امریکہ کا وژن: ’نیا غزہ‘ بلند و بالا عمارتوں کا ایک جدید سیاحتی مرکز
صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کا کہنا ہے کہ ’نیا غزہ کا منصوبہ تین سال میں مکمل ہو سکتا ہے‘ (فوٹو: گیٹی امیجز)
امریکی حکام نے جمعرات کو ’نئے غزہ‘ کے لیے اپنا وژن پیش کیا، جس کے تحت تباہ حال فلسطینی علاقے کو سمندر کے کنارے شاندار بلند و بالا عمارتوں کے ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ’یہ کام تین برس میں مکمل ہو سکتا ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ کی جنگ میں فلسطین کا بڑا حصہ متاثر یا تباہ ہوا اور اس کے بیشتر رہائشیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔
امریکہ کی ثالثی میں اکتوبر 2025 میں ہونے والی جنگ بندی سے علاقے میں بمباری اور لڑائی میں کمی آئی، تاہم غزہ کے بیشتر شہری تین ماہ گزرنے کے بعد بھی انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب میں اپنے متنازع ’بورڈ آف پیس‘ کا منشور پیش کیا اور کہا کہ ’ہم غزہ میں بڑی کامیابی حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ یہ جگہ دیکھنے میں بہت شاندار ہو گی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کام کرتا ہوں اور یہ مجھے بہت پسند ہے…‘ اور میں نے کہا کہ ’سمندر کے کنارے یہ جگہ دیکھو۔ اِس خوب صورت زمین کو تو دیکھو۔ یہ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔‘
کوئی بھی سرکاری عہدہ نہ رکھنے والے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں میں شامل اُن کے داماد جیرڈ کُشنر کا کہنا ہے کہ ان کا ’ماسٹر پلان’ ’زبردست کامیابی‘ حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں وہ اس طرح کے شہر بناتے ہیں، آپ جانتے ہیں، 20 یا 30 لاکھ افراد کے لیے، اور وہ ایسے منصوبوں کو تین سال میں مکمل کر لیتے ہیں۔‘
امریکی صدر کے داماد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ہم غزہ کو ایسا بنانے کا فیصلہ کریں تو اس طرح کے منصوبے مکمل طور پر قابلِ عمل ہیں۔‘
جیرڈ کُشنر نے کہا کہ ’غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کی بحالی کے لیے کم سے کم 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔‘
