Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2018 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیراعظم کا پہلا دورہ، کیئر سٹارمر چین پہنچ گئے

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دورے کا مقصد طویل عرصے سے کشیدہ برطانیہ، چین تعلقات کو بحال کرنا ہے۔
یہ 2018 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے، اور حالیہ ہفتوں میں کئی مغربی رہنماؤں کے بیجنگ کے دوروں کے سلسلے کا حصہ ہے، جہاں وہ غیر متوقع امریکی پالیسیوں کے تناظر میں چین سے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم سٹارمر متوقع طور پر جمعہ کو شنگھائی کا دورہ بھی کریں گے، جس کے بعد وہ جاپان جائیں گے جہاں وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی سے ملاقات کریں گے۔
چینی صدر شی جن پنگ کے لیے یہ دورہ اس بات کا موقع ہے کہ بیجنگ ایسے وقت میں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے واشنگٹن اور اس کے مغربی اتحادیوں کے تاریخی تعلقات کو متزلزل کر دیا ہے، خود کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کرے۔
دوسری جانب کیئر اسٹارمر ملک میں مقبولیت میں ریکارڈ کمی کا سامنا کر رہے ہیں، اور انہیں امید ہیں کہ یہ دورہ برطانیہ کی کمزور معیشت کو سہارا دے گا۔
ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس دورے کو تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع قرار دیا ہے، جبکہ قومی سلامتی اور انسانی حقوق جیسے حساس مسائل کو بھی اٹھایا جائے گا۔
کیئر سٹارمر جمعرات کو صدر شی جن پنگ کے ساتھ ظہرانہ کریں گے، جس کے بعد وزیرِ اعظم لی چیانگ سے ملاقات ہو گی۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے بدھ کے روز کہا کہ چین کا یہ دورہ ’ہمارے لیے بے حد اہم ہے‘، اور انہوں نے ’حقیقی پیش رفت‘ کا عزم ظاہر کیا۔

لیبر پارٹی کے رہنما نے نومبر 2024 میں برازیل میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر بھی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

چین جانے والے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’چین کے معاملے میں ریت میں سر چھپانا دانشمندانہ نہیں۔ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم بغیر قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے چین سے روابط رکھیں۔‘
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے بدھ کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ چین اس دورے کو سیاسی باہمی اعتماد بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں سٹارمر چین آنے والے تازہ ترین مغربی رہنما ہیں۔ ان سے قبل کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں بھی بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے پر ٹیرف لگانے کی دھمکیوں، اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک نئے عالمی ادارے ’بورڈ آف پیس کے قیام کی کوششوں کے پس منظر میں، بیجنگ آنے والے رہنماؤں کے سامنے اقوامِ متحدہ کی حمایت پر زور دیتا رہا ہے۔

تعلقات کی بحالی

برطانیہ اور چین کے تعلقات 2020 میں اس وقت شدید متاثر ہوئے جب بیجنگ نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا سخت قانون نافذ کیا، جس سے سابق برطانوی کالونی میں آزادیوں پر سخت پابندیاں لگ گئیں۔

چین جانے والے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع موجود ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان جاسوسی کے الزامات کے تبادلے سے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔
تاہم سٹارمر نے پیر کے روز ٹیلیگراف اخبار کی رپورٹ کے بعد چینی جاسوسی کے تازہ دعوؤں کی تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ چین کئی برسوں سے ڈاؤننگ سٹریٹ کے اعلیٰ حکام کے موبائل فون ہیک کرتا رہا ہے۔
2024  میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سٹارمر دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور برطانیہ کے تیسرے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین کے دورے میں ان کے ہمراہ مالیات، دواسازی، آٹوموبائل اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 کاروباری رہنما اور ثقافتی نمائندے بھی موجود ہیں، کیونکہ وہ سرمایہ کاری کے حصول اور قومی سلامتی پر سخت مؤقف کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
لیبر پارٹی کے رہنما نے نومبر 2024 میں برازیل میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر بھی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔

شیئر: