں اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا سوشل میڈیا صارفین کے جوش و خروش میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔
انڈیا کے میچ ہارنے پر پاکستان کے سوشل میڈیا شائقین مزاحیہ جملوں، تصاویر اور ماضی کے واقعات یاد دلا کر اپنے جذبات ظاہر کرتے دکھائی دیے۔
نازیہ نامی صارف کا کہنا تھا اگر انڈیا انگلینڈ کے خلاف اپنا میچ نہ ہارتا تو اسے آج پاکستان سے سیمی فائنل کھیلنا ہوتا، ہمارے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے امکان تھا کہ انڈیا یہ میچ جیت جاتا۔ شاعرانہ انصاف سے متعلق اس سے بہتر مثال نہیں سوچی جا سکتی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے میچ کے نتیجے پر اپنے تبصرہ میں کہا کہ مانچسٹر کے نتائج خوش کن ہیں، میں انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ فائنل کی پیشین گوئی کر چکا تھا تاہم نیوزی لینڈ نے بہترین اور ناقابل یقین کامیابی سے انڈین بیٹنگ کو محدود رکھا۔

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ذکر سوشل میڈیا کی کسی گفتگو کا ہو اور اس میں مزاح کا پہلو نہ ہو؟ کچھ ایسا ہی انڈین ٹیم کی شکست پر بھی ہوا جب خرم نامی ایک صارف نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان سے جملہ منسوب کیا کہ ’پاکستانی بھائیو۔۔۔۔اور کوئی حکم‘ اور اپنی طرف سے جواب میں انہیں باجی کہہ کر شکریہ بھی ادا کیا۔
کیوی ٹیم اور اس کے کپتان سے متعلق جذبات کا اظہار کرنے میں بھی سوشل میڈیا نمایاں رہا۔ احتشام الحق نامی ٹوئٹر صارف نے اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرتے ہوئے کیوی کپتان ولیمسن کو ڈی پی بنایا، ایڈیٹنگ کی مدد سے تیار کی گئی اس تصویر میں ولیمسن پاکستانی ٹیم کی کٹ پہنے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

میچ کے نتیجے سے متعلق گفتگو میں کچھ صارف ایسے بھی تھے جو شائقین کے جذبات کا ذکر کرتے دکھائی گیے، ندا یاسر نامی صارف نے لکھا کہ ’ انسان بھی کیا عجیب مزاج رکھتا ہے، اپنا بچہ فیل ہو جائے تو پڑوسیوں کے بچے کی کامیابی بھی نہیں دیکھنا چاہتا‘۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے جہاں میچ  پر تبصرے کیے تو فیشن انڈسٹری سے متعلقہ افراد بھی گفتگو کا حصہ بنے۔ سارہ تاثیر نے لکھا کہ ’نہ عشق میں، نہ پیار میں، جو مزہ انڈیا کی ہار میں‘۔

ٹیلی ویژن اینکر شاہزیب خانزادہ بھی میچ کے نتیجے کا ذکر کرتے ہوئے انڈین ٹیم کو سابقہ کارکردگی یاد کراتے دکھائی دیے، انہوں نے لکھا ’ہم چاہتے تھے کہ انڈیا انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کرے، دھونی نے اس وقت بھی میچ مکمل نہیں کیا اور دھونی آج بھی ایسا نہیں کر سکے۔

ٹوئٹر پر آفیشل اکاؤنٹ کے علاوہ ذاتی اکاؤنٹ سے فعال رہنے والے افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی کھیل سے اپنی دلچسپی پر خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا ٹوئٹر اکاؤنٹ مینشن کرتے ہوئے کیوی ٹیم کو کامیابی کی مبارک باد دی اور لکھا کہ ٹیم نے اپنی قوم کی اخلاقی اقدار سے حاصل کردہ سپورٹس مین شپ کا اظہار کیا۔

اہل سیاست بھی میچ کے نتیجے اور انڈین ٹیم کی شکست پر تبصرہ کرنے والوں میں شامل رہے۔ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے لکھا کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں کھیل اور سیاست کو جمع کرنے پر انڈیا شکست کا مستحق تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں نیوزی لینڈ کو پاکستانیوں کی نئی محبت قرار دیا۔

 

شیئر: