Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: شدید برف باری اور سردی سے معمولاتِ زندگی متاثر، 2 افراد ہلاک

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقوں میں شدید بارش، برف باری اور جھکڑ کے باعث معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ 
بدھ کی رات شروع ہونے والا یہ سلسلہ جمعرات کی شام تک وقفے وقفے سے جاری رہا۔ بعض علاقوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے۔
سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافے اور تیز ہواؤں نے شاہراہوں پر آمدورفت بحال رکھنے کی کوششوں کو شدید متاثر کیا۔
برف اور سڑکوں پر پھسلن کے باعث مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات پیش آئے۔ چمن میں ژڑہ بند کے مقام پر گاڑی اور وین میں تصادم کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک مرد ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔ 
قلعہ سیف اللہ اور پشین میں بھی قومی شاہراہ پر پھسلن کے باعث کئی حادثات پیش آئے تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مستونگ کے نواحی دیہی علاقے کنڈ میسوری میں نوشکی جانے والی تین مسافر گاڑیاں شدید برف باری کے باعث راستے میں پھنس گئیں۔ 
ان گاڑیوں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت قریباً 40 افراد کئی گھنٹوں تک شدید سردی میں محصور رہے۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں جنہوں نے تمام مسافروں کو بحفاظت نکال کر گاڑیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے زیرِاثر بلوچستان میں بدھ کی شب بارش ہوئی جس نے قریباً پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صوبے کے  بالائی اور شمالی علاقوں میں شدید برف باری بھی ہوئی۔  
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ برف باری قلعہ سیف اللہ کے علاقوں مسلم باغ اور کان مہترزئی میں ریکارڈ کی گئی جہاں قریباً ایک فٹ تک برف پڑی۔ 
چمن میں 10 انچ، زیارت میں 9 انچ، پشین میں 6 انچ اور قلعہ عبداللہ میں 4 انچ برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ کوئٹہ شہر میں دو انچ اور بروری کے علاقے میں ایک انچ برف پڑی۔ مستونگ اور قلات میں بھی دو دو انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔

سب سے زیادہ برف باری مسلم باغ اور کان مہترزئی میں ریکارڈ کی گئی جہاں قریباً ایک فٹ تک برف پڑی (فوٹو: این ایچ اے)

برف باری کے ساتھ ساتھ صوبے کے مختلف علاقوں میں اچھی بارش بھی ہوئی۔ خضدار میں 12 ملی میٹر، کوئٹہ میں 10 ملی میٹر، پشین میں 7 ملی میٹر، نوشکی میں 5 ملی میٹر، لورالائی اور پسنی میں 4 ملی میٹر، جیونی میں 3، سبی میں 2 جبکہ دالبندین، لسبیلہ اور تُربت میں ایک ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید برف باری کے ساتھ تیز ہواؤں نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں جبکہ دیگر علاقوں میں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھکڑ ریکارڈ کیے گئے۔سخت سردی کی وجہ سے شہری گھروں تک محصور نظر آئے۔  
محکمہ موسمیات کے مطابق قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ قلات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی منفی میں چلا گیا، جبکہ کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی ایک ڈگری تک گر گیا۔ 
ژوب میں کم سے کم درجہ حرارت دو، دالبندین میں پانچ، پنجگور میں پانچ، نوکنڈی میں چھ اور خضدار میں پانچ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ساحلی علاقوں گوادر، پسنی اور جیوانی میں موسم نسبتاً معتدل رہا۔

شدید برف باری کے دوران گاڑیوں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت قریباً 40 افراد کو ریسکیو کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

قومی شاہراہوں کی صورت حال
شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث کوئٹہ کو پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی اور زیادہ تر مقامات پر گاڑیاں انتہائی سست رفتاری سے چلتی رہیں۔ 
حکام کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے پیشگی انتظامات اور مسلسل کوششوں سے شاہراہوں کو بند ہونے سے بچایا گیا۔
تاہم قلعہ سیف اللہ، پشین اور چمن میں رات کے وقت تیز اور سرد ہواؤں کے باعث دن میں پگھلی ہوئی برف دوبارہ جم گئی جس سے آئسنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ 
اس کے نتیجے میں کوئٹہ سے ژوب جانے والی قومی شاہراہ این 50 پر مسلم باغ، کان مہترزئی، خانوزئی اور بوستان کے مقامات پر شدید پِھسلن کی شکایات کے بعد بھاری اور غیرضروری ٹریفک عارضی طور پر روک دی گئی۔
اسسٹنٹ کمشنر خانوزئی امیر حمزہ کے مطابق بوستان اور مسلم باغ میں ناکے لگا کر ٹریفک کی نگرانی کی جا رہی ہے اور صرف ضروری سفر کرنے والوں کو آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مستونگ، قلات اور سوراب کے علاقوں میں مشینری سے برف ہٹانے اور نمک پاشی کا عمل جاری رہا (فوٹو: این ایچ اے)

کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ این 25 پر لکپاس، مستونگ، قلات اور سوراب کے علاقوں میں بھی ٹریفک کی روانی سست رہی جہاں مشینری کے ذریعے برف ہٹانے اور نمک پاشی کا عمل جاری رہا۔ 
نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام بڑی شاہراہیں کُھلی ہیں، تاہم ڈرائیوروں کو آہستہ سفر کرنے اور غیرضروری آمدورفت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بھی شہریوں اور سیاحوں کو گرم کپڑوں کے استعمال، غیرضروری سفر سے گریز، گرم کپڑوں کے استعمال  اور محتاط ڈرائیونگ کی ہدایت جاری کی ہے۔
مزید سردی کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افضل نے اردو نیوز کو بتایا کہ آئندہ دو روز کے دوران کوئٹہ، قلات، مستونگ، زیارت، چمن، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ اور کان مہترزئی سمیت بالائی علاقوں میں درجہ حرارت 8 آٹھ سے منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔

برف باری کے بعد تفریحی مقامات پر مناظر دلکش ہو گئے اور سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا ہے کہ تیز جھکڑ سردی کے احساس کو مزید بڑھا دیں گے جس کے باعث آئسنگ اور حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور گرم لباس کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق 25 جنوری کو مغربی ہواؤں کا ایک اور نظام بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے جس سے دوبارہ بارش اور برف باری ہو سکتی ہے۔
سیاحوں کی آمد میں اضافہ
برف باری کے بعد کوئٹہ کے اطراف کے پہاڑ برف سے ڈھک گئے ہیں اور ہنہ جھیل اور ہنہ اوڑک جیسے تفریحی مقامات پر مناظر دلکش ہو گئے ہیں جس کے باعث سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 
کراچی اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی سیاح خواتین اور بچوں کے ہمراہ برف باری سے لُطف اندوز ہونے کے لیے کوئٹہ پہنچے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے علاوہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں بھی بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ 
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں سب سے زیادہ بارش پاراچنار میں ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں کے بالائی حصوں میں سڑکوں کی بندش، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 

شیئر: