حادثہ ایک دم نہیں ہوتا: کیا ریل پٹڑی سے اتر رہی ہے؟

رحیم یار خان میں ہونے والا ٹرین حادثہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 75واں ٹرین حادثہ ہے۔ ٹرین حادثات کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح یقیناً تشویشناک ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ بڑھتے حادثات کی وجہ کیا ہے؟ ان کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
ان کا ذمہ دار کون ہے اور حکومتی دعوے کس حد تک درست ہیں؟ اردو نیوز نے ان سوالات کا جواب متعلقہ حکام، ماہرین اور اعدادوشمار کی مدد سے جاننے کی کوشش کی ہے۔
اس پر ’اردو نیوز‘ کی جانب سے بار بار رابطے کی کوشش کے باوجود وفاقی وزیر ریلوے سے بات نہ ہو سکی۔ ان کے ذاتی نمبر پر موجود آپریٹر یہی بتاتے رہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں۔ تاہم ایک نجی ٹی وی چینل سے حادثے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرشیخ رشید نے اکبر ایکسپریس کے حادثے کو انسانی غفلت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں کانٹا بدلنے والا اہلکار ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، حادثات کی مکمل تحقیقات ہوتی ہیں، محکمے میں باہر سے لوگ نہیں آتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ نئی ٹرینیں شروع کی گئی ہیں لیکن نیا ٹریک نہیں ڈالا گیا ہے۔
خیال رہے کہ چند ہفتے پہلے بھی ٹرینوں کے حادثات کے حوالے سے ایک نیوز کانفرنس میں ان سے سوال پوچھا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ پرانے نظام کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور حادثات کی روک تھام کے لیے حکمت عملی پر کام کر رہےہیں جس کے بارے میں جلد ہی آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ 

محکمہ ریلوے کی موجودہ حالت

پاکستان ریلوے کے ایک سابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’1862 میں آپریشنل ہونے والی ریلوے اصل میں اپنی عمر پوری کر چکی ہے جبکہ اسے اس حال تک پہنچانے میں ہمارے حکام کی کوتاہیاں بھی شامل ہیں کیونکہ کبھی اسے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘
موجودہ سسٹم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کی بحالی کے حوالے سے جتنے بھی دعوے کیے جا رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔

پاکستان میں ریلوے حادثات معمول کی بات ہے۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان میں ریلوے حادثات معمول کی بات ہے۔ فوٹو اے ایف پی

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ریلوے سے زیادہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس کے وزیر خود ریلوے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے بلکہ کلیدی پوسٹیں بھی ایسے لوگوں کے حوالے کر رکھی ہیں کہ جو نااہل ہیں اوران کی جواب طلبی کرنے والا بھی کوئی نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آئے روز نئی ٹرینیں بھی تو چلائی جا رہی ہیں‘ تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر بھی غلطی کی جا رہی ہے کیونکہ یہ دیکھا نہیں جا رہا کہ استعداد کتنی ہے۔ اس سے قبل جس ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہیں کیا جاتا اور سیاسی نمبرز کے لیے ایسے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
آئے روز حادثات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹرین کا ٹرین کے ساتھ ٹکرانا ایسا حادثہ ہے جو دس سال میں ایک بھی ہو تو الارمنگ ہوتا ہے جبکہ ڈیڑھ ماہ میں دوسری بار ایسا حادثہ ہوا ہے جبکہ پٹڑی سے اترنے، پھاٹک سے ٹکرانے، آگ لگنے سمیت دوسرے حادثات بھی بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہی حال رہا تو حادثات مزید بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ریلوے بجٹ کو بھی کم کیا گیا، کرائے بڑھائے گئے جبکہ حادثات سے بچائو کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

 

حادثات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پورے سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے ضرورت ہے، انفرسٹرکچر پرانا ہو چکا ہے یہ  کام مرحلہ وار ہو سکتا ہے لیکن فوری طور کچھ اقدامات کر کے حادثات سے بچا جا سکتا ہے جن میں سب سے پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ’رائٹ مین فار رائٹ پوسٹ‘ کا اصول اپنانا ہو گا۔ چیکنگ کا معیار بہتر بنانا ہو گا۔
خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں صرف ڈرائیور یا کانٹا بدلنے والا ہی ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ جس کی ذمہ داری ہوتی اس سے بازبرس ہونے تک کچھ بدلنا مشکل ہی ہو گا۔
ایک سال میں 75 حادثے
قومی اسبملی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں چھ جولائی تک ریلوے کے چوہتر حادثات ہوئے جب ریلوے کی پی آر او قرۃ العین سے اس حوالے سے ’اردو نیوز‘ نے رابطہ کیا تو انہوں نے اس رپورٹ کے اعدادوشمار کو درست قرار دیا۔ جس کے بعد اب آج ہونے والے حادثے کو ملا کر کُل تعداد پچھہتر ہو جاتی ہے۔ گذشتہ بارہ ماہ میں چودہ سنگین اور پٹڑی اترنے کے باسٹھ واقعات ہوئے۔

ریلوے حادثات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
ریلوے حادثات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

دو ہزار سترہ اٹھارہ کے مقابلے میں دو ہزار انیس میں ریلوے حادثات میں اضافہ ہوا۔ آٹھ آگ لگنے کے واقعات ہوئے جن میں سے چار ڈائننگ کار کے ہیں۔ اس وقت ایک سو چھتیس ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ریلوے حکام کے مطبق اس وقت پچھہتر انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سے چوون مکمل ہوئیں جبکہ اکیس جاری ہیں۔ تیرہ لوگوں کو سزائیں دی گئیں جبکہ چونتیس ایف آر آرز درج کرائی گئی ہیں۔
چند حادثات کی تفصیل
یکم جون کو لاہور یارڈ میں ٹرین پٹڑی سے اتری، یکم جون کو ایسا ہی حادثہ ہوا جب عید ٹرین لالہ موسیٰ سٹیشن کے قریب ڈی ریل ہوئی، پانچ جون کو ہی فیصل آباد میں شاہ حسین ٹرین کی کچھ بوگیاں پٹڑی سے اتریں۔ اسی طرح اگلے کچھ روز میں کراچی میں کینٹر ٹرین اور تھل ایکسپریس بھی حادثے کا شکار ہوئیں۔ قراقرم ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتریں، اسلام آباد ایکسپریس نے گجرات کے قریب ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، بولان ایکسپریس کو حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔


ریلوے حکام کے مطبق اس وقت پچھہتر انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سے چوون مکمل ہوئیں۔ فوٹو اے ایف پی

اسی طرح سندھ ایکسپریس، روہڑی سٹیشن کے قریب مال گاڑی، ہڑپہ سٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس، کوئٹہ میں مال بردار حادثات کا شکار ہوئیں جن میں جانی نقصان نہیں ہوا لیکن انیس جون کراچی ڈویژن میں رحمان بابا ایکسپریس ایک گاڑی سے ٹکرائی جس میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ بیس جون کو جناح ایکسپریس ایک مال بردار گاڑی سے ٹکرائی جس سے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ہلاک ہوئے۔ اگلے روز ہری پور کے قریب راولپنڈٰی ایکسپریس کار سے جا ٹکرائی۔ ان کے علاوہ بھی مختلف حادثات ہوتے رہے۔
انکوائری ہونے تک شیخ رشید مستعفی ہوں، بلاول بھٹو
 


شیخ رشید اس سے قبل بھی ریلوے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حادثے کے ذمہ دار وزیر ریلوے ہیں ان کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے اور جب تک وہ مکمل نہیں ہوتی وہ استعفیٰ دیں۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ریلوے حادثے پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ استعفوں کی مثالیں دینے والے اپنی وزیر سے استعفیٰ لیں گے؟ نئی ٹرینوں کے دعوے پوائنٹ سکورنگ ہے۔ شیخ رشید کا وزرات سے رومانس جانے اور کتنی جانیں لے گاَ؟ ملک بھی ریلوے کی طرح چلایا جا رہا ہے سب کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔

شیئر: