بلوچستان کان حادثہ: نو ہلاک، زندہ بچ جانے والے مزدور کی حالت تشویشناک

پاکستان کے شہر کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان میں حادثے کے نتیجے میں نو کان کن ہلاک ہوگئے۔ جبکہ ایک کان کن کو دو دن بعد زندہ نکال لیا گیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بچ جانے والے کان کن کی حالت تشویشناک ہے۔
بلوچستان میں اس سال کوئلہ کان کے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 48 تک پہنچ گئی ہے۔
ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی کے مطابق اتوار کی دوپہر کو پیش آنے والے حادثے کے بعد شروع کی گئیں امدادی سرگرمیاں تقریباً52 گھنٹے بعد منگل کی دوپہر کو مکمل کرلی گئیں جس میں مقامی کوئلہ کان کنوں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ معدنیات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیموں نے حصہ لیا۔ 
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ کان میں مجموعی طور پر 10 کان کن گزشتہ دو دنوں سے پھنسے ہوئے تھے جن میں سے چھ کی لاشیں نکال لی گئیں۔ باقی چار میں سے ایک کان کن کو منگل کی صبح اور تین کو منگل کی دوپہر کو تقریباً 3500 فٹ کی گہرائی سے زندہ نکالا گیا۔ ترجمان کے مطابق زندہ نکالے گئے کان کنوں میں سے دو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ باقی دو کو کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ منتقل کردیا گیا۔ 
سول ہسپتال حکام کے مطابق ہسپتال لایا گیا 25 سالہ زیارت گل وردگ بھی کئی گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جسم میں آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہوگیا۔ ڈاکٹر کے مطابق ہسپتال میں زیر علاج 23 سالہ حضرت اللہ وردگ کی حالت بھی تشویشناک ہے ۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے تمام کان کنوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

2019 کے چھ ماہ میں 39 مزدور مختلف کانوں کے حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں، فائل فوٹو اے ایف پی

خیال رہے کہ یہ حادثہ کوئٹہ سے قریباً 40 کلومیٹر دور ڈیگاری کی ایک کوئلے کی کان میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا تھا جس کے بعد کان میں آگ لگ گئی تھی۔ کان کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی اور کان میں موجود کوئلے نے بھی آگ پکڑ لی۔ بلوچستان مائنز کے چیف انسپکٹر شفقت فیاض کے مطابق حادثے کے بعد 12 کان کن متاثرہ کان میں کام کر رہے تھے جن میں سے دو اوپر کے حصے میں تھے جو باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے باقی 10 کان کن 3500 سے 4000 فٹ گہرائی میں پھنس گئے۔ 
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ساتھی کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں تاہم کان کے نچلے حصے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات کی ٹیموں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تاہم کان کنوں نے امدادی سرگرمیوں میں تاخیر پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک مقامی کان کن نے بتایا کہ مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے لیے کان میں اترنے والے آٹھ کان کن بھی گیس کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے جنہیں بڑی مشکل سے باقی ساتھیوں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں لے بعد بچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت امدادی سرگرمیاں شروع کی جاتیں تو ان کے ساتھیوں کی جانیں بچ سکتی تھیں۔
محکمہ معدنیات کی ٹیم نے امدادی سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد متاثرہ کان کو سیل کرکے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ 
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کوئٹہ، بولان، ہرنائی، لورالائی اور دکی سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع میں کوئلے کے 25.6 کروڑ ٹن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری لالہ سلطان خان کے مطابق کوئلہ کی کان کنی کے شعبے سے بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور وابستہ ہیں تاہم مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں کان کن مختلف حادثات میں زندگی کھو دیتے ہیں۔
محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ نو برسوں کے دوران 530 سے زائد کان کن کوئلے کی کانوں میں حادثات کا شکارہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف اس سال کے ابتدائی چھ ماہ میں حالیہ حادثے کے علاوہ 39 مزدوروں کی موت ہوئی ہے۔ تاہم مزدور یونین کا اصرار ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں۔
لالہ سلطان خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں اب تک 82 مزدور کوئلے کی کانوں میں گیس بھرنے سے دم گھٹنے، ملبے تلے دبنے اور ٹرالی لگنے جیسے مختلف حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔‘
لالہ سلطان کے مطابق کوئلہ کان مالکان، ٹھیکیدار اور سرکاری محکمے مزدوروں کی اموات کو چھپاتے ہیں۔ ’وہ مرنے والے مزدوروں کے لواحقین کی مالی امداد سمیت دیگر قانونی ضابطوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں اس لئے وہ حادثات کو سامنے لانے نہیں دیتے۔‘ انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات کی بڑی وجہ صحت و سلامتی کے قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

مزدور یونین کے مطابق کان مالکان، ٹھیکیدار اور سرکاری محکمے مزدوروں کی اموات کو چھپاتے ہیں، فائل فوٹو: اے ایف پی

اس قانون کے تحت کوئلہ کانوں میں حادثات سے بچنے کیلئے مناسب انتظامات کرنا ہوتے ہیں جن میں تازہ ہوا کے اندر آنے، گیس کے اخراج ، آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی صورت حال میں نکلنے کے لیے متبادل راستے کا بندوبست کرنا، کان کو منہدم ہونے سے بچانے کیلئے مضبوط لکڑی کا استعمال کرنا، کان کی لمبائی اور چوڑائی کو چھ سے سات فٹ سے زائد رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس قانون پر کوئلہ کان کے مالکان، ٹھیکیدار عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی محکمہ معدنیات قانون کے نفاذ کیلئے کوئی موثر کام کر رہا ہے۔ محکمہ معدنیات کے حکام بیس بیس گز کے فاصلے پر کوئلے کی کان کی الاٹمنٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے کانوں کے درمیان متبادل راستے بنانے کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ کوئلے کی کانوں کی الاٹمنٹ کم از کم 250 گز کے فاصلے پر ہونی چاہیے۔
لالہ سلطان خان کے مطابق چیف انسپکٹرآف مائنز کا کام ریسکیو کرنا ہوتا ہے مگر انہوں نے آج تک کسی زخمی کو ریسکیو کیا اور نہ کسی مردہ کان کن کی لاش نکالی۔ سرکاری ٹیمیں صرف کوئلہ کان سے نکلنے والی لاشوں کی گنتی کر کے واپس چلی جاتی ہیں۔ سب امدادی کام کان کن اپنی مدد آپ کرتے ہیں، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ کان کنوں کو ہی ریسکیو ٹیموں میں بھرتی کیا جائے مگر چیف انسپکٹر مائنز اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کان کنی سے متعلق قانون 1923 کا ہے۔ ایک صدی پرانا یہ قانون آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس قانون کے تحت ایک حادثے میں اگر کوئی قصور وار ثابت ہوتا ہے تو 1923 میں بھی 200 روپے جرمانہ کیا جاتا تھا اور اب تک جرمانے کی رقم یہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرنے کی صورت میں کان کن کے ورثا کو ورکرز ویلفیئر فنڈز سے صرف دو لاکھ روپے مدد ملتی ہے جو بہت کم ہے۔ یہ رقم سندھ کے برابر یعنی پانچ لاکھ روپے کی جانی چاہیے۔ 
 

بلوچستان میں کان کنی سے متعلق 1923 کا قانون رائج ہے جو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، فائل فوٹو: اے ایف پی

کوئلے کی کانیں اب تک کتنے مزدور نگل چکی ہیں؟

مزدور تنظیموں کے مطابق صوبہ بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد کوئلے کی کان کنی کا کام کرتے ہیں مگر مناسب حفاظتی انتظامات اور سہولیات نہ ہونے کے سبب یہی کانیں مزدوروں کے لیے موت کے کنویں بن گئی ہیں جہاں ہر سال اوسطاً 100 سے زائد کان کن مختلف حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق صحت و سلامتی کے معیار اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق 2010 سے 2018 تک 318 کان کن مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کان کنوں کی حالت زار کو تشویشناک اور حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت کی خاطر کیے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ 
علاوہ ازیں مئی اور اگست 2018 میں بلوچستان کے علاقے ماراوڑ اور سورینج میں صرف دو حادثات میں 23 مزدوروں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں وہ مزدور بھی شامل تھے جو حادثے کے بعد پھنسے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے کان میں اترے تھے۔
انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے رہنماء حبیب طاہر ایڈووکیٹ کے مطابق ان حادثات کے بعد بھی حکومت کی جانب سے کان کنوں کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

شیئر: