اعلیٰ عدلیہ ویڈیو معاملے کا خود نوٹس لے، ن لیگ کا مطالبہ

خاقان عباسی کے بقول ’انصاف کا پورا نظام شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کے معاملے کا نوٹس اعلی عدلیہ خود لے تاکہ ملک میں انصاف کے نظام کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ’جج صاحب کا بیان حلفی خود ان کے خلاف جارج شیٹ ہے۔ احتساب عدالت کے جج کی پریس ریلیز اور حلف نامے میں تضاد ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کا اعتماد عدالتوں پر قائم رہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا نوٹس لے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ نواز شریف کے کیس میں حکومت نے بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے حق میں فیصلہ کروایا۔  ’اگر ان جج صاحب پر کوئی دباؤ تھا تو انھوں نے سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ جج کو آگاہ کیوں نہیں کیا اور پرچہ کیوں درج نہ کروایا۔‘
خاقان عباسی کے بقول ’انصاف کا پورا نظام شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا ہے۔ ملک میں جو انصاف کے نظام کا احترام ہے اور عوام کی اس نظام سے جو توقعات ہیں ان کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس سے کوئی سیاسی مقصد حاصل نہیں کرنا چاہتے، ہم ملک میں انصاف کے نظام پر پاکستانی عوام کا اعتماد چاہتے ہیں۔ ویڈیو سکینڈل پر جج کو ہٹا دیا گیا ہے لیکن جو شخص اس سے متاثر ہوا وہ ابھی جیل میں ہی ہے۔
صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ انصاف کے نظام پر کاری وار ہے۔ جس ملک میں عوام کا اعتماد انصاف کے نظام سے اٹھ جائے وہ ملک نہیں چل سکتا۔ اگر ہم نے جج صاحب کو بلیک میل کیا تھا تو وہ مانیٹرنگ جج کو بتا دیتے۔
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’اس معاملے میں اگر عدالت نے مجھے بلایا تو میں ضرور جاؤں گا تاہم اب تک مجھے کوئی نوٹس نہیں آیا۔‘


فیاض الحسن چوہان کے مطابق جج کا بیان حلفی آنے کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئی ہے۔ فوٹو ٹویٹر

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’ایک منصب نے دباؤ میں فیصلہ کیا ہے، کیا انصاف کا نظام اس معاملے کو برداشت کر سکتا ہے؟
دوسری طرف حکمران جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے بیان حلفی کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ شریف خاندان مظلوم یا معصوم نہیں۔
انھوں نے الزام لگایا کہ ’مریم نواز نے نواز شریف کو بچانے کے لیے جج کو بلیک میل کیا اور اپنی نگرانی میں جج کی ویڈیو بنوائی۔‘
فیاض الحسن چوہان کے مطابق جج کا بیان حلفی آنے کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئی ہے لیکن ملک کو بچانے کے لے پاکستان کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستانی مافیا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک جمع کی گئی اپنی دولت کا تحفظ چاہتا ہے اور ریاستی اداروں اور عدلیہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘
وزیراعظم کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ’آپ اس مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے سیاسی حریفوں سے انتقام لینے کے لیے ججز پر دباؤ ڈالتا ہے۔‘

شیئر: