متحدہ عرب امارات کے تپتے ساحل پر دیوہیکل برفانی تودہ، مگر کیسے؟

کیا  آپ تصور کر سکتے ہیں کہ خلیج عرب جیسے گرم خطے میں برفانی تودے ہو سکتے ہیں؟ عقل بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ سال کے بیشتر مہینوں میں گرمی کی لپیٹ میں رہنے والے اس خطے میں برفانی تودوں کا وجود کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
مگر ٹھہریئے جناب! جدید ٹیکنالوجی نے ہر ناممکن کام کو ممکن بنا دیا ہے۔
اماراتی ماہرین ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس سے امارات کے شہر الفجیرہ  کے ساحل پر بہت جلد سیاحوں کو دیوہیکل برفانی تودہ نظر آئے گا۔
امارات کے مقامی اخبار البیان نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس کے اختتام سے پہلے قطب جنوبی سے ایک بڑا برفانی تودہ امارات لایا جائے گا۔ یہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں، بلکہ بہت بڑا کام ہے۔ قطب جنوبی سے امارات تک دیو ہیکل برفانی تودے کا سفر 10 مہینوں پر مشتمل ہوگا۔

عبداللہ الشحی نے بتایا کہ اس برفانی تودے کا مجموعی قطر کا رقبہ 3کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔ فوٹو البیان

 تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی انجینیئر اور بزنس مین عبداللہ الشحی اور ان کی ٹیم اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔

کیا ایسا ممکن ہے؟

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ الشحی نے  بتایا کہ قطب جنوبی کے علاقے انٹارکٹیکا کے ایک جزیرے سے بڑا برفانی تودہ امارات لایا جائے اور اس برفانی تودے کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اس کے مجموعی قطر کا رقبہ 3کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔  زیر زمین اس کی گہرائی 300میٹر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی آلات کی مدد سے اسے قطب جنوبی سے علیحدہ کرکے کھینچ لیا جائے گا۔ فجیرہ تک  پہنچانے کے لیے کم و بیش 10ماہ لگیں گے۔ منزل تک پہنچنے تک برفانی تودے کا 30 فیصد حجم پگھل جائے گا، تاہم باقی 70فیصد محفوظ رہے گا۔
برفانی تودے کو سفر کے دوران ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مخصوص آلات کے علاوہ آہنی بیلٹ استعمال کی جائے گی۔ اس کی سیٹیلائٹ کے ذریعے نگرانی ہوگی اور منتقلی کا عمل ماہرین کی مشاورت سے ہوگا۔
منصوبے پر کل لاگت 100ملین ڈالر سے 150ملین ڈالر تک ہوگی اور صرف اس کی منتقلی  پر 80ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔

منصوبے پر کل لاگت 100ملین ڈالر سے 150ملین ڈالر تک ہوگی اور صرف اس کی منتقلی  پر 80ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔فوٹو اے ایف پی

 منصوبے کا فائدہ کیا ہے؟
انجینیئرعبداللہ الشحی نے بتایا کہ امارات  بنیادی طور پر صحرائی علاقہ ہے جہاں صاف پانی کے ذخائر کم ہیں۔ کسی زمانے میں صحرائے عرب زرخیز ہوا کرتا تھا۔ یہاں نہریں بہتی تھیں۔ صحرائے ربع الخالی  میں باغات اور کھیت تھے مگر  وقت کے ساتھ یہاں پانی کے ذخائر معدوم ہوتے گئے اور  سرسبز علاقہ صحراء میں بدل  گیا۔
الشحی نے بتایا کہ حکام جہاں پانی کے ذخائر کی تلاش میں ہیں وہاں صحرائی علاقے کو دوبارہ سرسبز و شاداب بنانے کے جدید منصوبوں پر غور کررہے ہیں۔
اماراتی حکام پانی کے ذخائر کی فراہمی کے علاوہ صحرائی علاقے کو آباد کرنے کے لیے جن منصوبوں پر غور کررہے ہیں ان میں ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ  ’پاکستان کے دریائے سندھ کا ضائع ہونے والا پانی پائپس کے ذریعے امارا ت منتقل کیا جائے۔‘
اسی ضمن میں متبادل منصوبہ یہ بھی ہے کہ قطب شمالی اور جنوبی میں  قابل استعمال پانی کے منجمد ذخائر کوامارات منتقل کیا جائے۔
واضح رہے کہ کرہ ارضی میں  موسمی تغیرات کی وجہ سے منجمدعلاقے کے برفانی تودے مسلسل پگھل رہے ہیں اور یہ قابل استعمال پانی سمندر میں ضائع ہورہا ہے۔

الشحی نے کہا کہ دنیا بھر سے سیاح برفانی تودہ دیکھنے آئیں گے جس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ فوٹو البیان

انجینیئر عبداللہ الشحی نے کہا کہ امارات میں  پینے کے پانی کا واحد ذریعہ سمندر کا کھارا پانی ہے جسے میٹھا کرکے قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور اس پر کئی ملین درہم  سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔اس کے نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان آبی حیات کو ہورہا ہے۔  خلیج عرب میں  موسمی تغیر بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے جہاں معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں وہیں بارش کی مقدارمیں بھی مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ امارات میں اس وقت سالانہ باش کی مقدار 78ملی لیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔
 برفانی تودہ امارات میں لانے سے آئندہ 5سال کے لئے ملک کو پینے کا صاف پانی میسر ہوجائے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ  دیوہیکل برفانی تودے کی موجودگی سے ملک کا موسم بہتر ہوجائے گا۔

 

بحیر ہ عرب کے گرم پانی میں برفانی تودے کی موجودگی سے فضا میں بخارات  کے ذرات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے باعث ملک میں بارش کی مقدار بھی بڑھ  جائے گی۔ صرف 10سال کے اندر امارات  کا صحرا سال بھر ہونے والی بارش سے زرخیزاور سرسبز و شاداب ہو جائے گا۔
الفجیرہ جیسے گرم علاقے کے ساحل پر  دیو ہیکل برفانی تودہ  سیاحت کو فروغ دینے کا بھی باعث ہوگا۔ دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے کیلئے آئیں گے۔ یہ بذات خود ملک کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ ہوگا۔
 فرانسیسی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
قطب جنوبی سے خلیج عرب میں برفانی تودے منتقل کرنے کا منصوبہ دراصل فرانسیسی انجینیئر جورجس موگن کا ہے۔ انہوں نے 45 سال قبل اس مقصد کے لئے کمپنی قائم کی تھی جس کا نام ’آئس برگ ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل‘ رکھا تھا۔ اس کا مقصد براعظموں کے مابین برفانی تودوں کی منتقلی تھا۔
انجینیئر جورجس موگن کا کہنا ہے کہ سائنسی بنیادوں پر برفانی تودوں کی منتقلی ممکن ہے۔ اس ضمن میں ہم نے بہت پہلے کام شروع کیا تھا۔ فوری طور پر ہماری نظر میں قطب جنوبی کے 2بڑے برفانی تودے ہیں جنہیں آسانی کے ساتھ منتقل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ کرہ ارضی میں گرمی کی لہر میں اضافے کی وجہ سے پانی  کا ذخیرہ کم ہورہا ہے۔ قدرت نے قابل استعمال پانی کو برفانی تودوں کی شکل میں محفوظ کردیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تودوں  کے حجم میں روزانہ کی بنیاد پر کمی واقع ہورہی ہے۔
عرب ممالک کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ان تودوں کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بہت بڑا قدرتی ذخیرہ ہوگا جو وہاں کے خطے کے مستقبل کو تبدیل کرکے رکھ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امارات میں برفانی تودے کی منتقلی کا تجربہ کامیاب ہوگیا تو بہت سارے ممالک اسے دہرانا پسند کریں گے۔
اس سے قبل یہی منصوبہ سعودی عرب کو بھی پیش کیا گیا تھا۔ یہ تجویز70 کی دہائی میں دی گئی تھی کہ قطب جنوبی سے برفانی تودہ جدہ شہر کے ساحل پر منتقل کیا جائے مگرسعودی حکام نے اسے مسترد کردیا تھا۔

شیئر: