Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زیارت حملہ: 30 پولیس اہلکاروں کی شدت پسندوں کے حملے میں ہلاکت کی عدالتی تحقیقات شروع

بلوچستان کے ضلع زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی عدالتی تحقیقات  شروع کردی گئی ہے۔
عدالتی انکوائری کمیشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے واقعے سے متعلق معلومات یا شواہد رکھنے والے تمام افراد کو 28 اگست تک معلومات اور شواہد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ اقدام 6 جولائی کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد مقتول اہلکاروں کے لواحقین کے طویل احتجاج اور مطالبے پر اٹھایا گیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل یک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔
پیر کو کمیشن کے رجسٹرار ملک شعیب سلطان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کمیشن کے ٹی او آرز (اغراض و مقاصد) بتائے گئے ہیں ۔ اعلامیہ کے مطابق کمیشن پہلے سے درج ایف آئی آر اور جاری فوجداری تفتیش سے ہٹ کر ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور جامع عدالتی تحقیقات کرے گا  تاکہ حملے سے پہلے اور بعد میں پیش آنے والے واقعات کی ترتیب اور اسباب کا تعین کیا جا سکے۔
ٹی  او آرز کے مطابق  کمیشن  کسی بھی انتظامی، آپریشنل، نظامی یا سکیورٹی نوعیت کی خامیوں کا تعین کرے گا جو اس حملے کے رونما ہونے سبب بنیں یا جنہوں نے اس میں کسی بھی طور پر کردار ادا کیا ہو۔
اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا کسی بھی متعلقہ اتھارٹی، افسر یا ادارے کی جانب سے فرائض کی انجام دہی میں ناکامی، غفلت، لاپرواہی سرزد ہوئی اور یہ کہ اس وقت نافذ سکیورٹی انتظامات کس حد تک مناسب اور مؤثر تھے؟
کمیشن اس امر کی بھی تحقیقات کرے گا کہ آیا مانگی ڈیم پمپنگ سٹیشن پر تعینات اہلکاروں کو خاطرہ خواہ اسلحہ، گولہ بارود اور انسانی کمک اور نفری فراہم کی گئی تھی یا نہیں  اور اگر اس میں کوئی کوتاہی یا تاخیر پائی گئی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
کمیشن یہ جانچ کرے گا کہ آیا لیویز سے پولیس میں ضم ہونے والے اہلکار محدود صلاحیت  کے حامل ہتھیاروں کے استعمال، شورش اور دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے مناسب طور پر تربیت رکھتے تھےیا نہیں؟ اور انہیں ایسے حساس اور پرخطر مقام پر محدود اسلحے کے ساتھ کیوں تعینات کیا گیا؟
اس بات کی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا مانگی ڈیم پمپنگ سٹیشن پر تعینات اہلکاروں کو خاطر خواہ مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور انسانی کمک (رينفورسمنٹ) فراہم کی گئی تھی یا نہیں؟ تاخیر یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
کمیشن واقعے سے قبل موجود حفاظتی منصوبے اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لے گا اوریہ بھی معلوم کرے گا کہ کیا واقعے کے وقت قریب ہی موجود دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نوٹس میں ہونے کے باوجود اہلکاروں کو بروقت حفاظتی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہے؟

کمیشن کے اختیارات

بلوچستان ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے تحت کمیشن کو ضابطہ فوجداری سمیت تمام تر تحقیقاتی اختیارات حاصل ہوں گے۔ کارروائی  کمیشن کی صوابدید کے مطابق ہوگی۔ کمیشن چشم دید گواہوں کے بیانات، جائے وقوعہ کے معائنے، جیو فینسنگ، اور کال ڈیٹیل ریکارڈز (CDRs) حاصل کرسکے گا۔
اس کے علاوہ فارنزک لیبارٹریز کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں گی تاکہ حملہ آوروں کے سائبر و ڈیجیٹل رابطوں، مالی وسائل، لاجسٹک نظام اور محفوظ پناہ گاہوں کی جانچ کی جا سکے۔
پولیس، ضلعی انتظامیہ اور تمام سکیورٹی ادارے کمیشن کی نگرانی میں کام کرنے اور تمام مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
کمیشن غفلت کے مرتکب تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرے گا جن پر عمل درآمد کی حکومت پابند ہوگی۔ اسی طرح  ضرورت پڑنے پر کمیشن مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ، حساس تنصیبات کے تحفظ، ہنگامی ردِ عمل کے طریقہ کار اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق سفارشات بھی مرتب کرے گا۔
اعلامیہ کے مطابق مقتول اہلکاروں کے خاندانوں کو اپنا موقف بیان کرنے اور گواہی دینے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔

عوام اور گواہوں کے لیے ہدایات

اعلامیے کے مطابق واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات، ثبوت یا مواد رکھنے والے تمام متعلقہ افراد، مقتول اہلکاروں کے ورثاء اور عام شہری 28 اگست 2026 تک اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی اور مکمل کوائف کے ساتھ رجسٹرار کمیشن ملک شعیب سلطان (ایڈیشنل رجسٹرار) کے دفتر واقع ہائی کورٹ بلڈنگ حالی روڈ کوئٹہ میں رجوع کر سکتے ہیں۔ کمیشن کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ اور وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

واقعہ کیا تھا؟

واضح رہے کہ رواں سال 6 جولائی کی رات ضلع زیارت میں مانگی ڈیم کے فیز تھری پروجیکٹ کے پمپنگ سٹیشن پر درجنوں مسلح شدت پسندوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے دوران دو ایس ایچ اوز سمیت 9 پولیس اہلکار موقع پر  ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 21 اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا تھا جنہیں بعد میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
اس سانحے کے بعد مقتول اہلکاروں کے لواحقین نے میتوں کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک ہفتے سے زائد عرصے تک دھرنا دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ پولیس میں نئے ضم ہونے والے لیویز اہلکاروں کو بغیر مناسب تربیت اور ناکافی اسلحے کے ایسے پرخطر علاقے میں تعینات کیا گیا جہاں حملے کے خدشات پہلے سے موجود تھے اور حملے کے وقت بروقت کمک نہ پہنچنے کی وجہ سے اہلکاروں کا اسلحہ ختم ہوا اور وہ یرغمال بنےاور مارے گئے۔
لاشوں کے ہمراہ طویل احتجاج کے بعد حکومتِ بلوچستان اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں سانحے کی شفاف عدالتی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے پر اتفاق سمیت دیگر مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کیا گیا۔
 

شیئر: