Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کا خطے پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے خلیج عرب ممالک پر مزید حملے

ایران نے منگل کو خلیجی ممالک پر مزید تازہ حملے کیے ہیں تاکہ وہ خطے پر اپنا دباؤ برقرار رکھ سکے تاہم دوسری طرف عراق میں ایک فضائی حملے سے ایران کے پانچ حامی جنگجو مارے گئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صبح کے وقت دبئی اور بحرین میں ایسے سائرن سنے گئے جو میزائلز کے خطرے کے وقت چلائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے تیل کے وسیع ذخائر رکھنے والے مشرقی علاقے میں دو ڈرون مار گرائے ہیں جبکہ کویت کے نیشنل گارڈز کا کہنا ہے کہ چھ ڈرون گرا دیے گئے ہیں۔
ایران اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز سے حملوں کے علاوہ خطے میں امریکی اڈوں اور توانائی کے ذرائع کے انفراسٹرکچرکو بھی نشانہ بنا رہا ہے جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے۔
پیر کے روز عالمی معیار کے برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 120 ڈالر تک پہنچی، جس کے بعد اس میں کمی آئی اور اب بھی اس کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک ہے۔
یہ قیمت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے قبل کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ جنگ ایک مہینے یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے، نے منگل کو ایک تازہ بیان میں ممکنہ اندیشوں کو کم کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کی طوالت ایرانی حملوں پر منحصر ہے تاہم ساتھ ہی پیش گوئی بھی کہ ’یہ جلد ہی ختم بھی ہو سکتی ہے۔‘
لڑائی کی وجہ سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی سپلائی رک گئی ہے اور ایندھن کے ذرائع کی قیمتوں میں بڑا اضافہ سامنے آ رہا ہے جس کے باعث غیرملکی سرمایہ کار ان مقامات سے اپنا سرمایہ بھی منتقل کر رہے ہیں۔
ایران نے ٹینکروں کو موثر طور پر آبنائے ہرمز کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے جو کہ خلیج عرب اور خلیج عمان کے درمیان شپنگ کا روٹ اور بحر ہند کا گیٹ وے ہے اور انہی روٹس کے ذریعے دنیا کی تجارت کا 20 فیصد گزرتا ہے۔
انٹرنینشل میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں سے کم از کم سات ملاح ہلاک ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ منگل کو سوشل میڈیا ایک پوسٹ میں اس صورت حال کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نظر آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی تیل کی تجارت کو روکنے کی کوشش کی تو اسے پہلے کی نسبت 20 گنا زیادہ سخت نشانہ بنایا جائے گا۔‘
اس کے جواب میں ایران کے میڈیا پر پاسداران انقلاب کا ردعمل سامنے آیا ہے جس میں ترجمان علی محمد نینی نے کہا کہ ’اس بات کا فیصلہ ایران کرے گا کہ جنگ کو کب ختم کرنا ہے۔‘

شیئر: