Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشین: سی ٹی ڈی آپریشن میں بھائیوں سمیت مارا گیا اشتہاری ملزم ثناء اللہ آغا کون تھا؟

ثناء اللہ آغا کی چند روز قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس میں وہ رکن صوبائی اسمبلی کو دھمکیاں دے رہے تھے (فوٹو: حرمزئی نیوز)
بلوچستان کے ضلع پشین میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کی ایک کارروائی میں اشتہاری ملزم ثناء اللہ آغا اور  اس کے دو بھائیوں سمیت چھ افراد ہلاک، جبکہ 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد دہشت گردی، اغوا اور بھتہ خوری سمیت سنگین جرائم میں ملوث تھے اور گرفتاری کے دوران شدید مزاحمت کی۔
تاہم لواحقین اور بعض مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں دو بزرگ ثالثین بھی مارے گئے جو ملزمان کو گرفتاری دینے پر آمادہ کرنے کے لیے اندر گئے تھے۔
ثناء اللہ آغا کی چند روز قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس میں وہ راکٹ لانچر اور کلاشنکوف اٹھائے رکن صوبائی اسمبلی کو دھمکیاں دے رہے تھے اور آئی جی پولیس سمیت اہم شخصیات کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے بعد حکومتی دباؤ بڑھا اور وہ کچھ عرصے کے لیے روپوش ہو گئے تھے۔
یہ کارروائی پیر کی صبح کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے نواحی علاقے کلی کربلا میں کی گئی، جہاں کئی گھنٹوں تک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔ بلوچستان پولیس کے ترجمان کے ایک بیان کے مطابق سی ٹی ڈی کوئٹہ نے ثناء اللہ آغا اور اس کے بھائیوں کی گرفتاری کے لیے گھر پر چھاپہ مارا، تاہم ملزمان نے گرفتاری دینے کے بجائے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں دس سی ٹی ڈی اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی جھڑپ کے بعد ملزمان زخمی حالت میں روپوش ہو گئے جس پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ کی سربراہی میں مزید نفری نے علاقے میں پہنچ کر آپریشن میں حصہ لیا۔ شام ساڑھے چار بجے کے قریب کارروائی مکمل کی گئی جس کے دوران ثناء اللہ آغا، اس کے دو بھائیوں سمیت چھ افراد مارے گئے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ملزمان دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور آپریشن کے بعد کلیئرنس اور سرچ آپریشن کے دوران راکٹ لانچر، سب مشین گنز، دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا۔
منگل کو وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے میڈیا شاہد رند اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے پریس کانفرنس میں واقعے کی مزید تفصیلات بتائیں۔
شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی اور جرائم کا ایک نیکسس ہے اور جب تک جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔  

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے کہا کہ پولیس نے ملزمان کو متعدد بار سرنڈر کا موقع دیا (بلوچستان پولیس)

انہوں نے کہا کہ کلی کربلا میں اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی اطلاعات تھیں اور علاقے میں ان کی تخریب کاریاں بڑھتی جا رہی تھیں جس پر سی ٹی ڈی نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایت پر کارروائی کی۔ وزیراعلیٰ نے اس کامیاب کارروائی کو سراہا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے کہا کہ پولیس نے ملزمان کو متعدد بار سرنڈر کا موقع دیا، تاہم اس کے جواب میں فورسز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی کو مارنے کا شوق نہیں تھا اور اگر ملزمان سرنڈر کرتے تو کارروائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آپریشن کے دوران ملزمان نے دستی بم اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا اور سی ٹی ڈی کی بکتر بند گاڑیوں پر حملے کیے گئے  جس سے فورسز کے پاس کارروائی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان کالعدم تنظیموں سے بھی تعلق رکھتے تھے اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے لوگ ان کے پاس آتے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی پر علاقے کے لوگوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ثالثین کے مارے جانے سے متعلق صحافیوں کے سوال پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ آپریشن میں کوئی ثالث مارا گیا۔
ان کے مطابق اگر ثالثی کے لیے لوگ گئے تھے تو چار لوگ واپس آ گئے باقی دو کیوں نہیں آئے وہ کس خوشی میں وہاں بیٹھ گئے۔ چار افراد ثالثی کے لیے گئے تھے کہ وہ ملزمان کو سرنڈر پر آمادہ کریں اور وہ واپس بھی آ گئے۔ اگر کوئی شخص ملزمان کے ساتھ بیٹھ کر فائرنگ کر رہا ہو تو فورسز کے پاس کارروائی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
دوسری جانب ہلاک افراد کے لواحقین اور بعض مقامی افراد نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران دو بزرگ ثالثین  سید محمد رحیم اور سید محمد قدیم مارے گئے جو خونریزی روکنے اور ملزمان کو گرفتاری پر آمادہ کرنے کے لیے اندر گئے تھے۔

سلیمان کے مطابق یہ کارروائی آبادی کے اندر ہورہی تھی اور نقصان کا اندیشہ تھا (فوٹو: اے پی پی)

سید محمد رحیم کے بیٹے محمد سلیمان نے بتایا کہ آپریشن میں ان کے والد محمد رحیم اور والد کے ماموں محمد قدیم  بے گناہ مارے گئے ۔ وہ علاقے کے لوگوں کے اصرار پر تین دیگر بزرگوں کے ساتھ ثالثی کے لیے گئے تھے تاکہ فائرنگ بند ہو اور خواتین و بچوں کو نقصان نہ پہنچے۔
ان کے مطابق یہ کارروائی آبادی کے اندر ہورہی تھی اور نقصان کا اندیشہ تھا۔ لوگ خوفزدہ تھے اس لیے والد اور باقی بزرگ انسانی جانیں بچانے کی کوششیں کررہے تھے مگر خود اس کوشش میں مارے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد اپنے ماموں کے ہمراہ گھر کے اندر گئے جبکہ باقی تین بزرگ کارروائی میں حصہ لینےوالے اہلکاروں کے پاس گئے تاکہ فائر بندی ہوئی۔ ثناء اللہ آغا اور اس کے ساتھی سرنڈر کرنے پر تیار تھے  لیکن دوبارہ فائرنگ شروع کر دی گئی۔
ان کے مطابق دونوں بزرگ کمرے کے اندر نہیں تھے بلکہ باہر فائرنگ کی زد میں آ گئے۔ اگر وہ ملزمان کے ساتھی ہوتے تو باہر کیوں آتے۔
محمد سلیمان نے کہا کہ علاقے کے کئی بزرگ اس بات کے گواہ ہیں کہ ہمارے والد اور ان کے ماموں بے گناہ تھے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ لواحقین کے لیے یہ بہت گہرا صدمہ ہے کہ بے گناہ لوگوں کو مجرم قرار دیا جارہا ہے۔
مقتول محمد قدیم کے بیٹے جہانگیر نے بھی پولیس کے دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ ان کے والد ایک حادثے میں ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہوگئے تھے، ایک معذور شخص کو مسلح مقابلے میں شریک ظاہر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ثناء اللہ آغا کا تعلق پشین کے علاقے کلی کربلا کے ایک بااثر اور امیر گھرانے سے تھا (فوٹو: حرمزئی نیوز)

بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ثالثین کو زبردستی روک دیا تھا تاکہ وہ پولیس مقابلے میں نہ مارنے کی ضمانت حاصل کرسکیں، تاہم لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اندر موجود تھے تاکہ خونریزی روکی جا سکے۔
لواحقین کے مطابق پولیس کا دعویٰ درست نہیں کہ چار ثالث واپس آ گئے اور دو لڑائی میں شریک رہے۔ انہوں نے اس دعوے کے حق میں ایک آڈیو کال ریکارڈنگ بھی دی جو سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے  جس میں فائرنگ بند کرنے اور سرنڈر کی بات کی جا رہی ہے جبکہ پس منظر میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
اس آڈیو میں محمد قدیم کہتے ہیں کہ وہ منہ اور کمر پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور محمد رحیم بھی زخمی ہیں، حکومت کو کہا جائے کہ فائرنگ روکی جائے تاکہ کم از کم ہم ثالثین تو باہر آسکیں۔
ثناء اللہ آغا کا تعلق پشین کے علاقے کلی کربلا کے ایک بااثر اور امیر گھرانے سے تھا۔ اس کے والد عبدالرب آغا نوے کی دہائی میں زمین کے تنازع پر قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے اور بعد ازاں جیل توڑ کر فرار ہو گئے اور افغانستان کے سرحدسے ملحقہ علاقے گلستان میں جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ رپوش رہے
ثناء اللہ آغا اور اس کے بھائیوں پر قتل، اغوا، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات لگے اور ان کے علاقے کے دیگر بااثر خاندانوں کے ساتھ کئی تنازعات رہے۔ ان تنازعات کی وجہ سے علاقے میں ان کی موجودگی خوف اور تشویش کا باعث بنی رہی۔
چند سال قبل ان کا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا کے خاندان سے تنازع ہوا جس میں سید لیاقت آغا کے بھتیجے کو قتل کیا گیا۔ سنہ 2023 میں اس تنازع میں ثناء اللہ آغا کے دو بھائی بھی مارے گئے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ثناء اللہ پر حکومتی دباؤ بڑھا اور انہوں نے معافی بھی مانگی (فوٹو: بلوچستان پولیس)

کچھ عرصہ قبل سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر بھتہ مانگنے کے الزام پر جمعیت علماء اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی سید ظفر آغا سے تعلقات کشیدہ ہوئے  تاہم بعد میں صلح ہوگئی۔ صلح کے چند دن بعد ہی ثناء اللہ آغا کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا جس پر انہوں نے مذکورہ رکن اسمبلی کو ذمہ دار قرار دیا۔
ثناء اللہ آغا نے اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں رکن صوبائی اسمبلی اور آئی جی پولیس کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس ویڈیو میں وہ اور اس کا ایک ساتھی راکٹ لانچر، کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ اٹھائے نظر آیا۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ثناء اللہ پر حکومتی دباؤ بڑھا، انہوں نے معافی بھی مانگی، تاہم بعد ازاں ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو وہ بھائیوں کے ہمراہ گھر چھوڑ کر روپوش ہو گئے۔

 

شیئر: