گل پلازہ آتشزدگی میں ہلاکتوں کی تعداد 67 ہو گئی، ڈی این اے سے آٹھ افراد کی شناخت
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں واقع شاپنگ مال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 67 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔
خیال رہے اب تک کئی افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے زندہ بچنے کے چانسز نہ ہونے کے براہر ہیں۔
17 جنوری کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع تین منزلہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو چھ دن گزر جانے کے باوجود تاحال اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، جب کہ عمارت مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔
ترجمان کے مطابق 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی این اے تجزیے کا عمل ابھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اب تک آٹھ افراد کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے۔‘
متاثرہ خاندانوں نے ریسکیو اور لاشوں کی بازیابی کے عمل میں سست روی پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد اپنے لاپتا رشتہ داروں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے فراہم کر چکے ہیں۔
صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مرنے والے ہر فرد کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے، جبکہ پلازہ کے تمام 1,200 دکانداروں کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
کراچی کی مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں ناقص انفراسٹرکچر کے باعث آگ لگنے کے واقعات عام ہیں، تاہم اس پیمانے کی آگ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں فائر سیفٹی کے ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
