کلاں کوٹ: ايک پراسرار اور قديم قلعہ

کلاں کوٹ مکلی قبرستان سے جنوب میں دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ماضی میں ٹھٹہ، عالموں اور شعور کا شہر رہا ہے مگر ہر شہر کے اچھے برے دن ہوتے ہیں لہذا ٹھٹہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
یہ سردیوں کا موسم تھا مگر جس وقت میں وہاں پہنچا آسمان صاف تھا۔  
آج ٹھٹہ اپنے مکلی کے قبرستان کی وجہ سے مشہور ہے لیکن یہاں بہت کچھ دیکھنے لائق ہے جس پر تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔ میری ملاقات وہاں پروفیسر محمد علی مانجھی سے ہوئی جنہوں نے سندھ میں کئی آثار قدیمہ پر کام کیا ہے۔  
’آپ کبھی کلاں کوٹ گئے ہیں؟‘ انہوں نے دریافت کیا۔


کئی تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ قلعہ رائے گھرانے کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔

’نہیں بالکل بھی نہیں، مجھے اس کے بارے میں علم نہیں ہے۔‘ میں نے جواب دیا۔
یہ پہلی بار تھا کہ میں نے کسی سے کلاں کوٹ کے بارے میں سنا تھا۔  پروفیسر مانجھی مجھے کلاں کوٹ کے بارے میں بتاتے رہے اور میں نے سوچا کہ یہ تاریخی مقام ضرور دیکھنا چاہیے۔
کلاں کوٹ مکلی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ مکلی قبرستان سے جنوب میں دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی طرف ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک جاتی ہے جہاں سے اٹھنے والی مٹی آپ کی گاڑی کو دھول سے ڈھک دیتی ہے۔ 
ہم مختصر سے سفر کے بعد کلاں کوٹ پہنچ گئے۔ 
کئی تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ قلعہ رائے گھرانے کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ رائے گھرانہ سندھ کا ایک مشہور حکمران گھرانہ رہا ہے جو بدھ مت کا پیروکار تھا۔ 


آج تک یہ ایک راز ہی ہے کہ آخر اس شہر کو تعمیر کس نے کیا تھا۔

رائے سہاسی اسی گھرانے کا آخری حکمران تھا۔ 450 سے 632 تک رائے گھرانہ سندھ کا حکمران رہا جس کے تخت و تاج 632 میں چھن گئے۔ 
کلاں کوٹ پہنچتے وقت میں نے وہاں اپنے ہی وزن سے چور چور عمارات دیکھیں جن کی دیواریں اب ایک دم خستہ حال ہو چکی ہیں۔ پہلی ہی نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مقام صدیوں سے غیر آباد ہے۔ 
اس شہر کو دیکھتے ہوئے پروفیسر محمد علی مانجھی نے ایک دیومالائی قصہ بھی سنایا جو اسی شہر سے منسوب ہے۔  
اس لوک داستان کے مطابق شہر میں ایک اژدھا رہا کرتا تھا جس کا منہ کلاں کوٹ کی جانب تھا لیکن جب اس نے اپنا منہ دہلی کی جانب کیا تو دہلی کا شہر آباد ہوا اور یہ ایک بہت بڑی آبادی والا شہر بن گیا لہذا کلاں کوٹ اپنا وجود کھو بیٹھا۔ 
اس شہر پر کئی حکمرانوں اور حملہ آوروں نے حکمرانی کی ہے۔ قلعے کے جغرافیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔


یہاں کئی خستہ حال مندر بھی ہیں۔

مگر آج تک یہ ایک راز ہی ہے کہ آخر اس شہر کو تعمیر کس نے کیا تھا۔
ایک اندازے مطابق یہ 14ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ علی شیر قانع اپنی کتاب مکلی نامہ میں لکھتے ہیں ’اس شہر کے ستون دور سے دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ اس کی دیواروں سے موہ لینے والے مناظر، ہرے کھیت اور باغ نظر آتے تھے جو جنت کا نظارہ لگتا تھا۔‘
اس حوالے سے وہ مزید لکھتے ہیں ’دہلی کے فیروز بادشاہ نے سندھ پر حملہ کیا اور انہوں کلاں کوٹ دیکھنا چاہا۔ وہ اسے فتح کرنا چاہتا تھا مگر اسے فتح کیے بنا ہی چلا گیا کیوںکہ اسے فتح کرنا بہت مشکل تھا۔
اس زمانے میں فیروز بادشاہ کے ہاں 90 ہزار گھڑ سوار 480 ہاتھی اور500 جنگی سمندری جہاز تھے اور ہزاروں سپاہی بھی تھے۔ 


ڈاکٹر مانجھی کا کہنا ہے کہ مغلوں نے اس قلعے کو بارود خانے کے طور بھی استعمال کیا تھا۔

شمال کی طرف اسے مزید محفوظ بنانے کے لیے ستون اور دفاعی دیواریں تعمیر کیں جبکہ دوسری جانب جھیل تھی اس کے علاوہ قلعے کے تحفظ کے لیے خندقیں کھودی گئیں۔ 
دو مرتبہ تباہ ہونے کے باوجود اسے پھر سے تعمیر کیا گیا۔ دیبل کی تباہی کے بعد ٹھٹہ سندھ کا درالحکومت بن گیا۔
کلہوڑہ دور تک ٹھٹہ ہی سندھ کا دارالحکومت رہا جبکہ سندھ کے ہر حکمران نے اس میں پناہ لی۔
تغلق کے زمانے میں یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی۔ جہان پانی کے دو بڑے تالاب تھے۔ یہ تالاب اس وقت کے حکمرانوں نے بنوائے تھے۔ ان تالابوں میں سے ایک آج بھی موجود ہے جبکہ چار تالاب قلعے کے اندر تھے۔ 


اس قلعے نے اپنے زمانے میں نشیب و فراز دیکھے مگر آج بھی یہ خاموشی سے ہمیں تاریخی حقائق کے بارے میں بتا رہا ہے۔

ڈاکٹر مانجھی کا کہنا ہے کہ مغلوں نے اس قلعے کو بارود خانے کے طور بھی استعمال کیا تھا۔ آج کافی ہندو یہاں تباہ حال مندر دیکھنے بھی آتے ہیں۔ کسی زمانے میں لوگ یہاں اپنے دیوتاؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قربانیاں بھی کیا کرتے تھے۔
موجودہ دنوں میں بھی لوگ پوجا  کرنے آتے ہیں اور پتھر کی دیواروں پر رنگ کرتے ہیں۔ جب دارہ شکوہ نے ٹھٹہ کو جلا دیا تو شہر کے باسیوں نے کلاں کوٹ کے قلعے میں پناہ لی مگر قلعے کی بنیاد کس نے ڈالی ہم آج بھی اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہیں۔
اس قلعے نے کلاں کوٹ سے تغزل آباد کا سفر طے کیا۔ اپنے زمانے میں تماتر نشیب و فراز دیکھے مگر آج بھی یہ خاموشی سے ہمیں تاریخی حقائق کے بارے میں بتا رہا ہے۔ اس قلعے کی خاموشی نے مجھے مزید اس پر تحقیق کرنے پہ مجبور کر دیا جوکہ آج بھی پراسرار لگتا ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں