قتل کے تین برس بعد بھی قندیل بلوچ انصاف کی منتظر

قندیل بلوچ کے قتل کو تین سال ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک مقدمے کی شہادتیں بھی مکمل نہیں ہو سکیں۔ فوٹو: ٹوئٹر
سوشل میڈیا کے ذریعے معروف ہونے والی ماڈل قندیل بلوچ جن کو ان کے  بھائی محمد وسیم نے 15 جولائی 2016 کی رات کو ملتان کے علاقے مظفرگڑھ میں ان کے گھرمیں قتل کردیا تھا، اپنی موت کے تین سال بعد بھی انصاف کی منتظر ہیں۔  
قندیل بلوچ کے والد محمدعظیم بلوچ نے اس وقت قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ اپنے بیٹے محمد وسیم اوراس کے ساتھیوں حق نواز، محمد ظفراور ان کے ڈرائیورعبدالباسط کے خلاف درج کروایا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے قندیل بلوچ کے دواور بھائیوں اسلم شاہین، محمد عارف اور ملتان کی ایک مذہبی شخصیت  مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرلیا۔
وسیم نے گرفتاری کے بعد پولیس اور میڈیا کے سامنے اعتراف جرم کیا کہ انہوں نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کیا کیونکہ سوشل میڈیا پران کی بے باک ویڈیوزکی وجہ سے وسیم اور ان کے خاندان کی بدنامی ہو رہی تھی۔

قندیل بلوچ کے والدین نے اپنے بیٹے محمد وسیم کو بہن کے قتل میں نامزد کیا تھا لیکن اب وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے متلاشی ہیں۔ فوٹو: فیس بک

اس اعتراف اور قندیل کے والد کی جانب سے وسیم کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کے بعد یہ مقدمہ بظاہرانتہائی سادہ اور آسان نظر آرہا تھا اور اس کے جلد خاتمے اور ملزم کو سزا ملنے کے واضح امکانات تھے۔
لیکن اس میں جلد ہی ٹوئسٹ اس وقت آیا جب قندیل بلوچ کی موت سے کچھ ہی عرصہ قبل ان سے ملاقات کرنے والے مفتی عبدالقوی کو ایف آئی آر میں باقاعدہ نامزد کرکے جیل بھیج دیا گیا۔
کچھ دنوں بعد اس مقدمے میں نئے موڑ آنا شروع ہو گئے اور نہ صرف یہ کہ مفتی عبدالقوی،  قندیل بلوچ کا بھائی محمد اسلم، حق نواز، عبدالباسط اور محمد ظفر ضمانت پر رہا ہوگئے، بلکہ قندیل کے والد عظیم بلوچ نے اپنے بیٹے کو معاف کرنے کا حلف نامہ عدالت میں جمع کروا دیا۔
حکومتی اورعوامی سطح پر شدید دباؤ کے بعد پولیس اس مقدمے میں مدعی بن گئی، جس کی وجہ سے عظیم بلوچ کی معافی کے باوجود یہ مقدمہ چلتا رہا۔ لیکن بوجوہ اس کی رفتار سست ہے اور ابھی اس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا۔
کسی پیشی پر پراسیکیوٹرنہیں آتے تو کبھی گواہان موجود نہیں ہوتے، ابھی تک مقدمے کی شہادتیں بھی مکمل نہیں ہو سکیں۔

قندیل بلوچ کے قتل کے خلاف سول سوسائٹی نے احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ فوٹو: ٹوئٹر

تاحال واردات میں استعمال ہونے والے موبائل کے فرانزک آڈٹ کی ٹیم کی شہادتیں بھی نہیں ہوسکیں۔
حتٰی کہ مقدمے کا تفتیشی افسر بھی ایک طویل عرصے سے عدالت کے روبرو نہیں آیا اور گذشتہ سماعت پر عدالت نے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے  بدھ کے روز ہونے والی سماعت پر اس کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
مقدمے میں تاخیرکے حوالے سے جب ’اردو نیوز‘ نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ خٹک سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات اب عدالت کے پاس ہیں اور وہی اس کیس کی وضاحت کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ملزم کو جب ہم نے پیش کیا تھا تو اس وقت اس نے اعتراف جرم کیا (ہوا) تھا۔ اب یہ کورٹ کا مسئلہ ہے۔ عدالت میں کیس چل رہا ہے فیصلہ (بھی) عدالت (ہی) کرے گی۔‘

سماجی کارکنان کے خیال میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے ایسے زیادہ تر مقدمات میں صلح ہو جاتی ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر

ادھر قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم بلوچ کا کہنا ہے کہ عدالت کے چکر لگا لگا کران کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اب وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے بھی متلاشی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے بیٹے کو باہر نکالا جائے۔ ملزم حق نوازاور ظفر ہیں، میرے بیٹے کی ضمانت منظور کی جائے۔  ہم تھک گئے ہیں کچہری کے چکر لگا لگا کر۔ ہم غریب لوگ ہیں، ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے پہلے اپنے بیٹے محمد وسیم کو ملزم کیوں نامزد کیا تھا تو ان کا کہنا تھا: ’پہلے ہمیں اس پر شک تھا، لیکن بعد میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ وسیم نے اپنی بہن کو قتل نہیں کیا۔‘  
ملزم وسیم کے وکیل افضل شاہد کہتے ہیں کہ ابھی کم ازکم دس گواہوں کی شہادت باقی ہے جس کی وجہ سے مقدمے میں مزید تاخیرہورہی ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ ’پولی گراف، نقشہ نویس سمیت 18 گواہ مکمل ہوچکے ہیں۔ تقریباً دس گواہ مزید ہوں گے جو اہم ہیں۔ ان میں والد اور والدہ، ڈاکٹر، پوسٹ مارٹم کرنے والا، دودھ والا اور دو ہمسائے شامل ہیں۔‘
مقامی سماجی کارکن زبیدہ راو، جو خواتین اور انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، اس مقدمے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے ایسے زیادہ تر مقدمات میں صلح ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’قندیل بلوچ کا مقدمہ بھی ایک ایسا ہی مقدمہ ہے۔ ان کے قتل میں ملوث ملزم کو سزا ملنی چاہیے اور قندیل بلوچ کو انصاف ملنا چاہیے۔‘

شیئر: