’حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی‘

جج ارشد ملک کہتے ہیں کہ حسین نواز نے انہیں سعودی عرب میں رشوت کی پیش کش کی، تصویر: اے ایف پی
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ویڈیو تنازعے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے شریف خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
حلف نامے کے متن میں ارشد ملک نے لکھا ہے کہ فروری 2018 میں احتساب عدالت میں جج کے طور پر تعیناتی کے کچھ عرصے بعد ہی ان سے مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نامی دو جاننے والوں نے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے  دوران ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی ایک بااثر شخصیت سے سفارش کر کے انہیں (ارشد ملک) کو احتساب عدالت کا جج تعینات کروایا تھا۔
’میں نے اس دعوے کے بارے میں اس وقت زیادہ نہیں سوچا لیکن ناصر جنجوعہ کو کہا کہ آپ کو میرا نام دینے سے پہلے میری رائے معلوم کرنا چاہیے تھی اور میں یہ عہدہ نہیں لینا چاہ رہا تھا کیونکہ مجھے ضلعے میں ڈسٹرکٹ سیشن جج کے طور پر تعیناتی کا انتظار تھا۔‘
ارشد ملک کے مطابق جب ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا کیس چل رہا تھا تو اس وقت ان سے نواز شریف کے حامیوں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور نواز شریف کی اس کیس میں بریت کا مطالبہ کیا۔

جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ ناصر بٹ نے 6 اپریل کو لاہور میں نواز شریف سے ان کی ملاقات کرائی، تصویر: سوشل میڈیا

جج کے مطابق جب فلیگ شپ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ پر جرح چل رہی تھی تب ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی نے ان سے ایک بار پھر رابطہ کیا اور بریت کا فیصلہ سنانے کے لیے نواز شریف کی طرف سے منہ مانگی رقم کی پیش کش کی۔
حلف نامے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کو 10 کروڑ یوروز کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ’دو کروڑ یوروز ان کی باہر کھڑی گاڑی میں تھے۔‘
ارشد ملک کے مطابق انہوں نے رشوت لینے سے انکار کیا مگر معاملہ وہاں ختم نہیں ہوا۔ اور جب وہ نہیں مانے تو انہیں دھکمی بھی دی گئی۔
’ناصر بٹ نے مجھے کہا کہ وہ میاں نواز شریف کے بہت شکر گزار تھے کیونکہ انہوں نے اپنے اثرو رسوخ سے ناصر بٹ کو چار سے پانچ قتل کرنے کے بعد سزا سے بچایا تھا۔ اسی لیے وہ میاں صاحب کی مدد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔‘
ارشد ملک نے کہا کہ چونکہ وہ میرٹ پر فیصلہ دینے کے لیے پر عزم تھے اور انہوں نے دسمبر 2018 میں فیصلہ سنایا جس میں نواز شریف کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں سزا سنائی اور فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا۔

 

ملتان والی ویڈیو

جج نے مزید بتایا کہ رشوت میں ناکامی کے بعد انہیں ویڈیو کے ذریعے بھی بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔  ان کے مطابق فروری 2019 میں وہ خرم یوسف اور ناصر بٹ سے ملے جس دوران ’ناصر بٹ نے مجھ سے پوچھا کہ آیا ناصر جنجوعہ نے مجھے ملتان والی وڈیو دکھائی ہے یا نہیں۔ چونکہ مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا لہٰذا میں نے اس بارے میں لاتعلقی کا اظہار کیا۔ تاہم ناصر بٹ نے مجھے کہا کہ چند دن بعد آپ دیکھ لو گے۔
اس کے بعد جج کے مطابق میاں طارق نام کے ایک شخص ان سے ملے جنہیں وہ تب سے جانتے تھے جب وہ 2003-2000 میں ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کام کررہے تھے۔
’میاں طارق نے مجھے خفیہ ریکارڈ کی جانے والی نازیبا ویڈیو دکھائی اور کہا کہ وہ میں ہوں جب میں ملتان میں کام کر رہا تھا۔ یہ سب میرے لیے ایک جھٹکے سے کم نہ تھا۔‘
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو کے دکھانے کے بعد سے ناصر بٹ اور ناصر جنجوعہ نے انہیں بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔

 

’ناصر جنجوعہ نے مجھے کہا کہ چونکہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں سزا سنا دی گئی تھی اسی لیے نواز شریف کی تسلی کے لیے ایک آڈیو ریکارڈ کرا دوں جس میں کہوں کہ میں نے نواز شریف کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں سزا چند بااثر حلقوں کے دباؤ میں آ کر سنائی اور یہ کہ الزام ثابت کرنے میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔‘
’ناصر جنجوعہ نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ یہ آڈیو صرف نواز شریف کی تسلی کے لیے تھی اور یہ کہ ان کو سنانے کے بعد اس کو تلف کردیا جائے گا۔‘

ارشد ملک اور نواز شریف کی ملاقات

ارشد ملک کے مطابق ناصر بٹ نے انہیں نواز شریف سے ملنے کے لیے بھی کہا کیونکہ میاں صاحب کو اس آڈیو سے تسلی نہیں ہوئی تھی اور وہ ہر صورت ان کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ جس کے بعد ارشد ملک نے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ وہ اس سال 6 اپریل کو نواز شریف سے جاتی امرا  میں ملے۔ نواز شریف نے انہیں خود خوش آمدید کہا۔ ملاقات کے دوران ناصر بٹ نے نواز شریف کو کہا کہ ارشد ملک نے عدلیہ اور فوج کے دباؤ میں آکر فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم ارشد ملک کے مطابق انہوں نے ملاقات میں نرمی کے ساتھ اپنا موقف واضح کیا کہ انہوں نے میرٹ پر فیصلہ کیا تھا۔
حلف نامے کے مطابق ملاقات کے بعد ناصر بٹ نے ارشد ملک سے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے کچھ وکلا سے کہہ کر نواز شریف کو ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں بری کروانے کے لیے درخواست تیار کروائی ہے اور وہ اس میں میرا مشورہ چاہتے تھے۔

ارشد ملک کے مطابق ناصر جنجوعہ نے نواز شریف کی بریت کے لیے انہیں رشوت کی پیش کش کی، تصویر: سوشل میڈیا

چونکہ انہیں پہلے ہی اس معا ملے میں بلیک میل کیا جا رہا تھا، ارشد ملک نے کہا کہ وہ ایسا کرنے پر راضی ہو گئے اور جاتی امرا سے واپسی کے چند روز بعد اس مسودے پر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے تاثرات بتائے۔
تاہم 6 جولائی کو مریم نواز کی نیوز کانفرنس میں جو ویڈیو دکھائی گئی اس میں انہوں نے دیکھا کہ ان کی زبرستی لی گئی آڈیو اور مسودے کا جائزہ لینے کے دوران ہونے والی ملاقات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مریم نواز کی متنازع نیوز کانفرنس سے قبل عمرے کے لیے 28 مئی کو سعودی عرب گئے تھے جہاں یکم جون کو عشا کے بعد ناصر بٹ انہیں دھمکا کر حسین نواز سے ملوانے لے گئے ۔ حلف نامے کے مطابق  نواز شریف کے صاحبزادے نے انہیں 50 کروڑ روپے اور تمام خاندان سمیت دنیا میں کہیں بھی منتقل ہونے کی پیش کش کی۔ بدلے میں انہیں کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دیں اور کہیں کہ استعفے کی وجہ یہ کہ انہیں نواز شریف کو دباؤ میں سزا دینے کا ملال ہے۔ حلف نامے کے مطابق ارشد ملک نے یہ پیش کش مسترد کر دی اور آٹھ جون کو پاکستان آ گئے جس کے بعد ان کے خلاف چھ جولائی کو بے بنیاد نیوز کانفرنس کی گئی۔ 

شیئر: